گھروں میں کام کرنے والے لاکھوں ملازمین کے کوائف موجود نہیں

آئی جی سندھ کے احکامات کے باوجود متعلقہ افسران سردمہری کامظاہرہ کررہے ہیں،کوائف جمع کرنے کا کوئی ادارہ موجود نہیں ہے.


Staff Reporter October 21, 2012
اکثر گھروں میں ہونے والی وارداتوں میں گھریلو ملازمین ہی ملوث ہوتے ہیں جن کے کوائف یا تو موجود نہیں ہوتے یا پھر جعلی ہوتے ہیں. فوٹو: فائل

شہر میں لاکھوں کی تعداد میں کام کرنے والے گھریلو ملازمین کے کوائف سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔

آئی جی سندھ کے واضح احکامات کے باوجود متعلقہ پولیس افسران کی جانب سے سرد مہری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، علاوہ ازیں گھروں میں کام کاج کرنے والی ملازمہ یا ملازمین کے کوائف جمع کرنے کے حوالے سے کوئی ادارہ موجود ہی نہیں،اکثر گھروں میں ہونے والی وارداتوں میں گھریلو ملازمین ہی ملوث ہوتے ہیں جن کے کوائف یا تو موجود نہیں ہوتے یا پھر جعلی ہوتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں لاکھوں کی تعداد میں ملازمہ یا ملازمین گھروں پر کام کرتے ہیں اور ان ملازمہ یا ملازمین میں خانساما، مالی ، چوکیدار، صفائی ستھرائی، کپڑے دھونے والی یا کھانا پکانے والی ملازمہ یا ملازمین شامل ہیں اور گھریلو ملازمین کی زیادہ تر تعداد ڈیفنس ، کلفٹن ، بوٹ بیسن، سندھ مسلم سوسائٹی ، گلشن اقبال ، گلستان جو ہر ، ناظم آباد اور شہر کے دیگر پوش علاقوں میں دیکھی جاتی ہے اور اکثر و بیشتر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ گھروں میں ہونے والے سنگین واقعات مثلا ، قتل ، چوری ، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان جیسے سنگین واقعات میں گھروں میں کام کاج کرنے والی ملازمہ یا ملازم کا ہاتھ ہوتا ہے اور جب واقعہ رو نما ہونے کے بعد پولیس ملازمہ اور ملازم کی تلاش شروع کرتی ہے تو پولیس کے پاس گھریلو ملازمین کے کوائف سرے سے ہوتے ہی نہیںیا پھر اگر کوائف مل بھی جاتے ہیں تو وہ کوائف جعلی نکلتے ہیں۔

ملازمین واردات کے بعد اگلے شکار کی جانب نکل پڑتے ہیں، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں گھروں میں کام کاج کرنے والی ملازمہ یا ملازمین کے کوائف جمع کرنے کے حوالے سے کوئی ادارہ موجود ہی نہیں، اگر چہ آئی جی سندھ فیاض احمد لغاری نے گھریلو ملازمین کے کوائف جمع کرنے کا ایک اچھا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں انھوں نے متعلقہ ٹی پی او ، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو ہدایت بھی جا رہی کردی ہیں تاہم واضح احکامات کے باوجود متعلقہ پولیس افسران کے جانب سے سرد مہری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اور اب تک کسی متعلقہ افسر کی جانب سے فارنسک ڈویژن سے رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔