سپر ہائی وے مویشی منڈی بدستور دب انتظامی کا شکار

مہنگے داموں زمین نہ خریدنے والے اندرون ملک سے آنیوالے بیوپاریوں کے جانوروں کو ولایت شاہ ٹائون کے قریب اتارا جا رہا ہے


Staff Reporter October 19, 2012
مویشی منڈی میں انتظامیہ کی جانب سے قربانی کے جانوروں کو باہر لے جانے پر بھی فیس وصول کرنے پر شہریوں میں اشتعال پایا جاتا ہے ۔ فوٹو : آن لائن

عیدالاضحیٰ کے موقع پر سپر ہائی وے پر قائم کی جانے والی قربانی کے جانوروں کی مویشی منڈی بدستور بدانتظامی کا شکار ہے ۔

تفصیلات کے مطابق عیدالاضحیٰ کے موقع قربانی کے جانوروں کے لیے سپر ہائی وے پر قائم کی جانے والی مویشی منڈی انتظامیہ کی عدم دلچسپی اور غفلت کے باعث بدستور بدانتظامی کا شکار ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ قربانی کے جانور لیکر مویشی منڈی پہنچنے والے بیوپاریوں سے فی جانور 800 روپے ٹیکس وصول کرنے کے بعد جب وہ منڈی میں داخل ہوتے ہیں تو مویشی منڈی کی زمین فروخت کرنے والوں کے ایجنٹ ان سے رابطہ کر کے اچھی جگہ فراہم کرنے کے عوض بھاری رقم کا مطالبہ کرتے ہیں اور ایسے بیوپاری جو ان کی مطلوبہ رقم ادا نہیں کر سکتے انھیں سب سے آخرمیں ولایت شاہ ٹائون کی جانب بھیج دیا جاتا ہے جہاں نہ تو بجلی ہے اور نہ ہی پانی سمیت دیگر سہولت موجود ہے لہذا بیوپاری نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں پر اپنے جانور اتارنے پر مجبور ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جو بیوپاری مویشی منڈی کی زمین فروخت کرنے والوں کو منہ مانگی رقم ادا کر بھی دیں تو بعدازاں انھیں ڈھونڈتے ہی رہتے ہیں اور بالآخر کہیں بھی مناسب سی جگہ دیکھ کر اپنے جانوروں کو اتار لیتے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ رقم وصول کرنے والوں کو بھی منڈی میں تلاش کرتے رہتے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ مویشی منڈی میں زمین دلانے کے عوض لاکھوں روپے بیوپاریوں سے بٹورے جا چکے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ بیوپاری اپنا نقصان پورا کرنے کے لیے جانوروں کی قیمت بڑھا دیتے ہیں جس کے باعث قربانی کے جانور شہریوں کی دسترس سے باہر نکلتے جا رہے ہیں اور شہر کے دیگر علاقوں میں لگنے والی مویشی منڈی میں قربانی کے جانوروں کی مناسب قیمت کی وجہ سے ان منڈیوں میں خریداروں کا رش بڑھ رہا ہے اور شہری وہاں سے اپنی پسند کا مناسب قیمت میں جانور خرید کر گھر لیجا رہے ہیں۔

سپرہائی وے پر قائم مویشی منڈی میں خریدے گئے جانور کو گاڑی پر چڑھانے کے عوض200روپے طلب کیے جا رہے ہیں جس کے بارے میں انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے قربانی کے جانوروں کو آرام اور احتیاط کے ساتھ گاڑی پر چڑھانے کے لیے مختلف مقامات پر چڑھائی (ریمپ) بنائے ہیں جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جانور کو مویشی منڈی سے باہر لیجاتے ہوئے شہریوں میں اور200روپے وصول کرنے والوں میں تکرار روز کا معمول بن گیا ہے، شہریوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر جانور کے مویشی منڈی سے باہر لیجانے کے نام پر وصول کیے جانے والے بھتے کو فوری طور پر بند کرایا جائے۔