آسٹریلوی بھیڑوں کی تلفی کیخلاف مقدمے کی ڈرامائی واپسی یہ اچھا نہیں ہو رہا سندھ ہائیکورٹ

ایک دن پہلے بھیڑیں خریدنے کی حکومتی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد اچانک درخواست واپس لینے پرسب حیران رہ گئے


Staff Reporter October 19, 2012
کوئی دباؤ ہے تو بتایا جائے، ہائیکورٹ کی پیشکش، درخواست گزار کو تحفظ دینے کا حکم، مزید مشاورت کی ضروت نہیں، عدنان میمن کا جواب۔ فوٹو: فائل

درآمد شدہ آسٹریلین بھیڑوں کے متعلق سندھ ہائیکورٹ میں مقدمہ جمعرات کو غیر متوقع طور پر ڈرامائی انجام کو پہنچا اور بھیڑوں کے امپورٹر نے بھیڑوں کی تلفی کے خلاف اپنی درخواست واپس لے لی۔

درخواست گزار طارق بٹ کے وکیل کی جانب سے درخواست واپس لینے کی اجازت طلب کرنے پر عدالت سمیت ہرشخص حیران رہ گیا، برطانیہ کی لیبارٹری سے بھیڑوں کو انسانی صحت کے لیے درست قرار دینے کے بعد بھیڑوں پر اعتراض خاصی حد تک دم توڑ چکا تھا اور بدھ کو حکومت سندھ کی جانب سے بھیڑوں کی درآمدی قیمت اور ان پر عائد ٹیکسز سمیت تمام واجبات ادا کرنے کی پیشکش بھی درخواست گزار نے مسترد کردی تھی تاہم بدھ اور جمعرات کی شب اچانک ایسی تبدیلی رونما ہوئی کہ درخواست گزار کے وکیل عدنان میمن ایڈووکیٹ نے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو درخواست واپس لینے کی اجازت طلب کی۔

انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل نے انھیں واضح ہدایات دی ہیں کہ عدالت عالیہ سے درخواست واپس لے لی جائے، بینچ نے اس درخواست پر فوری فیصلہ دینے کے بجائے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اپنے مؤکل سے مزید مشاورت کرلیں اور اگر ان پر کوئی دباؤ ہے تو عدالت عالیہ کو آگاہ کیا جائے۔ عدالت رینجرز کا تحفظ دینے سمیت ہرطرح سے مدد کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب عدالت نے حکومت سندھ کے وکیل انور منصور خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں کیونکہ جو کچھ ہورہا ہے وہ اچھا نہیں ہے۔

واضح رہے کہ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والے مقدمے کی سماعت کے موقع پر درخواست گزار طارق بٹ ذاتی طور پر موجود رہتے تھے تاہم جمعرات کو وہ عدالت میں نہیں آئے۔ بینچ نے درخواست گزار کے وکیل کو پیشکش کی کہ وہ تحریری یا زبانی جس طرح مناسب سمجھیں عدالت کو صورتحال سے آگاہ کریں۔ عدالت درخواست گزار کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہرممکن اقدام کریگی تاہم عدنان میمن ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ میرے ہاتھ بھی بندھے ہیں اور زبان بھی بند ہے، اس لیے مزید مشاورت کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے مؤکل کی ہدایت پر ہرقیمت پر یہ درخواست واپس لینا چاہتے ہیں۔

انور منصورخان نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے فارم پر جو اہلکار اور بھاری مشنری موجود ہے وہ کوئی خلاف قانون کارروائی نہیں کرے گی، اس کے باوجود عدنان میمن ایڈووکیٹ نے درخواست کی سماعت میں دلچسپی ظاہر نہیں کی اور درخواست واپس لینے پر زور دیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل منیر الرحمٰن، ایڈووکیٹ جنرل اور محکمہ لائیو اسٹاک کے وکیل انورمنصور خان نے درخواست واپس لینے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ بینچ نے آسٹریلیاسے درآمد کی گئی بھیڑوں کی تلفی کے خلاف دائردرخواست واپس لینے پر خارج کرتے ہوئے حکومت کو درخواست گزارطارق محمود بٹ کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے مدعا علیہان چیف سیکریٹری، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ درخواست گزار اور ان کے اہل خانہ کوتحفظ فراہم کیا جائے اور ان کی املاک کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔