اسٹیٹ بینک کی رواں مالی سال کی پہلی رپورٹ

ملک کی موجودہ اقتصادی صورت حال کے پیش نظر مرکزی بینک نے آیندہ دو ماہ کے لیے شرح سود7 فیصد برقرار رکھنےکافیصلہ کیا ہے


Editorial July 27, 2015
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ اعداد و شمار کی روشنی میں درست ہو سکتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک میں مہنگائی کا گراف اوپر ہی گیا ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی میں رواں مالی سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے گورنر اشرف محمود وتھرا نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی صورت حال اور ادائیگیوں کے توازن میں بہتری آئی ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی مثبت کر دی ہے۔ ملک کی موجودہ اقتصادی صورت حال کے پیش نظر مرکزی بینک نے آیندہ دو ماہ کے لیے شرح سود 7 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رواں مالی سال کی پہلی مانیٹری پالیسی میں خاصے حوصلہ افزا اشارے سامنے آئے ہیں۔ تعمیرات، کوہ کنی اور کانکنی کے شعبوں میں ترقی ہوئی ہے۔ ملک کے معاشی اشاریے بھی بہتر ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔ شرح نمو میں بھی تیزی آئی ہے۔ مہنگائی کی شرح میں بھی گزشتہ سال کی نسبت کمی کی نوید دی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ اعداد و شمار کی روشنی میں درست ہو سکتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک میں مہنگائی کا گراف اوپر ہی گیا ہے۔ پتہ نہیں کن بنیادوں پر یہ کہا گیا ہے کہ مہنگائی میں کمی ہوئی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی ایک آئٹم کی قیمت ہو یا مارکیٹ میکنزم کی وجہ سے کچھ اشیاء کی قیمتیں وقتی طور پر کم ہوئی ہوں لیکن مجموعی طور پر مہنگائی بڑھی ہے اور عام آدمی کی آمدنی سکڑی ہے۔ بہرحال تمام تر مشکلات کے باوجود حکومت کی پالیسیوں میں استحکام رہا ہے جس کی وجہ سے ملکی معیشت مستحکم نظر آ رہی ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقات بھی معاشی تیزی سے مستفید ہو سکیں۔