وزیر اعظم کی سیلاب متاثرین کو مدد کی یقین دہانی

مون سون کا یہ موسم اچانک وارد نہیں ہوا بلکہ یہ حسب معمول اپنے سالانہ شیڈول کے مطابق آتا ہے


Editorial July 26, 2015
اصل مسئلہ وہی ہے کہ معاملہ بارش یا دریائی سیلاب کا نہیں ہے بلکہ سرکاری اداروں کی ناکامی کا ہے اور حکمرانوں کی نااہلی اور کوتاہی کا ہے۔ فوٹو : پی ٹی وی

LONDON: وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ سیلاب کے کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنا ہو گا۔ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل رکھے جائیں۔ امدادی ٹیمیں اچھا کام کر رہی ہیں تاہم اگر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا تو بڑا سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔

گزشتہ روز پنجاب اور سندھ کو ملانے والے ضلع رحیم یار خان کے علاقے چاچڑاں شریف میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے موقع پر انھوں نے کہا کہ متاثرین سیلاب کی مشکلات صرف اس وقت کم ہو سکتی ہیں جب ان کی بھرپور مدد کی جائے اور ان کے دکھوں کا ازالہ کیا جائے۔

وزیر اعظم کی طرف سے تشویش کا اظہار بجا ہے مگر کچھ حقائق ایسے ہیں جن پر غور کیا جانا چاہیے۔ مون سون کا یہ موسم اچانک وارد نہیں ہوا بلکہ یہ حسب معمول اپنے سالانہ شیڈول کے مطابق آتا ہے جس کے لیے تمام تر احتیاطی تدابیر کافی پہلے سے اختیار کر لی جانی چاہیے تھیں بلکہ ان کی ریہرسل بھی کرائی جانی چاہیے تھی تا کہ کسی کوتاہی کا احتمال نہ رہتا۔ مگر ہمارے ذمے داران کی روش ہی نرالی ہے۔ ان کا طرزعمل رات گئی بات گئی والا ہے۔

متعلقہ سرکاری اداروں کے ذمے داران کو قبل از وقت اس بات کا جائزہ لینے کا خیال نہیں آتا کہ کیا ندی نالوں میں پھنسے کچرے کو صاف کر دیا گیا ہے یا کیا دریاؤں کے پشتے کما حقہ مضبوط ہیں یا وہاں ری انسفورسمنٹ کی ضرورت ہے۔ یہ وہ کام ہیں جن کی وجہ سے بعد میں پیدا ہونے والی سنگین مشکلات سے بچا جا سکتا ہے بلکہ آنے والی تباہی کو بھی ٹالا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چترال میں سیلاب بارشوں سے نہیں بلکہ گلیشئرز پگھلنے کی وجہ سے آیا۔ اب یہ یقینا ایک ایسی بات ہے جس پر کسی حکومت کا کوئی بس نہیں چل سکتا البتہ وزیر اعظم کا یہ کہنا کہ حکومت مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی مشکلات کا مداوا جب کہ نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا بہت حوصلہ افزا بات ہے۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے رحیم یار خان میں سیلاب متاثرین کے لیے لگائے گئے ریلیف کیمپوں کا بھی تفصیلی معائنہ کیا۔ وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دریائے سندھ میں سیلاب سے ضلع رحیم یار خان میں تقریبا بیالیس ہزار ایکٹر رقبے پر کھڑی فصلیں چھیاسٹھ دیہات اور ساڑھے تین ہزار مکانات متاثر ہوئے ہیں۔

واضح رہے یہ صرف پنجاب کے ایک ضلعے کے نقصانات کی ایک جھلک ہے لیکن اگر آپ اس میزانیے پر پورے ملک کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کی کوشش کریں تو دماغ ماؤف ہو کر رہ جائے گا۔ ان اربوں کھربوں کے نقصانات سے بچاؤ کا صرف اور صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ ملک بھر میں زیادہ سے زیادہ پانی کے ذخائر تعمیر کیے جائیں۔

اگر کسی ایک ڈیم کو بوجہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے تو اس کا یہ مطلب تو ہر گز نہیں کہ ہمارے ارباب بست و کشاد ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائیں اور سیلابوں کے آدم خور بلے کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیں۔ مزید براں پانی کے ذخائر صرف دریاوں پر ڈیم بنا کر ہی تعمیر نہیں کیے جا سکتے بلکہ اس مقصد کے لیے بنجر اراضی پر بڑے بڑے تالاب اور مصنوعی جھیلیں بھی بنائی جا سکتی ہیں جس کے لیے ایکسٹرا ہیوی مشینری اور عالمی اداروں کی ڈالروں کی امداد کی بھی محتاجی نہیں ہو گی۔ کھدائی کا یہ کام لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں بے روزگاروں سے بھی لیا جا سکتا ہے۔

وہ صرف کھانا پانی اور ہلہ شیری کی اجرت پر بھی یہ محیر العقل کارنامہ انجام دے سکتے ہیں۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت سیلاب سے متاثرہ گھروں کی تعمیر کے لیے امداد فراہم کرے گی۔ انھوں نے چیف سیکریٹری پنجاب سے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں مزید کشتیوں کا انتظام کریں۔ وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالی پاکستان کو تمام قدرتی آفات سے محفوظ رکھے۔ انھوں نے ہدایت کی کہ لوگوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

ادھر ملک کے مختلف علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے جب کہ ڈوبنے، چھتیں گرنے، کرنٹ لگنے اور آسمانی بجلی گرنے سے متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ صرف چترال میں سیلاب سے ایک ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوچکا جب کہ 3 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا، بالائی پنجاب میں مون سون کی تیز بارشوں کے باعث بالائی خیبرپختونخوا، پنجاب، بلوچستان کے ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی اور سیلاب کا خطرہ ہے، بھارت میں بھی مون سون عروج پر ہے اور بھارت کے پاکستانی دریاؤں میں پانی چھوڑے جانے کے معاملے کو دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت نے پانی چھوڑا تو اس سے بڑے پیمانے پر تباہی کا خدشہ ہے۔ آزاد کشمیر، شمالی علاقہ جات اور بالائی پنجاب کے بعد سیلابی پانی سندھ میں داخل ہو رہا ہے۔ سندھ حکومت کو بھی خاطرخواہ انتظامات کرنے چاہئیں۔ ادھر کراچی میں آئندہ دو تین روز تک بارش کا سلسلہ جاری رہنے کی پیش گوئی ہے۔ کراچی میں مون سون کی پہلی بارش نے ہی حشر کر دیا ہے، دو تین روز مزید بارش جاری رہی تو جو کچھ ہو گا اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ کراچی جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی دارالحکومت ہے، وہاں ایک بارش نے معمولات زندگی درہم برہم کر دیے۔ جگہ جگہ ٹریفک جام ہو گئی، بجلی کے فیڈر ٹرپ کر گئے، شہر کے کئی علاقوں میں ابھی تک بارش کا پانی کھڑا ہے۔

کراچی کی سبزی و فروٹ منڈی بارش کی وجہ سے کیچڑ سے لتھڑی ہوئی ہے۔ یہ ایشیا کی سب سے بڑی فروٹ منڈی کہلاتی ہے۔ یہاں نکاسی آب کا نظام انتہائی ناقص ہے۔ جس کی وجہ سے یہ منڈی ایک ہی بارش سے کیچڑ اور گندگی کا ڈھیر بن گئی ہے۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مسلسل بارش ہو رہی ہے اور یہاں کا حال بھی سب پر آشکار ہے۔

اصل مسئلہ وہی ہے کہ معاملہ بارش یا دریائی سیلاب کا نہیں ہے بلکہ سرکاری اداروں کی ناکامی کا ہے اور حکمرانوں کی نااہلی اور کوتاہی کا ہے۔ اگر حکمرانوں کی ترجیح ملک کو سنوارنا ہو تو ادارے خودبخود فعال ہو جائیں گے اور ادارے فعال ہوں تو بارشی اور سیلابی پانی تباہی کا باعث نہیں بنے گا بلکہ اس پانی سے بہت سے فوائد لیے جاسکیں گے۔