بلوچستان میں القاعدہ کمانڈر کی ہلاکتاہم کامیابی

اب سیکیورٹی اداروں کو بلوچستان بالخصوص افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کا نظام مزید سخت کرنا ہو گا


Editorial August 04, 2015
القاعدہ نے اپنی کارروائیوں کے لیے خواتین کا ایک مضبوط ونگ بھی تیار کر رکھا ہے یہ صورت حال سیکیورٹی اداروں کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں، فوٹو: آئی این پی

بلوچستان کے پاک افغان سرحدی علاقے چاغی میں حساس اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی مشترکہ کارروائی کے دوران مقابلے میں بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں القاعدہ کی سربراہی کرنے والا اہم کمانڈر عمر لطیف عرف لقمان ہلاک ہو گیا ، اس کی بیوی اور دو بچوں کو حراست میں لے لیا گیا جب کہ اس کا بھائی بلال فرار ہو گیا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز احمد بگٹی نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ عمر لطیف دہشت گردی کی سنگین کارروائیوں میں ملوث رہا ہے اس کے خلاف گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی سمیت مختلف دفعات پر مشتمل چھ مقدمات درج ہیں جب کہ وہ اور اس کا بھائی بلال لطیف مختلف پولیس تھانوں' پاک فوج کے کیمپ' اقلیتوں کی عبادت گاہوں' پولیس و ملکی حساس تنصیبات' اعلیٰ شخصیات کے اغواء برائے تاوان' ریلوے چوکی تھانہ گوجرانوالہ بم دھماکا' پولیس ریسٹ ہاؤس پر بم دھماکا' ڈی آئی جی آفس گوجرانوالہ بم دھماکا اور دیگر کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

پنجاب حکومت نے عمر لطیف کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی' القاعدہ نے اس کے ذمے کوئٹہ اور افغانستان میں لاجسٹک سہولیات کی فراہمی کا ہدف دیا تھا' وہ اپنی کارروائیوں کو پوشیدہ رکھنے کے لیے اہل خانہ کے ہمراہ تقریباً دس ماہ قبل افغانستان کے صوبہ نمروز سے بلوچستان منتقل ہوا تھا اور چاغی میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ کافی عرصے سے مختلف حلقوں کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے دوران دہشت گردوں کی آماجگاہیں تباہ ہونے کے بعد وہ ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص بلوچستان کی جانب فرار ہو گئے وہاں انھوں نے اپنے خفیہ اڈے قائم کر لیے اور ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں کو وہ وہاں سے کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کو بلوچستان کے اندر بھی بھرپور توجہ دینا ہو گی۔

اب القاعدہ کمانڈر عمر لطیف کی ہلاکت سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ دہشت گردوں نے بلوچستان کو اپنی خفیہ پناہ گاہ بنا لیا ہے اور ان کے رابطے افغانستان میں ہیں۔ اب سیکیورٹی اداروں کو بلوچستان بالخصوص افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کا نظام مزید سخت کرنا ہو گا تاکہ دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

میر سرفراز احمد بگٹی نے بتایا کہ دہشت گرد عمر لطیف کی بیوی طیبہ عرف فریحہ باجی جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں القاعدہ خواتین گروپ کی سربراہی کرتی جو اپنے اہداف کے حصول کے لیے ریکی کے امور سرانجام دیتی تھی اور اس کے سر کی قیمت پانچ لاکھ روپے مقرر تھی۔ اس سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ القاعدہ نے اپنی کارروائیوں کے لیے خواتین کا ایک مضبوط ونگ بھی تیار کر رکھا ہے یہ صورت حال سیکیورٹی اداروں کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں، اب انھیں دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس نظام کو بھی موثر بنانا ہو گا۔