بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں میں مسلسل اضافہ

ملک میں سیلاب پہلی بار نہیں آیا بلکہ ہرسال یہ آتا اور بڑے پیمانے پر تباہی مچاتا ہے


Editorial July 28, 2015
حکومت سیلاب پر قابو پانے کے لیے مناسب اقدامات کرے ورنہ ہر سال جس طرح سیلابی صورت حال شدید سے شدید تر ہوتی چلی جا رہی ہے، فوٹو : فائل

ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے' وسیع علاقہ زیر آب آ گیا ہے' مزید 33افراد جاںبحق' قیمتی املاک اور سازو سامان تباہ ہو گیا ہے۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں سیلاب کی شدت زیادہ ہے' پنجاب میں گوجرانوالہ' حافظ آباد' قصور اور جنوبی پنجاب کے علاقے بہت متاثر ہوئے ہیں' خیبرپختونخوا میں چترال میں تو صورت حال بہت زیادہ خراب ہے وہاں دو روز میں سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 32 ہو گئی ہے۔

دریائے سندھ میں طغیانی کے باعث جنوبی پنجاب کے مزید بیسیوں دیہات زیر آب آگئے' کوہستان میں بھی تباہ کن سیلاب نے تباہی مچا دی اور متعدد گاؤں سیلابی ریلے کی نذر ہو گئے' پشاور میں بھی بڈھنی نالے میں طغیانی اور سیلابی صورت حال پیدا ہونے سے آدھا شہر پانی میں ڈوب گیا' ہزاروں لوگ محصور ہو گئے اور ٹرینوں کی آمدورفت معطل کر دی گئی ہے۔

دریائے جہلم میں متوقع سیلاب کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا، کراچی میں بھی بارش کے دوران ٹریفک حادثات کرنٹ لگنے اور دیگر واقعات میں چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ دوسری جانب بھارت نے اکھنور سے ایک لاکھ 83 ہزار کیوسک پانی کا ایک ریلہ چھوڑ دیا ہے جس کے پیش نظر حکومت نے دریائے چناب اور دریائے راوی میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا۔

دریائے سندھ میں بھی پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے' سندھ میں گھوٹکی کے کئی دیہات زیر آب آ گئے ہیں' کچے کا علاقہ بھی سیلاب کی زد میں ہے' لاڑکانہ کے قریب بھی بند کا کٹاؤ شروع ہے' بلوچستان میں شدید بارشیں جاری ہیں۔ اس نازک صورتحال میں فوجی جوان متاثرین سیلاب کی بھرپور مدد کر رہے ہیں جن کی کارکردگی قابل تحسین ہے۔

ملک میں سیلاب پہلی بار نہیں آیا بلکہ ہرسال یہ آتا اور بڑے پیمانے پر تباہی مچاتا ہے' چند سال قبل آنے والے سیلاب نے بھی بڑے پیمانے پر ملک بھر میں تباہی مچائی تھی لیکن حیرت انگیز امر ہے کہ حکومتی سطح پر سیلاب پر قابو پانے کے لیے ابھی تک کوئی ٹھوس اقدامات سامنے نہیں آئے۔ راولپنڈی میں نالہ لئی' سیالکوٹ میں نالہ ڈیک اور نالہ ایک' جنوبی پنجاب میں رود کوہیاں اور دیگر چھوٹے چھوٹے نالے ہر سال مون سون کے موسم میں تباہی اور بربادی کا پیغام لے کر آتے ہیں۔

حیران کن امر یہ ہے کہ ترقی اور خوشحالی کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے حکمران جب چھوٹے چھوٹے نالوں اور رود کوہیوں سے ہونے والی تباہی کو نہیں روک سکتے تو وہ بڑے پیمانے پر آنے والے سیلاب اور ملک کو درپیش دیگر بڑے چیلنجز سے کیسے نمٹیں گے اس سے ان کی کارکردگی پر شک و شبہ کے اظہار کا سامنے آنا لازمی امر ہے۔

حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرنے والے بہت سے سیاستدان کبھی خود بھی اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں مگر انھوں نے اپنے دور میں سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس اور واضح پالیسی تشکیل نہیں دی اور آج جو سیلاب کی صورت حال ہے اس میں ان کی غیر ذمے داری اور ناقص کارکردگی کا بھی حصہ بدرجہ اتم موجود ہے۔

دوسری جانب یہ تشویشناک امر ہے کہ جب حکمران اپنا اقتدار بچانے کے لیے پارلیمنٹ کا اجلاس بلا کر دیگر پارلیمانی جماعتوں کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں تو ملک میں اتنے بڑے پیمانے پر پھیلنے والی تباہی کے انسداد کے لیے حکومت اور سیاسی جماعتیں متحد ہو کر کوئی لائحہ عمل کیوں طے نہیں کرسکتیں۔اپوزیشن جماعتیں جو بات بات پر حکومت کو ہدف تنقید بنانے سے نہیں چوکتیں وہ بھی اس وقت متحرک دکھائی نہیں دیتیں۔آخر ملک کی سلامتی' اس کی بقاء اور سیلاب سے پیدا ہونے والی اتنی بڑی تباہی سے مستقل نجات کے لیے حکومت اور سیاسی جماعتوں کے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے میں کیا امر مانع ہے۔

ہالینڈ اور بیلجیئم کی مثال سب کے سامنے ہے جنہوں نے بہتر منصوبہ بندی کی بدولت سیلابوں پر قابو پا لیا۔ حکومت ان ممالک کے ماہرین ہی سے فائدہ اٹھا کر سیلابوں پر قابو پا سکتی ہے۔ ماہرین مسلسل یہ پیشگوئی کر رہے ہیں کہ پاکستان اور اس خطے میں ہر سال بارشوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جس سے سیلابی صورت حال شدید تباہ کن شکل اختیار کر رہی ہے۔ اگر ابھی سے کوئی ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو ہر سال سیلاب سے ہونے والی تباہی اور بربادی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اس خوفناک صورت حال کے تناظر میں حکومت کو اپنی ترجیحات میں سیلاب پر قابو پانے کے مسئلے کو اولین ترجیح دینا ہو گی۔

جو خطیر سرمایہ سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے اور شہری زندگی کی بحالی پر خرچ ہوتا ہے اگر وہی سرمایہ سیلاب پر قابو پانے کے لیے صرف کیا جائے تو صورت حال میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔اس وقت حکومت پاک چین اقتصادی راہداری کی تعمیر پر توجہ دے رہی ہے مگر یہ خدشہ بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اتنی طویل راہداری کو سیلاب سے نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے اس کی مرمت پر بھی کثیر سرمایہ صرف ہوگا،حکومت کو ابھی سے اس جانب توجہ دینی چاہیے۔

تشویشناک امر یہ ہے کہ حکومت فی الفور کوئی نیا ڈیم تعمیر نہیں کر رہی' کالا باغ ڈیم جو بہت جلد تعمیر ہو سکتا ہے سیاسی اختلافات کی نذر ہو چکا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جن علاقوں میں ڈیم موجود ہیں وہاں کے قریبی علاقوں میں سیلابی صورت حال قابو میں ہے۔ اس وقت چین' بھارت' ایران اور ترکی بڑی تیزی سے ڈیمز تعمیر کر رہے ہیں مگر ہمارے ہاں اس سلسلے میں روایتی سستی اور تساہل پسندی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

حکومت سیلاب پر قابو پانے کے لیے مناسب اقدامات کرے ورنہ ہر سال جس طرح سیلابی صورت حال شدید سے شدید تر ہوتی چلی جا رہی ہے اس سے آنے والے برسوں میں ہونے والی تباہی کا اندازہ لگانا مشکل امر نہیں اور ملک میں ہونے والی ترقی کا ایک بڑا حصہ سیلاب کی نذر ہو جائے گا۔