اوباما کا دورہ کینیا اور ایتھوپیا

امریکا کے صدر بارک اوباما کا افریقی ممالک کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ صدر بننے کےبعد وہ پہلی بار کینیا آئے ہیں


Editorial July 27, 2015
ایتھوپیا جو کبھی غربت، مفلسی اور قحط سالی کا شکار تھا اب مستحکم ہو گیا ہے اور تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ فوٹو: فائل

امریکا کے صدر بارک اوباما جمعہ کو کینیا پہنچے تھے، یہ وہ ملک ہے جہاں سے ان کے والد کا تعلق ہے اور وہ وہیں دفن ہیں۔ اوباما کے رشتے دار اس ملک میں مقیم ہیں۔ انھوں نے اپنی سوتیلی بہن اور دادی سے بھی ملاقات کی۔ گزشتہ روز کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ''گلوبل انٹر پرینیورشپ سمٹ'' سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا کہ افریقی ممالک پرتشدد نظریات کو شکست دیں۔ تاجر طبقہ پرتشدد نظریات کے انسداد اور افریقہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ صدر اوباما نے مزید کہا کہ براعظم افریقہ کو مستقبل میں عالمی ترقی کا مرکز ہونا چاہیے۔ براعظم افریقہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور یہ تیز سے ترقی کرنے والا براعظم ہے جہاں غربت و افلاس کم ہو رہی ہے، لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور متوسط طبقہ پھیلا ہے جب کہ نوجوان ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے افریقہ کو بدل رہے ہیں۔

صدر اوباما کینیا میں قیام کے بعد ایتھوپیا چلے گئے ہیں جہاں انھوں نے اتوار کو افریقی یونین سے خطاب کرنا ہے۔ امریکا کے صدر بارک اوباما کا افریقی ممالک کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ صدر بننے کے بعد وہ پہلی بار کینیا آئے ہیں اور ایتھوپیا میں افریقی یونین سے خطاب کرنے والے بھی پہلے امریکی صدر ہیں۔ بلاشبہ براعظم افریقہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور یہاں کے باشندے بھی بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں لیکن مغربی یورپی ممالک اور امریکا کی استحصالی معاشی پالیسیوں نے اس براعظم کو مفلسی اور ناداری کا سمبل بنا ڈالا۔ اس براعظم میں جگہ جگہ نسلی اور مذہبی لڑائیاں شروع ہو گئیں اور ان لڑائیوں میں لاکھوں انسان مارے گئے۔ اب بھی روانڈر، برونڈی، سنٹرل افریقین ریپبلک، جنوبی سوڈان، مالی، موریطانیہ، تنزانیہ، لیبیا، انگولا اور گمبیا میں بدترین حالات ہیں اور یہاں خانہ جنگی کی صورت حال ہے۔ براعظم افریقہ کا تیل سے مالامال ملک نائیجریا بوکوحرام کی دہشت گردی کا شکار ہے جب کہ صومالیہ الشباب کے شکنجے میں ہے اور یہاں بدترین دہشت گردی ہو رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس براعظم میں تعمیر وترقی کی مثالیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔

ایتھوپیا جو کبھی غربت، مفلسی اور قحط سالی کا شکار تھا اب مستحکم ہو گیا ہے اور تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ یوگنڈا بھی تیس چالیس برس پہلے انتہائی غریب ملک تھا لیکن اب خاصا ترقی یافتہ ہو گیا اور یہ ملک سیاحوں کی جنت بن چکا ہے۔ لائبیریا بھی بدترین خانہ جنگی اور بھوک کا شکار رہا، اب خاصا مستحکم ہو گیا ہے۔ اس طرح گھانا بھی درمیانی آمدنی والے ممالک میں شامل ہے۔ کیمرون اور سینی گال بھی مستحکم معیشت والے ملک بن گئے ہیں۔ جنوبی افریقہ اس براعظم کا خوشحال اور ترقی یافتہ ملک ہے۔ اب افریقہ انگڑائی لے رہا ہے۔ یہا ںسے ایسی قیادت ابھر رہی ہے جو خود انحصاری پر یقین رکھتی ہے۔ امریکا افریقی ممالک میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ چین اور جاپان بھی یہاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ مستقبل میں براعظم افریقہ سرمایہ کاروں کی جنت بننے والا ہے۔ پاکستان کو بھی افریقی ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینی چاہیے خصوصاً نائیجریا، گھانا، سینی گال، کینیا، ایتھوپیا اور یوگنڈا ایسے ممالک ہیں جہاں پاکستانی سرمایہ کاروں اور ہنرمندوں کے لیے خاطرخواہ مواقع موجود ہیں۔