گلشن اقبال بنگلے میں ڈکیتی کرنیوالے 4خطرناک ڈاکو ہلاک

ڈسکو بیکری کے قریب ڈاکٹر خورشید کے بنگلے میں ڈاکو صبح7بجے داخل ہوئے، اہلخانہ کو یرغمال بنالیا.


Staff Reporter October 21, 2012
گلشن اقبال ڈسکوبیکری کے قریب بنگلے میں ڈاکوئوںکومقابلے میں ہلاک کرنے والے پولیس اہلکارکوعوام نے خوشی میں کندھے پراٹھایاہواہے۔ فوٹو : محمد عظیم / ایکسپریس

گلشن اقبال میں لیڈی ڈاکٹر کے گھر میں ڈکیتی کے دوران پولیس مقابلے میں انتہائی خطرناک4ڈاکو مارے گئے۔

جبکہ باہر پہرا دینے والے ڈاکوئوں کے 2ساتھی پولیس کو دیکھ کر فرار ہو گئے، پولیس نے ڈاکوئوں کے قبضے سے لوٹے ہوئے لاکھو روپے مالیت کے طلائی زیورات، نقد رقم، موبائل فون اور اسلحہ برآمد کر لیا، پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں مارے جانے والے ایک ڈاکو شوکت لاشاری کے سر کی قیمت حکومت سندھ نے5لاکھ روپے مقرر کی تھی، تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال ڈسکو بیکری کے قریب بلاک4میں واقع لیڈی ڈاکٹر خورشید فاطمہ زوجہ سید صمد کے بنگلہ نمبرD-1میں صبح سوا7بجے 4 مسلح ڈاکو گھر میں کام کرنے والی ماسی سمیرا کی مدد سے داخل ہوئے اور گھر والوں کو یرغمال بنانے کے بعد باتھ روم میں بند کر دیا۔

ماسی حسنہ عرف سمیرا ڈاکوئوں کے اندر داخل ہوتے ہی دروازے سے فرار ہوگئی،ڈاکوئوں نے ڈاکٹر خورشید فاطمہ کے بیٹے مدثر کواپنے ہمراہ رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور لوٹ مار شروع کردی، ڈاکو ابھی لوٹ مار میں مصروف تھے کہ بنگلے کی بالائی منزل پر واقع ڈاکٹر خورشید کی کلینک پر کام کرنے والی خاتون حنا کے شوہر محمد صحالین نے ڈاکوئوں کو بنگلے میں داخل ہو تے ہوئے دیکھ کر مدد گار 15پولیس کو اطلاع کردی اور 10 منٹ کے اندر پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی، اتنے میں ڈاکوئوں کو بھی علم ہو گیا کہ بنگلے کے باہر پولیس پہنچ گئی ہے۔

پولیس محمد صحالین کی مدد سے بنگلے میں داخل ہوئی تو ڈاکوں نے بنگلے کے ایک کمرے میں ڈاکٹر خورشید کے بیٹے مدثر کو یرغمال بنا لیا اور کمرے کادروازہ اندر سے بند کر لیا جس پر پولیس نے ڈاکوئوں کو ہتھیار پھینک کر کمرے سے باہر آنے اور یرغمال بنائے گئے مدثر کو رہا کرنے کا کہا لیکن ڈاکوئوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی جس پر پولیس نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کمرے کی 2جانب بنی کھڑکیوں سے جوابی فائرنگ کر کے چاروں ڈاکوں کو موقع پر ہی ہلاک کردیا، دو طرفہ فائرنگ میں ڈاکوں کے زیر حراست مدثر محفوظ رہا، پولیس نے ڈاکوں کے قبضے سے لوٹے ہوئے طلائی زیورات جس میں 3سونے کے لاکٹ،2سونے کی چین،ایک سونے کا کڑا،کانوں کی بالیاں،4چاندی کی چوڑیاں، راڈو گھڑی، گلو بند،3موبائل فون، نقد رقم، برقع، لیڈیز چپل اور3ٹی ٹی پستول برآمد کر لیں۔

پولیس کے مطابق مارے جانے والے ڈاکوں کی شناخت شوکت لاشاری ولد صاحب خان عرف صابو ، دلدار علی ولد بنگل خان مری، فیاض احمد چنہ عرف بھوری چنہ ولد پنجل اور اعجاز منگجو کے نام سے ہوئی ہے، انھوں نے بتایا کہ ڈاکوئوں کا تعلق اندرون سندھ ضلع نو شہرو فیروز، غازی خان لاشاری مہراب پور، اورکنگری پیر جو گوٹھ ڈسٹرک خیر پور سے ہے، ایس ایچ او تھانہ گلشن اقبال رانا حسیب نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت سندھ نے مارے جانے والے ڈاکو شوکت لاشاری کے سر کی قیمت5 لاکھ روپے مقرر کی تھی، انھوں نے بتایا کہ پولیس نے ماسی حسنہ عرف سمیرا کی تلاش شروع کردی ہے جسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا، ڈاکٹر خورشید فاطمہ کے گھر میں ہونے والی ڈکیتی کی اطلاع ملتے ہی پڑوسیوں کی بڑی تعداد ان کے گھر پہنچ گئی۔

پڑوسی خاتون عائشہ نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے گھر میں بھی ڈکیتی ہوئی تھی اور اس میں بھی یہی گروہ ملوث تھا، ان کا کہناتھا کہ مارا جانیوالا گروہ گلشن اقبال بلاک4میں خوف کی علامت بنا ہوا تھا،علاقہ مکینوں نے پولیس کارروائی پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ پولیس مقابلے کوکار نامہ قرار دے رہی ہے، دوسری جانب ڈاکوئوں کے مارے جانے کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں علاقہ مکین لیڈی ڈاکٹر کے گھر کے باہر جمع ہو گئے اور مقابلے کرنے والے پولیس اہلکاروں کو کندھوں پر اٹھا کر خوشی کا اظہار کیا اور پولیس کے حق میں نعرے بازی کی۔