وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا قوم سے خطاب

جمہوری نظام میں حکومت کا کام ملک کے آئین اور قانون کے مطابق مملکت کا نظام چلانا ہوتا ہے


Editorial July 25, 2015
موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مثبت سیاست کا آغاز کریں۔فوٹو : فائل

SHEIKHUPURA: وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعدگزشتہ روز قوم سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ مئی2013ء کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے انکوائری کمیشن کی رپورٹ ہمارے مؤقف ہی کی نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ کی بھی توثیق ہے۔ ہمیں امید ہے کہ منفی سیاست کرنے والے بھی سبق سیکھیں گے۔ کمیشن کے فیصلے کو سنگ میل سمجھتے ہوئے نئے سفرکا آغازکیا جائے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ساری دنیا کے ساتھ ہمیں بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ گزشتہ انتخابات میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی۔ ہم اقتدارکی سیاست کے بجائے اقدار کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ہم نے تمام تر اشتعال انگیزیوں کے باوجود صبرو تحمل سے کام لیا۔ انکوائری کمیشن کی رپورٹ کسی کی ہار یا جیت نہیں۔ اس سے جمہوری نظام کو فائدہ پہنچے گا۔ ہمارے ہاتھ صاف تھے۔ اللہ نے سرخرو کر دیا۔ رپورٹ سے سچائی سامنے آگئی۔ سچ کی فتح ہوئی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ ہم نے تحریری ضمانت دی تھی کہ دھاندلی ثابت ہونے پرحکومت سے الگ ہوجائیں گے۔ 3ماہ کی جامع تحقیقاتی رپورٹ سے ہمارے مؤقف اور عوام کے مینڈیٹ کی توثیق ہوئی اور اس نظریے کی بھی توثیق ہوئی کہ مسائل دھرنوں میں نہیں دستوری ایوانوں میں حل ہوتے ہیں۔ اب ہمیں ماضی کی کوتاہیوں کی تلافی اور بے یقینی پیدا کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ اب ہمارے پاس کھوکھلے نعروں، تماشوں اور بے بنیاد دعوؤں کے لیے کوئی وقت نہیں۔ توقع ہے قوم کا قیمتی وقت ضایع کرنے والے سبق سیکھیں گے۔ الزام اور بہتان تراشی کا باب اب ہمیشہ کے لیے بند ہو جانا چاہیے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے خطاب میں نپے تلے الفاظ کا استعمال کیا اور کہیں بھی جذباتیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کی یہ بات بالکل درست ہے کہ الزامات اور بہتان تراشی کا باب اب بند ہونا چاہیے۔ انھوں نے کھلے دل سے کہا کہ آئیں ترقی اور استحکام کا سفر شروع کریں۔ بلاشبہ پاکستان اس وقت جس قسم کے حالات سے دوچار ہے 'ان سے عہدہ برا ہونے کے لیے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو گھیراؤ جلاؤ کے کلچر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے ۔

جمہوری نظام میں حکومت کا کام ملک کے آئین اور قانون کے مطابق مملکت کا نظام چلانا ہوتا ہے جب کہ حزب اختلاف کا رول یہ ہوتا ہے کہ وہ حکومت کے غلط کاموں کی نشاندہی کرے اور اس کی رہنمائی کرے۔ اگر حزب اختلاف یا ملک کا کوئی ادارہ یا شخصیت یہ سمجھتی ہے کہ حکومت غیر آئینی یا غیر قانونی اقدامات کر رہی ہے اور وہ نشاندہی کرنے کے باوجود بھی اپنا طرز عمل تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں تو اس مقصد کے لیے پارلیمنٹ کے فورم کو استعمال کرنا چاہیے۔ اگر یہاں بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا تو پھر آئین اور قانون میں درج طریقہ کار کے مطابق عدلیہ سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

یہی جمہوری نظام کی ضرورت اور تقاضے ہوتے ہیں ۔جمہوری نظام میں جلسے منعقد کرنا اور جلوس نکالنا بھی سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کا حق ہوتا ہے لیکن یہ سب کچھ بھی آئین اور قانون کے دائرے کے اندر اور جمہوری اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ موجود ہ حکومت کو یہ کریڈٹ دینا پڑے گا کہ اس نے تحریک انصاف کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا۔ اس جوڈیشل کمیشن کو انکوائری کے لیے مکمل طور پر بااختیار بنایا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے یہ ضمانت بھی دی کہ اگر جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ اس کے خلاف آیا تو وہ حکومت سے الگ ہو جائے گی۔

پاکستان میں ایسا پہلی بار ہوا کہ انتخابی دھاندلیوں کے لیے اتنا اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن قائم ہوا۔ اب جوڈیشل کمیشن کی حتمی رپورٹ سامنے آ چکی ہے اور مئی 2013ء کے الیکشن کے حوالے سے تحفظات اور خدشات بھی مکمل طور پر دور ہو گئے ہیں۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو تسلیم کر لیا۔ تحریک انصاف کے لیے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ اس کی توقعات کے برعکس ہے لیکن جمہوری روایات کا تقاضا یہی ہے کہ فیصلہ خواہ کتنا بھی تلخ کیوں نہ ہو اسے قبول کیا جانا چاہیے۔ تحریک انصاف کو اس فیصلے سے خاصا دھچکا لگا ہے۔

تحریک انصاف کی قیادت نے جس بنیاد پر لاہور سے اسلام آباد کے لیے مارچ کیا اور وہاں طویل دھرنا دیا'وہ غلط ثابت ہو گئی ہے۔ بہر حال سیاست میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں۔ ناکامیاں اور کامیابیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مثبت سیاست کا آغاز کریں۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو ٹھنڈے پیٹوں لے۔ اپنے مخالفین کے خلاف جارحانہ بیان بازی سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔

یہی جمہوری سیاست کا سبب ہے۔ یہ امر خوش آیند ہے کہ وفاقی حکومت نے انتخابی دھاندلیوں سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد آیندہ انتخابات کو مزید شفاف بنانے اور ملکی مسائل کے حل کے لیے مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ اطلاعات بھی میڈیا کے ذریعے سامنے آئی ہیں کہ جمعرات کو وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت دو اہم اجلاس ہوئے ہیں جن میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور کمیشن کی تمام تجاویز اور سفارشات پر من و عن عملدرآمد کرنے کے لیے حکومتی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بھی یہ کہا ہے کہ انھوں نے جون 2014میں اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ کر وسیع تر جامع انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کرنے کی درخواست کی تھی۔یہ کمیٹی قائم ہو چکی ہے' میں توقع کرتا ہوں کہ تمام جماعتیں انتخابی اصلاحاتی کمیٹی میں بیٹھ کر اپنا بھرپور کردارادا کریں گی اوریہ کام جلد مکمل کر لیا جائے گا۔انتخابی نظام کو نقائص سے پاک کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اس ضرورت کو جتنا جلد پورا کر لیا جائے 'جمہوریت کے لیے اتنا ہی بہتر ہے۔