کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر اختلافات ہیں تو وفاق اپنا کردار ادا کرے لاہور ہائیکورٹ

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی فریقین کو ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل کے کردار پر بحث کی ہدایت


Numainda Express October 18, 2012
اسلام و قانون کسی انسان کو قید کر کے جبری مشقت لینے کی اجازت نہیں دیتا، جسٹس یاور،46 بھٹہ مزدوروں کی بازیابی و رہائی۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران قراردیاہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے اگر صوبوں میں اختلافات ہوں تو وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے اپناکردار ادا کرے۔

فاضل جج نے مزید سماعت19 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کے وکلا کو ہدایت کی کہ وہ اس نکتے پر بحث کریں کہ آیا عدالت کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل کو کوئی ہدایات جاری کرسکتی ہے یا نہیں۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے اے کے ڈوگر اور محمد اظہر صدیق ایڈوکیٹس کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے روبرو درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ملک کی معشیت کو مظبوط بنانے اور توانائی کے بحران کے حل کے لیے کالا باغ ڈیم کی تعمیر بہت ضروری ہے مگر اس منصوبے کوسیاست کی نظر کر دیا گیا ہے۔ درخواستوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تین صوبے کالا باغ ڈیم کی تعمیرکے لیے قراردادیں منظورکرچکے ہیں۔

دریں اثنا لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس یاورعلی نے قرار دیا ہے کہ اسلام اور قانون کسی انسان کو قید کر کے اس سے جبری مشقت لینے کی اجازت نہیں دیتا، ایسا کرناسنگین جرم ہوتا ہے اورعدالت ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ فاضل جج نے یہ ریمارکس نارووال کے علاقے ظفر وال سے عورتوں ، بچوں سمیت 46 بھٹہ مزدوروں کو بھٹہ مالک کی قید سے بازیاب کراکے آزاد کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے دیے۔