ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت

پٹرول‘ یوٹیلٹی بلز حتیٰ کہ صابن سے لے کر تمام خوردنی اشیا تک پر عائد جنرل سیلز ٹیکس ایک عام آدمی بھی ادا کر رہا ہے


Editorial August 03, 2015
حکومت توانائی کے بحران کو ختم کرنے اور اسمال انڈسٹری کو ترقی دینے پر توجہ دے۔ فوٹو: فائل

بینک ٹرانزیکشنز پر ودہولڈنگ ٹیکس کے خلاف تاجروں کے ایک دھڑے کی کال پر ہفتہ کو ملک بھر میں جزوی ہڑتال ہوئی اور مظاہرے ہوئے جب کہ تاجروں کے دوسرے دھڑے نے ہڑتال سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے پانچ اگست کو ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔ ہڑتال کرنے والے تاجروں کا موقف تھا کہ حکومت فوری طور پر ٹیکس واپس لے اور ان کے مسائل میں اضافہ نہ کرے۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت کو نظام ریاست چلانے کے لیے کثیر سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے حصول کا بڑا حصہ ٹیکس کے نظام سے وابستہ ہے۔ ملکی اور غیر ملکی معاشی ماہرین متعدد بار اس امر کی جانب توجہ دلا چکے ہیں کہ حکومت اپنے ٹیکسیشن نظام میں موجود خرابیوں اور خامیوں کو دور کرنے کی جانب توجہ دے اور جو بااثر لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں انھیں بھی اس میں شریک کیا جائے اسی صورت میں حکومت کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومتی وزراء اور ارکان بھی متعدد بار اس امر کا اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ٹیکس اصلاحات کا نفاذ جلد ممکن بنائیں گے مگر ابھی تک بات بیانات اور دعوؤں سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ حیرت انگیز امر ہے کہ حکومت ان لوگوں پر ٹیکس کا بوجھ بڑھا رہی ہے جو پہلے ہی مختلف مدوں میں ٹیکس پر ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ناصرف تاجر حضرات' صنعتکار مختلف مدوں میں حکومت کو ٹیکس ادا کر رہے ہیں بلکہ عام درجے کے سرکاری ملازمین اور غریب سے غریب شخص بھی صارف کی صورت میں حکومت کو ٹیکس ادا کر رہا ہے۔

پٹرول' یوٹیلٹی بلز حتیٰ کہ صابن سے لے کر تمام خوردنی اشیا تک پر عائد جنرل سیلز ٹیکس ایک عام آدمی بھی ادا کر رہا ہے' ہوٹلوں میں کھانے تک پر جی ایس ٹی نافذ ہے۔ جدھر نظر دوڑائیں ٹیکس ہی ٹیکس نظر آتے ہیں کہیں وفاقی حکومت کے ٹیکس ہیں' کہیں صوبائی حکومت کے ٹیکس ہیں اور کہیں میونسپل کمیٹیوں کے ٹیکس ہیں۔ اس کے باوجود صورت حال یہ ہے کہ حکومت اپنی آمدن میں اضافے کے لیے پہلے ہی سے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے طبقے پر مزید ٹیکسوں کا پہاڑ لادنے پر مصر ہے۔ معاشی ماہرین متعدد بار حکومتی پالیسیوں کوہدف تنقید بناتے ہوئے کہتے چلے آ رہے ہیں کہ حکومت ٹیکس پر ٹیکس نافذ کرنے کے بجائے اس کے دائرے کو وسعت دے اور ان افراد کو بھی ٹیکس نیٹ میں لائے جو سرے سے ٹیکس ادا ہی نہیں کر رہے۔ حکومتی وزراء' ارکان اسمبلی کی ایک بڑی تعداد' جاگیردار' بڑے بڑے سردار اور ٹرسٹ یا تو قطعی ٹیکس ادا نہیں کرتے یا اتنا معمولی ٹیکس ادا کرتے ہیں کہ عام سرکاری ملازم بھی اس سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے جب کہ ان بااثر افراد کا طرز زندگی کسی شاہانہ انداز سے کم نہیں'یہ تمام حکومتی مراعات سے تو مستفید ہونا اپنا حق سمجھتے ہیں مگر ملکی ترقی کے لیے ٹیکس ادا کرنے پر قطعی آمادہ نہیں۔

آخر ان لوگوں کا ملکی ترقی میں کیا کردار ہے سوائے حکومتی مراعات سے فیض یاب ہونے کے۔ حکومت عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کے بجائے اپنے غیر ترقیاتی اخراجات اور اللوں تللوں میں کمی کرے' ایوان صدر' وزیراعظم ہاؤس' وزراء اعلیٰ ہاؤسز اور ارکان اسمبلی کو ملنے والی مراعات میں خاطر خواہ کمی کی جائے تو حکومتی آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس کے نظام میں موجود سقم کے باعث ٹیکس چوری کا رجحان بھی عام ہے جس میں بڑے بڑے صنعتکاروں اور کاروباری افراد کے علاوہ سرکاری افسران بھی برابر کے حصہ دار ہیں۔ ٹیکس چوری کے گر بھی متعلقہ سرکاری افسران ہی بتاتے ہیں۔ حکومت ملک میں روز گار اور صنعتی ترقی کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرے تو اس سے حکومت کی ٹیکس آمدن میں خود بخود اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ صورت حال یہ ہے کہ توانائی کے بحران اور پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث صنعتی عمل کی رفتار سست ہو چکی ہے جس سے بے روز گاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ زرعی شعبہ زوال پذیر ہے' چھوٹا کسان غربت کا شکار ہے۔

حکومت توانائی کے بحران کو ختم کرنے اور اسمال انڈسٹری کو ترقی دینے پر توجہ دے۔ کھیلوں' میلوں اور مختلف قسم کے ثقافتی پروگراموں کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے اس سے بھی تجارتی سرگرمیاں بڑھتی اور ٹیکس کی صورت میں حکومت کی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر ٹیکس پر ٹیکس عائد کیے جاتے رہیں گے تو اس سے ٹیکس سے بچاؤ کے چور راستوں میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور صارفین ٹیکس بچانے کے لیے مختلف غیر قانونی راستے تلاش کریں گے جس سے حکومت کی آمدن میں اضافہ کے بجائے کمی ہو گی اور آمدن بڑھانے کی پالیسی ناکامی سے دوچار ہو گی۔ بہتر ہے کہ حکومت ٹیکسوں کے بوجھ میں اضافہ کرنے کے بجائے ٹیکس اصلاحات نافذ کرے اس کے دائرے میں وسعت پیدا کرے۔ تاجروں' مینو فیکچررز' پروفیشنلز' بڑے زمینداروں اور گدی نشینوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دیانتداری سے ٹیکس ادا کریں دوسری جانب ودہولڈنگ ٹیکس کے مسئلہ پر حکومت تاجر برادری کے موقف پر بھی توجہ دے۔