آٹو پالیسی مراعات ایف بی آر اور ای ڈی بی ایک پیج پر نہ آسکے

ریونیوبورڈکی موجودہ کمپنیوں کونئی سرمایہ کاری پرٹیکس چھوٹ ورعایتوں کی مخالفت، صرف نئی فرمزکومراعات پرآمادہ


Irshad Ansari September 08, 2015
نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے کیلیے رواں ہفتے دوبارہ اجلاس ہوگا۔ فوٹو: اے پی پی/فائل

ایف بی آر نئی 5سالہ آٹو موٹیو ڈیولپمنٹ پالیسی کے تحت ملک میں پہلے سے گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ کرنیوالی کمپنیوں کو نئی سرمایہ کاری پر ٹیکسوں و ڈیوٹیوں میں کسی بھی قسم کی سہولت دینے کی مخالفت کردی ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایف بی آرنے نئی آٹو پالیسی 2015-20پر تحفظات کا اظہار کیااور آٹوسیکٹر میں نئی سرمایہ کاری پر ڈیوٹی و ٹیکسوں میں رعایت سمیت دیگر مراعات کی تجویز سے عدم اتفاق کرتے ہوئے موجودہ کمپنیوں کو پاکستان میں نئی سرمایہ کاری پر کوئی رعایت دینے کی مخالفت کی جبکہ مقامی سطح پر تیار ہونے یا نہ ہونے والے آٹوپارٹس پر سنگل ڈیجٹ کی رعایتی کسٹمز ڈیوٹی کی بھی مخالفت کردی ہے۔

تاہم انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے پاکستان میں آٹو موٹیو ڈیولپمنٹ کے لیے نئی سرمایہ کاری کرنے والے کٹیگری اے کے سرمایہ کاروں کو کاروں اور ایل سی ویز کی تیاری کیلیے ابتدائی طور پر 2 سال آٹو پارٹس کی درآمد پر10فیصد رعایتی کسٹمز ڈیوٹی کی تجویز دی ہے جبکہ تیسرے سال ایسے پارٹس جن کی مقامی سطح پر تیاری شروع نہیں کی گئی ہوپر کسٹمز ڈیوٹی کی شرح 35 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ رکشا، ٹرک، بسوں اور ٹریکٹرز کی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے لیے بھی ڈیوٹی و ٹیکسوں کی یہی سہولتیں فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے 5سالہ آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ پالیسی 2015-20 کے تحت ملک میں800 سی سی اور اس سے زائد کی مسافر گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کرنے والی نئی کمپنیوں کو پلانٹس، مشینری و دیگر آلات کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی 100 فیصد چھوٹ دینے کی تجویز کی حمایت کی ہے ۔

جبکہ مقامی سطح پر تیار نہ ہونے والے سی کے ڈی پارٹس 4 سال تک 10 فیصد کسٹمزڈیوٹی اور مقامی سطح پر تیار ہونے والے سی کے ڈی پارٹس 3 سال کیلیے 25 فیصد کی کسٹمز ڈیوٹی، 800 سی سی سے کم کی کاروں کیلیے تمام پارٹس 3 سال تک 10 فیصد کی رعایتی کسٹمز ڈیوٹی پر درآمد اور موجودہ آٹو مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو موجودہ کاروباری یونٹس میں توسیع کیلیے نئی سرمایہ کاری پر ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں مراعات دینے کی مخالفت کردی ہے۔ نئی آٹو پالیسی کو حتمی شکل دینے کیلیے رواں ہفتے دوبارہ اجلاس ہوگا۔