غیر قانونی تقرریاں نیب کا سابق سیکریٹری سندھ بدر میندھرو کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ

اس کے علاوہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کوئٹہ کے حوالے سے مزید کوئی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا


APP September 22, 2015
اسلام آباد: چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ کی صدارت کررہے ہیں ۔ فوٹو : آن لائن

قومی احتساب بیورو (نیب) کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس نیب ہیڈ کوارٹرز میں پیر کو چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری کی زیرصدارت ہوا جس میں سابق سیکریٹری اقلیتی امور حکومت سندھ بدر جمیل میندھرواور دیگر کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور گریڈ17 اور 18 میں غیر قانونی تقرریاں کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو نقصان ہوا۔

ایگزیکٹو بورڈ نے سابق صوبائی وزیر بلوچستان حاجی نواز کاکڑ، بلوچستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سابق چیئرمین سعادت انور قمبرانی، بسم اللہ کاکڑ اور دیگر کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال کی اجازت دے دی، ان افراد پرکنٹریکٹرز کو بی ڈی اے سے غیر قانونی مراعات، غیر قانونی ٹرانزیکشن اور مبینہ طور پر ناجائز اثاثے بنانے کا الزام ہے۔

اجلاس میں2 انویسٹی گیشنز کی ازسرنو تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا، پہلی تحقیقات خیبرپختونخوا کے سابق وزیر سردار ادریس اور گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دیگر مستفید ہونے والوں کے خلاف ہے، ان پر مبینہ طور پر کرپشن ، بدعنوانی اور گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے الزامات ہیں جس سے قومی خزانے کو5 کروڑ 17 لاکھ کا نقصان ہوا۔ دوسری تفتیش پیپکو/ پیسکو اور المعیز شوگر ملز ڈیرہ اسماعیل خان کے مالکان اور دیگر افراد سابق ایم ڈی پیپکو منور بصیر، سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر پیسکو بریگیڈیئر رٹائرڈ سخی مرجان اور ایم ڈی المعیز انڈسٹریز نعمان احمد خان کے خلاف ہوگی، ان پر مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن اور غیر قانونی طور پر بجلی کی خرید و فروخت کا الزام ہے۔

نیب ایگزیکٹو بورڈ نے سابق رکن قومی اسمبلی اور سابق چیئرمین پی ایم سی ارباب سعد اللہ کی جانب سے 84 لاکھ71 ہزارروپے کی رضاکارانہ واپسی کی درخواست کی منظوری دی۔ انھوں نے حکومتی فنڈ، فروٹ و ویجی ٹیبل مارکیٹ پشاور میں غیر قانونی طور پر لگائے جس سے13 کروڑ روپے کا نقصان ہوا،12 کروڑ روپے پہلے ہی وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے جاچکے ہیں۔ اجلاس میں سابق وزیر خوراک بلوچستان علی محمد جتک کے خلاف شواہد کی عدم موجودگی پر شکایات کی جانچ پڑتال بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ سابق آئی جی خورشید عالم کے خلاف تفتیش بھی شواہد نہ ہونے کی بنا پر بند کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔

اس کے علاوہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کوئٹہ کے حوالے سے مزید کوئی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ کیس میں کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے۔ کسب بینک لمیٹڈ کے بینک اسلامی میں مبینہ طور پر غیر قانونی ادغام کی شکایت پرکیس کو نیب کراچی کی جاری تحقیقات کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نیب ایگزیکٹو بورڈ نے زاہد ٹریڈرز کے خلاف28 کروڑ 15 لاکھ روپے کا بینک کا نادہندہ ہونے پر اسٹیٹ بینک کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس کی بنیاد پر انکوائری کا فیصلہ کیا۔