اقتصادی راہداری منصوبہ جنرل راحیل کا عزم

اقتصادی راہداری پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا ایک اہم منصوبہ ہے


Editorial July 27, 2015
ملک میں جس طرح آبی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور بھارت کی جانب سے پانی روک کر پاکستان کو بنجر بنانے کی سازش کی جا رہی ہے, فوٹو:فائل

بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ہفتے کو بلوچستان میں پنجگور اور تربت کے دورہ کے موقع پر اقتصادی راہداری میں شامل زیرتعمیر سڑکوں کے نیٹ ورک کا معائنہ کیا،آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر انھوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف دشمن کی مہم اور عزائم سے بخوبی آگاہ ہیں، انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلح افواج اس دیرینہ خواب کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔

اقتصادی راہداری پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا ایک اہم منصوبہ ہے، رواں سال چین کے صدر کی پاکستان آمد پر دونوں ممالک کے درمیان اس منصوبے پر دستخط ہوئے تھے جس کے تحت گوادر سے کاشغر تک اقتصادی راہداری بنائی جائے گی۔ اس منصوبے کا اعلان ہونے کے بعد داخلی اور خارجی سطح پر اس کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں۔ داخلی سطح پر بعض سیاست دانوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ حکومت نے اس راہداری کے ڈیزائن میں تبدیلی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جسے وہ ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ چونکہ یہ منصوبہ پاکستان کے روشن مستقبل کی نوید ہے، اس لیے حکومت اسے سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھنے سے روکنے اور اسے جاری کے لیے متحرک ہو گئی۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اعتراض کرنے والی جماعتوں کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت اقتصادی راہداری منصوبے کے مغربی روٹ کو جو صوبہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے گزرتا ہے، پہلے تعمیر کرے گی۔ اس کے علاوہ حکومت نے کل جماعتی کانفرنس کا اہتمام کیا، جس میں سیاسی رہنماؤں کے تحفظات دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور اس موقع پر وزیراعظم نے مختلف علاقوں اور صوبوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔

منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی یہ یقین دہانی کرائی کہ اقتصادی راہداری کے مغربی حصے کو پہلے مکمل کیا جائے گا، اس کے دو سال بعد مشرقی روٹ اور سب سے آخر میں مرکزی روٹ پر کام مکمل کیا جائے گا۔ مغربی روٹ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے گزرے گا، مشرقی روٹ اسلام آباد سے فیصل آباد اور ملتان موٹروے کو سکھر کے راستے گوادر تک لے جائے گا، اور مرکزی روٹ سکھر اور انڈس ہائی وے کو قراقرم ہائی وے سے جوڑ دے گا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ راہداری منصوبہ صرف ایک سڑک کا نام نہیں بلکہ ایک فریم ورک ہے، یہ بہت سے ترقیاتی منصوبوں کا بھی مجموعہ ہے جس میں بجلی گھر، صنعتی زون، ثقافتی منصوبے، ٹیلی ویژن اور ریڈیو اسٹیشن تک شامل ہے۔ خارجی سطح پر اس منصوبے کے خلاف بھارت نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یہ شوشہ چھوڑا کہ یہ راہداری بعض متنازعہ علاقوں سے گزرے گی ۔ بھارتی حکومت نے چین کے ساتھ بھی اس مسئلے کو اٹھایا مگر چینی حکومت نے بھارتی اعتراضات کو رد کر دیا۔

جنرل راحیل شریف نے انھی خطرات اور مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہم دشمن کی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف مہم سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ انھوں نے اقتصادی راہداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گوادر پورٹ خطے میں اسٹرٹیجک اہمیت کی حامل گہری سمندری بندرگاہ ہے، ان سڑکوں کی تعمیر سے گوادر پورٹ... چمن اور انڈس ہائی وے کے ذریعے ملک کے باقی ماندہ حصوں سے منسلک ہو جائے گی، گوادر پورٹ اور کوریڈور کے منصوبے مکمل ہونے سے ملک کے تمام علاقوں کے لوگ یکساں مستفید ہوں گے اور خوشحالی آئے گی۔ دورے کے موقع پر جنرل راحیل شریف کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں بیک وقت پانچ مختلف مقامات پر آٹھ سو ستر کلومیٹر طویل سڑکوں کی تعمیر کے لیے ایف ڈبلیو او کے گیارہ یونٹس تعینات کر دیے گئے ہیں، ان میں سے 502 کلومیٹر سڑکیں آرمی چیف کی خصوصی ہدایت پر ڈیڑھ سال سے بھی کم عرصے میں مکمل ہو چکی ہیں۔ گوادر پورٹ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے خوشحالی اور ترقی کی علامت بن چکی ہے اس لیے حکومت اور عسکری قیادت ہر ممکن طور پر اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔

اس منصوبے کی تکمیل سے بلوچستان جو اس وقت ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ شمار ہوتا ہے، میں لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ان کا معیار زندگی بلند ہو گا۔ بعض حلقوں کی جانب سے اس راہداری منصوبے کی سیکیورٹی صورت حال پر تشویش کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں بعض شرپسند عناصر اس وقت اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں، وہاں وہ اس کی تکمیل کے بعد اپنی کارروائیوں سے سیکیورٹی کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں، اس لیے حکومت کو اس جانب بھی بھرپور توجہ دینی ہوگی۔

جنرل راحیل شریف نے بھی اسی صورت حال کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مجوزہ ترقیاتی کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے محفوظ اور پرامن ماحول نہایت ضروری ہے۔ انھوں نے صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورت حال میں نمایاں تبدیلی لانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا اور اس اہم قومی منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں جان کی قربانی دینے والے ایف ڈبلیو او کے سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ جس طرح اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے داخلی سطح پر سیاسی جماعتوں کے خدشات دور کر کے اتفاق رائے پیدا کیا گیا، اسی طرح ملک کے دیگر مسائل کو بھی حکومت اور سیاستدان مل کر حل کرنے کی کوشش کریں تو امید ہے بہتری کا کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔ ملک میں جس طرح آبی مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور بھارت کی جانب سے پانی روک کر پاکستان کو بنجر بنانے کی سازش کی جا رہی ہے اس سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں نئے ڈیم اور پانی کے ذخائر تعمیر کیے جائیں۔