نیا پینڈورا باکس کھولنے سے اجتناب کی ضرورت

حقیقت یہ ہے کہ ملکی سیاست میں جذباتیت اور سنسنی خیزی کا عنصر غالب رہا ہے


Editorial July 28, 2015
سیاسی جماعتوں سے احتجاج اور آئینی و قانون طریقہ سے مطالبات کا حق نہیں چھینا جاسکتا تاہم مک کو جن اعصاب شکن چیلنجز اور داخلی صورتحال کا سامنا ہے۔ فوٹو: آن لائن

جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ 2013 ء کے انتخابی نتائج کے حوالے سے ملکی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے جس میں تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے بالعموم اتفاق رائے سے اس کی کارروائی کو تسلیم کیا ہے جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کو نئے پاکستان کی طرف پہلا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ سے انتخابی نظام میں بہت جلد مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔

تاہم ملک میں پیدا شدہ سیاسی کلچر کی سیمابیت اور اضطراب انگیز شعلہ نوائی تھمنے کا نام نہیں لے رہی اور اندیشہ ہے کہ دھاندلی کے الزامات پر کمیشن کی رپورٹ پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پھر کسی نئے پینڈورا باکس کھلنے کا باعث نہ بنے ،ادھر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ انتخابی دھاندلی کے الزامات دہرانا قابل مذمت ہے، (ن) لیگ اور تحریک انصاف کا معاہدہ تحریری شکل میں موجود ہے، معاہدے اور مذاکرات کے بعد جوڈیشل کمیشن بنایا گیا تھا جس کے تحت فیصلہ آنے کے بعد پی ٹی آئی کوالزامات واپس لینا تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کے مطابق انکوائری کمیشن کی جانب سے 45 روز میں رپورٹ دینے کی شرط عمران خان کی تھی۔ عمران خان الزامات کے بجائے آگے چلنے کی بات کریں۔

یہ صائب مشورہ ہے تاہم ضرورت دو طرفہ احتیاط اور تدبر و سنجیدہ طرز عمل کی ہے جب کہ حکومت اور اپوزیشن جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو فتح و شکست سے تعبیر نہ کریں، کوئی کسی کو زچ نہ کرے ، کسی کی تضحیک ہونی چاہیے اور نہ تحریک انصاف کو ''رگڑا لگانے ''کی غیر پارلیمانی کوشش مستحسن سمجھی جائے گی اور نہ تحریک انصاف فوری دھرنا سیاست کی بحالی کا سوچے، بلاشبہ تحریک انصاف نے اپنے مطالبہ پر قانونی جدوجہد کی جب کہ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اتفاق کیا ، یہی جمہوری اسپرٹ آیندہ بھی برقرار رہنی چاہیے، حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے سے ہر ممکن اجتناب کرنا چاہیے ۔

اس لیے یہ امرخوش آیند ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ممبران نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے مستعفی ہونے کے مطالبے کو جہاں مسترد کردیا وہاں چیف الیکشن کمشنر نے تمام ارکان کو بیانات دینے سے روک دیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ ملکی سیاست میں جذباتیت اور سنسنی خیزی کا عنصر غالب رہا ہے جب کہ سنجیدہ مکالمہ اور صحتمند جمہوری عمل کی کامیابی کی کلید روادارانہ اور قانونی و جمہوری جدوجہد میں مضمر ہے،اس لیے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی اور اس کی رپورٹ کو مخاصمت یا سیاست برائے سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے ۔

مزید براں سیاسی ایشوز کا معاملہ ملک کے اندر حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کو تقسیم کرنا ملکی مفاد میں نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے لندن میں پاکستان کی داخلی سیاست پر مظاہرے کر کے نامناسب کام کیا۔بتایا جاتا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی اپیل پر پاکستان میں ریاستی سطح پر مہاجروں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے پوری دنیا کو آگاہ کرنے کے لیے مہاجراکابرین کی جانب سے سینئر مہاجر ورلڈ کانگریس میں شمولیت کی دعوت پر مثبت ردعمل اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ مہاجروں کا مقدمہ دنیا بھر میں لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

المختصر سیاسی جماعتوں سے احتجاج اور آئینی و قانون طریقہ سے مطالبات کا حق نہیں چھینا جاسکتا تاہم مک کو جن اعصاب شکن چیلنجز اور داخلی صورتحال کا سامنا ہے اس میں سیاسی جماعتوں کے قائدین سے یہی التجا کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی لڑائی دوسرے ملکوں میں جا کر نہ لڑیں ، اس سے جگ ہنسائی ہوگی ، چنانچہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ پی ٹی آئی کو برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر اور ایم کیو ایم کو وائٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی اور افہام وتفہیم کا راستہ اختیار کرلیا جاتا،اب بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، ایشوز ملک کے اندر رہ کر بھی طے پا سکتے ہیں اور یہی چیز ملکی مفاد میں ہے۔