عسکریت پسند ہتھیار پھینک دیں عام معافی کا اعلان کرتا ہوں رحمن ملک

ظالمان پاکستان واسلام کے خیرخواہ نہیں،ان کے حامیوں کابھی پتہ چلناچاہیے،شمالی وزیرستان آپریشن کافیصلہ فی الحال نہیں ہوا


APP/Numainda Express October 18, 2012
ناراض بلوچوں سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنائی جائے،تعاون کرینگے،پولیس مقابلوں کی تفصیلات طلب کرلیں،سینیٹ میںخطاب، گفتگو۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

وزیرداخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں فی الحال آپریشن کا فیصلہ نہیں ہوا۔

کوئی بھی فیصلہ سیاسی اور فوجی قیادت مل کر کرے گی، ظالمان اسلام اور پاکستان کے دوست نہیںہوسکتے،ہتھیارپھینک دیں توبات کرنے کیلیے تیار ہیں، بچوں کو دہشت گردی کی طرف مائل کیا جارہا ہے ، وہ یہ کام چھوڑدیں توان کو روزگار دیا جائے گا ، ان کیلیے عام معافی کااعلان کرتاہوں، پاکستان کی سلامتی کیلیے کہیں بھی جاسکتا ہوں، دہشت گردی کا خاتمہ کر کے رہیںگے، طالبان کے حامیوں کا بھی پتہ چلنا چاہیے ،ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز پر ان کیمرہ بریفنگ دینے کوتیار ہوں۔

بدھ کو سینیٹ میںاظہارخیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے سر کی قیمت 10 کروڑروپے مقررکردی ہے، اس کی تصویر مل گئی ہے ، اس کومشتہر کردیں گے ، حکیم اللہ محسوداب منظر سے غائب ہے ،لگتا ہے فضل اللہ کو طالبان کا سربراہ بنایا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ طالبان نے نوجوانوں کو اپنے قبضے میں رکھا ہواہے اور تنخواہ پر ان سے کام لیتے ہیں، ہم ایسے نوجوانوں کو بہترین تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کیلیے تیار ہیں ، اس کے علاوہ پہاڑوں پر رہنے والوں کیلیے بھی ہتھیار پھینکنے پر عام معافی کا اعلان کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی کوصدر کی ہدایت پر بہتر علاج کیلیے برطانیہ بھجوایا گیاہے ، اس کی صحت بہتر ہورہی ہے۔ مختلف نکتہ اعتراض کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اسلحہ لائسنسوںکے اجرا کے حوالے سے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر رہے ہیں، دشمن بلوچستان میں عدم استحکام کیلیے سازش پر عمل پیراہے، ایک ایک کمیونٹی کوٹارگٹ کر کے ان کوحکومت کے خلاف اکسایا جاتا ہے ،چیئرمین سینیٹ حربیار،براہمداغ اورخان آف قلات سے مذاکرات کیلیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دیں، حکومت سہولت فراہم کرے گی۔

بلوچستان میں قومی پرچم ماننے والوں سے بات چیت کیلیے تیار ہیں، بلوچستان کے حوالے سے آئندہ چار ماہ اہم ہیں، ڈاکٹر سعید خان کو کسی ایجنسی نے نہیں اٹھایا، خود جا کر بلوچستان میں بیٹھوں گا اور وزیر اعلیٰ کے ساتھ مل کر حالات کی بہتری کیلیے اقدامات کیے جائیں گے۔ پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ تمام صوبوں سے پولیس مقابلوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں، دریں اثناء وزیرداخلہ سے امریکا کے پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری برائے جنوبی وسطی ایشیا جیفری آر پیت نے ملاقات کی۔