شناختی کارڈ طلب کرنے پر ماسی ٹال مٹول سے کام لے رہی تھی

سمیرا پر شک تھا، دوران کام بھی موبائل فون پر باتیں کرتی رہتی تھی، ڈاکٹر خورشید.


Staff Reporter October 21, 2012
سمیرا پر شک تھا، دوران کام بھی موبائل فون پر باتیں کرتی رہتی تھی، ڈاکٹر خورشید. فوٹو : فائل

گلشن اقبال میں بنگلے میں ہونے والے پولیس مقابلے کے بعد بنگلے کی مالکن لیڈی ڈاکٹر خورشید فاطمہ نے بتایا کہ وہ کئی روز سے گھر میں کام کرنے والی ماسی سے قومی شناختی کارڈ طلب کر رہی تھیں۔

لیکن ماسی ہمیشہ بہانہ بنا کر ٹال دیا کرتی تھی ،تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال بلاک4میں واقع بنگلے میں ڈکیتی کی واردات کے دوران مقابلے کے بعد بنگلے کی مالکن لیڈی ڈاکٹر خورشید فاطمہ نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ30برس سے گھر میں اپنا کلینک چلا رہی ہیں اور انھوں نے پندرہ روز قبل ہی اپنے گھر میں کام کاج کے لیے نئی ماسی حسنہ عرف سمیرا کو رکھا تھا اور وہ کئی دنوں سے ماسی سے قومی شناختی کارڈ طلب کر رہی تھیں لیکن ماسی ہمیشہ بہانہ بنا کر ٹال دیا کرتی تھی۔

انھوں نے کہا کہ گھر والوں کو ماسی پر شک تھا کیوں کہ جس دن سے وہ کام کرنے آئی تھی کسی سے موبائل فون پر باتیں کرتی رہتی تھی اور آج بھی وہ وقت سے پہلے ہی گھر کا کام کرنے آگئی تھی، انھوں نے بتایا لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات ڈاکوئوں نے لوٹے ہیں جس میں14سونے کی چوڑیاں ،2 بھاری کڑے 8خواتین کی اور4مردانہ سونے کی انگوٹھیاں3 مکمل سونے کے سیٹس، راڈو گھڑیاں،3موبائل فونز اور8 ہزار نقد رقم شامل ہیں جس میں سے کچھ لوٹا ہوا سامان انھیں واپس سامان مل گیا ہے اور دیگر سامان پولیس تلاش کر رہی ہے۔