انتخابی اصلاحات ایک اہم جمہوری تقاضہ

2013 کے الیکشن بھی سیاستدانوں کی طرف سے دھاندلی زدہ قرارپائے


Editorial July 29, 2015
2013 کے الیکشن بھی سیاستدانوں کی طرف سے دھاندلی زدہ قرارپائے، فوٹو:فائل

یہ ایک مسلمہ عالمی حقیقت ہے کہ دنیا کے جدید سیاسی اور جمہوری نظام کی بنیاد شفاف انتخابی عمل پر ہے اوردنیا کے جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں وہاں انتخابات کے انعقاد میں ووٹنگ سسٹم اور پولنگ میکنزم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا اور جمہوریت کا سارا محل عوام کی رائے دہندگی کی شفافیت پر قائم ہے، مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 67برسوں سے ماسوائے 70 کے الیکشن کے کسی انتخابی عمل کو شفافیت اور اعتباریت کی حتمی سند یا کلین چٹ نہیں مل سکی۔

چنانچہ 2013 کے الیکشن بھی سیاستدانوں کی طرف سے دھاندلی زدہ قرارپائے ، ماضی کے انتخابی اوراق پلٹئے تو قوم مدتوں سے ''جھرلو، انجینئرڈ ، بوگس اور دھاندلی سے لتھڑے ہوئے انتخابی نتائج'' پر سینہ کوبی کے ناقابل یقین مناظر دیکھتی آئی ہے چنانچہ انتخابی نتائج کی بے اعتباری کے اسی تناظر میں گزشتہ روز مسلم لیگ(ن) کے مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے قطعی صائب بات کہی کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ اور اس پر سیاسی قوتوں کا ردعمل سیاسی اور جمہوری نظام کے استحکام کا باعث ہوگا، مسلم لیگ(ن)کے مینڈیٹ کی توثیق ہوئی ہے اور وہ آئین، اداروں کے استحکام اور گڈ گورننس کے لیے کام کرتی رہے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ قوم کا قیمتی وقت ادنیٰ تنازعات میں ضایع کرنے کے بجائے سیاسی بالغ نظری اور فراخدلی کا مظاہرہ کیا جائے۔ اقتدار کے بجائے اقدار کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے کابینہ ارکان پر زور دیا کہ وہ انکوائری کمیشن کے نتائج کو اجاگر کریں اور زور دیا کہ آیندہ انتخابات کو ہر لحاظ سے شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات کا عمل تیز کیا جائے۔ ادھر ایک مثبت اطلاع یہ بھی آئی کہ حکومت اور اپوزیشن نے انکوائری کمیشن رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اس سے جمہوری قوتوں کو حوصلہ ملتا ہے کہ یہی وہ موزوں وقت ہے جب تمام سیاسی جماعتیں جمہوری عمل کو تقویت دینے پر اپنی تمام تر توانائیاں مرکوز کریں تاکہ رواداری پر مبنی سیاسی کلچر جنم لے سکے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ فرسودہ سیاسی تصورات ، منجمد سوچ اور جماعتی مفادات و اختلافات سے بالاتر ہوکر جمہوریت کو استحکام عطا کیا جائے، انتخابی اصلاحات جمہوری عمل کی روح ہیں، قومی تعمیر نو کے کئی اہم مرحلے حکمراں سیاسی قیادت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے اس امر کا تقاضہ کرتے ہیں کہ وہ قومی انداز فکر کو فروغ دیں۔

تحمل و برداشت اور کشادہ دلی سے سیاسی تنازعات کاتصفیہ کرنے کی اپنے اندر اسپرٹ پیدا کریں جمہوریت از خود کوئی نسخۂ کیمیا نہیں اسے قابل تعریف اور فالٹ فری سیاسی نظام کی شکل دینے کا کام سیاست دانوں کا ہے، اسٹیٹس کو کی سیاست بہر حال ختم ہونی چاہیے۔ ادھر قومی اسمبلی کی انتخابی اصلاحات کمیٹی کا اہم اجلاس منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، اس کے مندرجات پر بھی غور و فکر کا کافی سامان ہوگا۔ بتایا گیا کہ اجلاس میں سب کمیٹی کی جانب سے تیار کی جانے والی سفارشات پیش کی جائیں گی جو منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی ۔

دریں اثنا مسلم لیگ(ن) کی رہنماو وفاقی وزیرانوشہ رحمٰن نے کہا کہ ہمیں سارے نظام کو بہتری کی طرف لے جانا ہے، انتخابی اصلاحات پر کام ہونا چاہیے تاکہ انتخابات میں پیدا ہونے والی خامیوں کو دورکیا جا سکے۔ مشہور فلسفی سسرو نے کہا تھا کہ عوام سے زیادہ بے اعتبار کوئی نہیں، جب کہ انسانی ارادے سے زیادہ پوشیدہ کوئی حقیقت نہیں اور انتخابی عمل کے مکمل ہونے کے دعوے سے زیادہ پر فریب کوئی شے نہیں۔کیا اس میں کسی شبہ کی گنجائش ہے؟