مستقبل میں آزادانہ انتخابات کی ضمانت

حقیقت میں انتخابی اصلاحات کی ضرورت کوئی حادثہ نہیں ہے ۔ اسے نیرنگیٔ سیاست دوراں کی یقینی موت کہنا مناسب ہے


Editorial July 30, 2015
انتخابی اصلاحات ایک قومی ٹاسک ہے، مستقبل کا وہ روڈ میپ ہے جس پر چل کر پاکستانی سیاست ایک شفاف انتخابی ادارہ کے قیام کی دائمیت کا جہاں یقین دنیا کو دلاسکتی ہے۔ فوٹو: فائل

انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی نے عام انتخابات 2013ء پر قائم انکوائری کمیشن کی رپورٹ ذیلی کمیٹی کو ارسال کرتے ہوئے اسے ہدایت کی ہے کہ وہ اس رپورٹ کی روشنی میں خامیوں کو دور کرنے کے لیے نشاندہی کرے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق انتخابی اصلاحات کے قومی ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے 80 فی صد کام مکمل جب کہ ذیلی کمیٹی نے 13 آئینی ترامیم پر اتفاق کیا ہے ۔

اسے جوڈیشل کمیشن رپورٹ کی روشنی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جانا چاہیے جب کہ اسی جذبہ اور دور اندیشی پر مبنی جمہوری رویے سے انتخابی عمل کی شفافیت کی وقت بھی ضمانت دے سکے گا ، دریں اثنا انتخابات سے متعلقہ 6 قوانین کو ضم کر کے ایک جامع اور یکساں قانون بنائے جانے کی نوید بھی خوش آیند ہے۔

کمیٹی کے 13ویں اجلاس کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اور کمیٹی کے چیئرمین اسحاق ڈار نے بتایا کہ اس کمیٹی میں ہر جماعت کی نمایندگی موجود ہے۔

حقیقت میں انتخابی اصلاحات کی ضرورت کوئی حادثہ نہیں ہے ۔ اسے نیرنگیٔ سیاست دوراں کی یقینی موت کہنا مناسب ہے بشرطیکہ پارلیمنٹ اصلاحات دینے میں بریک تھرو کرے۔ تحریک انصاف کی 2013 ء کے انتخابی نتائج پر عدم اطمینان کی آئینی وجوہ بہت ساری ہیں،اسی طرح پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے حالیہ احتجاج و دھرنوں سے پیدا شدہ افسوس ناک صورتحال کے منطقی نتیجہ میں اگر قوم کو آیندہ انتخابی عمل کی سچائی،آزادانہ و غیر جانبدارانہ انعقاد کی پارلیمانی ضمانت مل رہی ہے تو اسے ملک و قوم کے لیے جمہوری جدوجہد کا تحفہ سمجھنا چاہیے ۔

کیونکہ آیندہ جو بھی منتخب جمہوری حکومت آئیگی اس کے مینڈیٹ کا احترام انتخابی روایت بن سکتی ہے ، مگر یہ سفر قابل قدر جمہوری کمٹمنٹ سے پیوست ہے جس کے لیے اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام سیاسی جماعتیں،الیکشن کمیشن ، جوڈیشل کمیشن ، میڈیا اور عدلیہ قابل مبارک باد ہیں جن کی مشترکہ مساعی سے ملک کو مستحکم جمہوری نظام سے تجدید عہد کا ممکنہ ثمر مل رہا ہے۔ جن ترقی یافتہ جمہوری ملکوں نے انتخابی ادارہ کی مقصدیت اور شفافیت کی اہمیت کا ادراک کیا ہے۔

انھوں نے سیاسی مساوات، صوبوں یا اپنی ریاستوں کے مفادات، اقلیتوں کے حقوق اور ان کی آئینی آزادیوں کے تحفظ سمیت وفاق کی مضبوطی کا اس طرح خیال رکھا ہے کہ تمام ادارے اور صوبے اپنے آئینی ، قانونی اور جمہوری دائرہ میں کام کرتے ہوئے جمہوریت کے فطری بہاؤ کی قدر و قیمت کو نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیں،اسی لیے ان ممالک میں آئینی یا سیاسی بحرانوں کی گونج یا بازگشت اس تواتر سے سنائی نہیں دیتی جیسا کہ تیسری دنیا یا بالخصوص ہمارے وطن عزیزمیں ہوتا آیا ہے کہ جمہوریت ہمیشہ سے خطرے میں ہی رہی ہے اور آمریت و جمہوریت کی آویزش اورکشمکش سے ملکی سیاست کبھی سنبھل نہ پائی۔

ادھر الیکشن کمیشن نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے ۔ ذیلی کمیٹی کے کنوینر زاہد حامد نے بتایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بائیومیٹرک تصدیقی نظام سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا جائزہ لیا گیا ۔ اسحاق ڈار نے کہا الیکشن کمیشن کو مالیاتی خودمختاری کے حوالے سے جس قدر ضروری ہوا اختیار دیں گے۔ شفاف آزادانہ انتخابات کے لیے ہر اقدام اٹھایا جائے گا۔الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کی خامیاں دور کرنے کے لیے اسٹاف میں انتظامی تبدیلیاں کی ہیں جس کے تحت مخصوص تجربے کے حامل افراد کو مخصوص ذمے داریاں سونپی گئی ہیں۔

کمیشن کے ترجمان راجہ افتخار نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں الیکشن کمیشن کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 2013 ء کے انتخابات میں سامنے آنے والی غلطیوں کو2018 ء کے انتخابات میں دہرانے کی گنجائش نہیں ہوگی، آیندہ انتخابی عمل کو بے ضابطگیوں سے پاک بنانے کے لیے4کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں ۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم کر لیا ہے اس لیے سیاسی جماعتوں کو بھی سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا چاہے اور اپنی تحریکیں واپس لے لینی چاہئیں۔

ان کی استدعا پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ تحریک کو ڈی سیٹ نہ کرنے پر وفاقی حکومت کی نرم خوئی وقت کے ہم رفتار ہے، یہی رواداری جمہوریت کی اساس ہے، چنانچہ وقت کی للکار ہے کہ انتخابی اصلاحات ایک قومی ٹاسک ہے، مستقبل کا وہ روڈ میپ ہے جس پر چل کر پاکستانی سیاست ایک شفاف انتخابی ادارہ کے قیام کی دائمیت کا جہاں یقین دنیا کو دلاسکتی ہے وہاں ہر الیکشن کے بعد میں نہ مانوں کا شور وغل کا کلچردم توڑ سکتا ہے۔

انتخابی طوائف الملوکی کا خاتمہ ہوگا، ظاہر ہے کہ جب الیکشن کے ختم ہوتے ہی نتائج پر واویلا شروع ہوجائے اور منتخب حکومت پر غیر جمہوری اور دھاندلی کے ذریعے اقتدار پر براجمان ہونے کا الزام در الزام لگ جائے تو جمہوری نظام کی استقامت اور انتخابی عمل کی صداقت پر شکوک و احتجاج کا سلسلہ کیسے رکے گا۔ لہٰذا اس کا علاج یہی ہے کہ انتخابی اصلاحات کا مشترکہ و متفقہ ''میگنا کارٹا '' قوم کو عطا کیا جائے جس پر پوری قوم مہر تصدیق ثبت کرے تاکہ آیندہ ووٹنگ و پولنگ کی رگوں سے دھاندلی اور رگنگ کا نام و نشان مٹ جائے۔