بلدیاتی الیکشن خوئے بد را بہانہ بسیار

دراصل جمہوریت کا راگ الاپنے والی تمام سیاسی پارٹیوں کے رویوں میں آمرانہ سوچ پائی جاتی ہے


Editorial July 30, 2015
جب بلدیاتی الیکشن بلوچستان کے شورش زدہ حالات میں ہوسکتے ہیں تو سیلاب کی صورتحال کے تھمنے پر انتخابی عمل بھی مکمل ہوسکتا ہے۔ فوٹو: فائل

ایک جانب تو پنجاب وسندھ کے عوام اور ان کے نمایندے بڑی بے چینی سے بلدیاتی الیکشن کے ناصرف منتظر ہیں بلکہ اس کی بھرپور تیاریاں بھی کرچکے ہیں، جب کہ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پنجاب وسندھ کا انتخابی شیڈول جاری کرنے کے بجائے سپریم کورٹ میں مزید ایک ماہ کی مہلت مانگنے کی درخواست دائر کردی ہے ۔

سیلاب کو بنیاد بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے ریٹرننگ افسران بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں لہذا مقررہ تاریخ 20 ستمبرکو بلدیاتی الیکشن کرانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس ضمن میں سندھ حکومت تو ابھی تک انتخابی قوانین بھی مکمل طور پر نہیں بنا پائی ہے۔ دراصل جمہوریت کا راگ الاپنے والی تمام سیاسی پارٹیوں کے رویوں میں آمرانہ سوچ پائی جاتی ہے، نہ جانے کیوں جمہوری حکومتیں بلدیاتی الیکشن سے فرار کا رجحان رکھتی ہیں، حالانکہ بلدیاتی ادارے جمہوریت کی بنیادی نرسری ہوتے ہیں ، جس میں نئے پودے پروان چڑھ کر تناور اور پھل دار درخت بنتے ہیں ۔

عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوتے ہیں کیونکہ بلدیاتی نمایندوں سے وہ بآسانی رابطہ کرسکتے ہیں اور ان سے اپنے مسائل کو حل بھی کروا سکتے ہیں ۔بنیادی انفرااسٹرکچر کو گزشتہ کئی برسوں میں الیکشن نہ ہونے سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ، سڑکیں اور کچے پکے راستے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے ہیں ،سیوریج اور پانی کا نظام درہم برہم ہے ، کراچی ،لاہور ، اسلام آباد ، کوئٹہ ، پشاور ، سکھر، حیدرآباد ، فیصل آباد جیسے بڑے شہروں کے رہائشی بلدیاتی نمایندوں اور اداروں کی عدم موجودگی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں جب کہ چھوٹے شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں کے مسائل کا تو شمار نہیں ۔

اس حوالے سے کسی بھی جمہوری حکومت نے بلدیاتی الیکشن نہ کروانے کا انوکھا ریکارڈ قائم کر رکھا ہے ، وہ تو بھلا ہو سپریم کورٹ کا جس نے عوامی مفادات اور ان کے مسائل کے حل کے لیے بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کو لازمی امر قرار دیا ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام تاخیری حربوں کو ناکام بنا دیا ۔فیصلے پر سب سے پہلے عمل کرنے میں صوبہ بلوچستان کی حکومت سب پر بازی لے گئی،شورش زدہ بلوچستان میں الیکشن ہوگئے ۔ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی الیکشن مرحلہ وارکرانے کے لیے بھی ایک درخواست دائرکر رکھی ہے۔ اعتراضات اور فائنل لسٹ کے لیے ابھی کئی دن درکار ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ 'سیلاب' کو بہانہ نہ بنایا جائے،ویسے بھی کہتے ہیں کہ خوئے بد را بہانہ بسیار، کل مردم شماری کا مسئلہ آجائے گا ، اسی طرح ٹال مٹول کر کے پانچ سال تک بلدیاتی الیکشن موخر ہوتے ہوئے گزر جائیں گے ۔جب بلدیاتی الیکشن بلوچستان کے شورش زدہ حالات میں ہوسکتے ہیں تو سیلاب کی صورتحال کے تھمنے پر انتخابی عمل بھی مکمل ہوسکتا ہے ۔