کلاسیکی رقص جس کی جمالیاتی کشش آج بھی پہلے کی طرح برقرار ہے

تاریخی عمارتیں جہاں سنہرے دورکی عکاسی کرتی ہیں وہیں کلاسیکل رقص بھی ماضی کی خوبصورت یادوں کوتازہ کر دیتا ہے۔


Qaiser Iftikhar October 21, 2012
نمرین بٹ۔ فوٹو: ایم افضل

ثقافت اورفن کسی بھی قوم اورملک کی شناخت ہوتے ہیں۔

تاریخی عمارتیں جہاں سنہرے دورکی عکاسی کرتی ہیں وہیں کلاسیکل رقص بھی ماضی کی خوبصورت یادوں کوتازہ کر دیتا ہے۔ ویسے تورقص کے جدید اندازدنیا بھرمیں متعارف ہوچکے ہیں مگرآج بھی برصغیرکی پہچان بننے والا کلاسیکی رقص اپنی انفرادیت قائم رکھے ہوئے ہے ۔ راجا، مہاراجا کے درباروں میں سجنے والی محفلوں میں جہاں گائیک اپنے سُروں سے سماں باندھتے تھے وہیںکلاسیکل رقص محفل کوچارچاند لگا دیتا تھا۔

رقص کے لیے زرق برق لباس، بالوں میں جھومر، پیروں میں پازیب، مہندی، گجرے سے سنگھار ہوتا تھا۔ رقاصائیں کلاسیکل رقص فن میں مکمل مہارت رکھتی تھیں۔ ماضی کے ایسے ہی سنہرے دورکی عکاسی کرنے کے لئے لاہورکے شاہی قلعہ کی خوبصورت لوکیشن پرمعروف ماڈل اور رقاصہ نمرین بٹ نے '' ایکسپریس میگزین '' کیلئے فوٹوشوٹ کرایا۔ اس موقع پر نمرین کا کہنا تھا کہ کلاسیکل رقص میں مہارت کے ساتھ ہار، سنگھار، ملبوسات بہت ضروری ہیں جو اس فن کی انفرادیت اورماضی کی یاد کوتازہ کرنے میں اہم کرداراداکرتے ہیں۔