ملک اسحاق اور ساتھیوں کی پولیس مقابلے میں ہلاکت

شعبہ انسداد دہشت گردی نے دعویٰ کیا ہے کہ 6گرفتار ملزمان اور 8دیگر دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے


Editorial July 31, 2015
چند روز قبل ملک اسحاق اور اس کے دو بیٹوں سمیت 5 افراد کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فوٹو : فائل

AMMAN: کالعدم لشکر جھنگوی کے بانی سربراہ ملک اسحاق' دو بیٹوں اور 11 ساتھیوں سمیت مظفرگڑھ کے علاقے شاہ والا میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے۔

اخباری خبروں کے مطابق سی ٹی ڈی ملتان اور سول ڈیفنس کی ٹیم جسمانی ریمانڈ پر ملک اسحاق' ان کے دو بیٹوں عثمان' حق نواز اور ترجمان غلام رسول شاہ، تہذیب، زبیر عرف ٹڈا اور دیگر ساتھیوں کو بارود اور اسلحہ کی برآمدگی کے لیے جنگل شاہ والا لائی جہاں نشاندہی پر اسلحہ و بارودی سامان برآمد کیا جس میں بارود سے بھرے تین واٹر کولر، 8 ڈیٹونیٹر، 3 ریموٹ کنٹرول، 12 بیٹریاں، 4 ہینڈ گرنیڈ، پستول، کلاشنکوف اور 500 گولیاں شامل تھیں۔

جائے وقوعہ سے واپسی کے دوران وہاں پہلے سے موجود ان کے ساتھیوں نے ملک اسحاق اوردوسرے ملزمان کو چھڑانے کے لیے پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں ہونے والی فائرنگ میں یہ ہلاکتیں ہوئیں۔شعبہ انسداد دہشت گردی نے دعویٰ کیا ہے کہ 6گرفتار ملزمان اور 8دیگر دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے جب کہ ان کے چھ ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

مرنے والوں میں سے چند کا تعلق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے تھا اور وہ دہشتگردی کے متعدد مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔ ملک اسحاق گزشتہ 8 ماہ سے خدشہ نقص امن کے تحت ملتان جیل میں نظربند تھے۔ چند روز قبل ملک اسحاق اور اس کے دو بیٹوں سمیت 5 افراد کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔