پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین 3 ماہ سے تنخواہوں سے محروم

تاحال 80 فیصد ملازمین تنخواہوں کی ادائیگی سے محروم ہیں


Staff Reporter October 18, 2012
ملازمین نے صدر، وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تنخواہیں فوری ادا کی جائیں. فوٹو : فائل

وفاقی حکومت کے ماتحت اداروں کے ملازمین کی رہائشی کالونیوں اور دیگر اداروں کی تعمیرات اور مرمت کے ادارے پاکستان پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پاک پی ڈبلیو ڈی) کے سندھ بھر کے ملازمین گذشتہ تین ماہ کی تنخواہوں سے محروم ہیں۔

جس کی وجہ سے ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے، دکانداروں نے ادھار راشن دینے سے انکار کر دیاہے ،اسکولوں سے ان کے بچوں کے نام کاٹ دیے گئے ہیں ،ملازمین کا کہنا ہے کہ تنخواہیںنہ ملنے کی وجہ سے وہ رمضان المبارک کے ساتھ عیدالفطر کی خوشیاں نہیں مناسکے، اب تنخواہیںنہ ملنے کی وجہ عیدالاضحی پر سنت ابراہیمی کی ادا نہیں کرسکیں گے،ملازمین نے صدر، وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی تنخواہیں فوری ادا کی جائیں ورنہ کراچی پریس کلب کے باہر عیدالاضحی سے قبل احتجاجی کیمپ لگایا جائے گا اور غیر معینہ مدت تک بھوک ہڑتال کی جائیگی۔

پاک پی ڈبلیو ڈی کے سندھ میں ملازمین کی تعداد 2 ہزار سے زائد ہے اور اس ادارے کے ملازمین اگست، ستمبر اور اکتوبر کی ایڈوانس تنخواہوں سے تاحال محروم ہیں،پاک پی ڈبلیو ڈی اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے، اس حوالے سے پاک پی ڈبلیو ڈی ورکرز یونین کے صدر خورشید احمد نے بتایا کہ گزشتہ چار سال سے پاک پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین کو تنخواہیں تاخیر سے مل رہی ہیں اور ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگیوں میں تین سے چار ماہ کا وقفہ آرہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں ہمارے 22 سو سے زائد ملازمین ہیں اور پاک پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین سے وفاقی وزارت خزانہ سوتیلی ماں کا سلوک کررہی ہے اور ہمارے ادارے کو فنڈز جاری نہیں کیے جارہے ہیں، انھوں نے بتایا کہ اسں صورتحال کے بارے میںو فاقی وزیر ورکس رانا آصف توصیف کو آگاہ کردیا گیا اور ان کی فوری مداخلت کے باعث 20 فیصد ملازمین کو ماہ اگست کی تنخواہ کی ادائیگی کی گئی لیکن تاحال 80 فیصد ملازمین تنخواہوں کی ادائیگی سے محروم ہیں، انھوں نے بتایا کہ اگر عیدالاضحی سے قبل پاک پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں تو دفاتر میں تالہ بندی کی جائے گی۔