سیلاب سے تباہ کاریاں پیشگی اقدامات کی ضرورت

پاکستانی عوام کی بدنصیبی ہی رہی ہے کہ انھیں وہ روشن دماغ اور پیش بین حکمراں نصیب نہیں ہوسکے


Editorial July 23, 2015
پاکستانی عوام کی بدنصیبی ہی رہی ہے کہ انھیں وہ روشن دماغ اور پیش بین حکمراں نصیب نہیں ہوسکے ۔ فوٹو: فائل

KARACHI: ہر سال بارشوں اور سیلاب سے تباہی کے مناظر ملک میں اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ قدرتی اور ناگہانی آفات پر بے شک انسان کا اختیار نہیں لیکن وہ تباہی جو حضرت انسان کی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کے باعث عمل میں آئے اس پر قدرت کو دوش دے کر اپنے جرم پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔ پاکستانی عوام کی بدنصیبی ہی رہی ہے کہ انھیں وہ روشن دماغ اور پیش بین حکمراں نصیب نہیں ہوسکے جو دیرپا اور موثر پالیسی کا انعقاد اور ممکنہ حادثات سے بچاؤ کے لیے پیشگی اقدامات کرسکیں۔

حالیہ دنوں ملک بھر میں ہونے والی بارشوں اور سیلاب سے تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے، تازہ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی میں پیر کی رات گئے شروع ہونے والی بارش منگل کی صبح تک وقفے وقفے سے جاری رہی جس سے نالہ لئی کی سطح گوالمنڈی کے مقام پر 10 اور کٹاریاں کے مقام پر 11 فٹ تک بلند ہوگئی، دیگر چھوٹے بڑے نالے بھی ابل پڑے۔ اسلام آباد میں بھی وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی۔ راول ڈیم میں پانی کی سطح 1749.50 فٹ تک بلند ہوگئی۔

دریائے سندھ میں طغیانی سے جنوبی پنجاب میں تباہی کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا۔ سیلابی ریلے کے باعث سیکڑوں دیہات زیرآب آگئے، ہزاروں افراد نقل مکانی کرگئے۔ لیہ میں دریائے سندھ میں درمیانے درجے کے سیلاب سے 9 یونین کونسلوں کی 103 سے زائد بستیاں زیر آب آگئیں۔ محکمہ انہار نے تونسہ بیراج سے نکلنے والی مرکزی نہریں عارضی طور پر بند کردیں۔ آزاد کشمیر میں شدید بارش سے 7 اضلاع کی رابطہ سڑکیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گئیں۔

گلگت بلتستان کے ندی نالوں اور دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ کمشنر مالاکنڈ نے چترال کے 26 دیہات میں سیلاب کے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ محکمہ داخلہ کو بھیج دی ہے۔ اخباری خبروں کے مطابق آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ پاک فوج کے انجینئرز چترال میں بھاری مشینری کے استعمال سے تباہ شدہ پلوں کو ٹھیک کرنے اور راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ انجینئروں کی ایک خصوصی ٹیم سازوسامان کے ساتھ بدھ کو چترال پہنچ چکی ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف بدھ کو چترال پہنچے جہاں انھوں نے متاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ کیا ۔

انھوں نے سیلاب متاثرین کی بروقت مدد کرنے پر فوج کے کردار کی تعریف کی ۔ ادھر بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے فوج کے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ چترال اور ملک کے دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرہ افراد کی امدادکے سلسلے میں تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھائیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق تمام کور ہیڈ کوارٹرز اپنے متعلقہ علاقوں میں سیلاب کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ یہ اطلاع افسوس ناک ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کے دو ہیلی کاپٹر متاثرین سیلاب کے کام نہ آسکے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ایم آئی 17 اور ایکورل نامی ہیلی کاپٹر ایمرجنسی مقصد کے لیے خریدے گئے ہیں لیکن ابھی تک چترال کے متاثرین سیلاب کے لیے انھیں استعمال نہیں کیا گیا۔ اس خبر پر بھی کف افسوس ملنے کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتا کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے تیار کردہ ''نیشنل مون سون کنٹی جینسی رسپانس ڈائریکٹیو 2015'' کے مطابق اس وقت ملک میں مون سون کے دوران کسی بھی ہنگامی سیلابی صورتحال کے بعد ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے ڈسٹرکٹ لیول پر امدادی سامان اسٹاک کرنے کی مناسب سہولت موجود ہی نہیں جس کے باعث متاثرین کو بروقت امدادی سامان کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ بالائی علاقوں میں آیندہ 3 سے4 روز تک بارشیں جاری رہنے کا امکان ہے۔

جس کے باعث پنجاب، بالائی خیبرپختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ نیز سندھ میں بھی مون سون کی بارشوں کا آغاز ہوگیا۔ کراچی میں بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی شہر میں بجلی غائب ہوگئی۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں کے الیکٹرک کے 130 سے زائد فیڈرز ٹرپ کرگئے جس کے باعث شہر کا بڑا علاقہ تاریکی میں ڈوبا رہا۔ یہ حقیقت ہے کہ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ انفراسٹرکچر کا موجود نہ ہونا ہے، اداروں کا راست اقدامات سے گریز اور پیشگی منصوبہ بندی کا فقدان مسائل کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ پانی سر سے گزر جانے کے بعد جاگنے کی روایت اب ختم کرنا ہوگی۔ پاکستان کی ہر حکومت ڈیم بنانے سے گریزاں رہی ہے جب کہ ملک میں پانی کی شدید قلت ابھر کر سامنے آرہی ہے۔

سیلاب کے راستوں پر بند باندھ کر اس پانی کو تعمیری مقاصد میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، ہالینڈ کی مثال ہمارے سامنے ہے جس کے انفراسٹرکچر سے دنیا کی سپر طاقتیں بھی استفادہ کرنے کی خواہاں ہیں، ہالینڈ میں نہ صرف سیلاب کے پانی کو روکنے کا بندوبست کیا گیا ہے بلکہ اس پانی کو قحط زدہ علاقوں کو سیراب کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی حکومت کو بھی ان ممالک سے رہنمائی لینا چاہیے۔ اگر حکومت عزم کرلے اور بروقت اقدامات کرے تو نہ صرف تباہی سے بچا جاسکتا ہے بلکہ اس پانی کو ڈیموں میں ذخیرہ کرکے سستی بجلی بنانے کے ساتھ زمینوں کو بھی سیراب کیا جاسکتا ہے۔ ضرورت صرف خلوص نیت کی ہے۔