نواز شریف کیخلاف پیسے لینے کا کوئی ثبوت نہیں ن لیگ

تحقیقات میں شامل ہونگے،ملوث افرادکیخلاف کارروائی ہونی چاہیے،پرویز رشید،مشاہداللہ


Numainda Express October 20, 2012
تحقیقات میں شامل ہونگے،ملوث افرادکیخلاف کارروائی ہونی چاہیے،پرویز رشید،مشاہداللہ. فوٹو: آئی این پی/فائل

مسلم لیگ(ن) کے ترجمان سینیٹر پرویز رشید نے کہاہے کہ اصغرخان کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ پیپلزپارٹی سازشی عناصرکے ہاتھ کی چھڑی اورجیب کی گھڑی رہی ہے۔

اپنے ردعمل میں انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں تین افرادکوسازش کے بنیادی کردارقراردیاگیاہے، ان تینوںکے ساتھ پیپلز پارٹی کے بہترین تعلقات رہے ہیں۔ غلام اسحاق خاں نے 18 اکتوبر 1993کومحترمہ بینظیربھٹوکی تائید وحمایت کے ساتھ نوازشریف حکومت ختم کی اورآصف زرداری کوعبوری حکومت میں وفاقی وزیر بنایا۔جنرل اسلم بیگ کوپیپلزپارٹی کی حکومت نے تمغہ جمہوریت سے اورجنرل اسددرانی کو سفارت سے نوازا،کیا پیپلزپارٹی بتائے گی کہ اس نے سازشیوں پریہ عنایات کن قومی خدمات کے عوض کیں ؟سازشیوں اورپیپلز پارٹی میں اس دو طرفہ محبت کا سبب کیا تھا ؟۔

انھوں نے یاد دلایا کہ 1988میں آئی جے آئی بنی تواس کے بانی صدر غلام مصطفیٰ جتوئی تھے اور 1990کے جن انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایاجاتاہے وہ بھی نگران وزیراعظم جتوئی صاحب نے کرائے تھے۔آئی این پی کے مطابق مسلم لیگ(ن) کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹرمشاہداللہ نے اپنے ردعمل میں کہاکہ صرف 1990نہیں ہرالیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے' پیپلزپارٹی نے بھی 5کروڑ روپے لیے تھے'نواز شریف کے خلاف پیسے لینے کاکوئی ثبوت نہیں اورہم نے اس الزام کی تردیدکی ہے' عدالتی فیصلہ تاریخ ساز ہے جبکہ (ن)لیگ پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں' ثنا نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ حکومت جنرل (ر) اسلم بیگ اور جنرل (ر) اسد درانی کے خلاف کارروائی کرے، ایف آئی اے اگر تحقیقات کرے گی تو اس میں شامل ہوںگے جنھوں نے الزامات لگائے وہ ثابت بھی کریں، جن سیاستدانوں نے پیسے لیے ان کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے۔