ایکسپریس وے پر اسنیپ چیکنگ ٹریفک جام کا سبب بن گئی

پولیس اہلکار اسپیڈ بریکر کے ساتھ کھڑے ہوکر گاڑیوں کی تلاشی لیتے ہیں


Staff Reporter October 21, 2012
ایکسپریس وے پر پولیس اہلکار موٹر سائیکل سوار کی تلاشی لینے میں مصروف ہے ۔ فوٹو : عرفان علی / ایکسپریس

پولیس اہلکاروں نے بلوچ کالونی ایکسپریس وے پر اسنیپ چیکنگ شروع کردی جس کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو ٹریفک جام کی اذیت سے دوچار ہونا پڑا ۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایکسپریس وے پر حال ہی میں بنائے گئے اسپیڈ بریکر پہلے ہی ان کے لیے وبال جان بنے ہوئے تھے کہ پولیس نے بھی اسپیڈ بریکر پر ہی اسنیپ چیکنگ شروع کردی، شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ایکسپریس وے سے اسنیپ چیکنگ اور اسپیڈ بریکر دونوں ختم کرائے جائیں ، تفصیلات کے مطابق بلوچ کالونی سے قیوم آباد کی جانب آنے والے ایکسپریس وے کے ٹریک پر حال ہی میں اسپیڈ بریکر بنائے گئے ہیں جوکہ شہریوں کے لیے وبال جان بن گئے ہیں ، پولیس نے مذکورہ اسپیڈ بریکر کے قریب ہی اسنیپ چیکنگ کا عمل شروع کردیا اور موٹر سائیکل سواروں کو خصوصی طور پر اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے، ایکسپریس وے پر چونکہ ٹریفک اسپیڈ میں ہوتا ہے لیکن اسنیپ چیکنگ کے باعث فوری طور پر گاڑیوں کی رفتار آہستہ کرنی پڑتی ہے جس سے حادثات کا اندیشہ ہے ۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اسپیڈ بریکر پر چونکہ گاڑیوں کی رفتار آہستہ کردی جاتی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس اہلکار انھیں روک لیتے ہیں ، تلاشی اور کاغذات چیک کرانے کے بہانے مبینہ طور پر شہریوں کی جیبیں خالی کرائی جارہی ہیں ، پولیس کی اسنیپ چیکنگ بھی شہریوں کے لیے عذاب بن گئی ہے ، اسنیپ چیکنگ کی وجہ سے ایکسپریس وے پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں ، شہریوں نے آئی جی سندھ اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ ایکسپریس وے سے اسنیپ چیکنگ کا عمل ختم کرایا جائے ورنہ حادثات بڑھنے کا خدشہ ہے ، شہریوں نے ایکسپریس وے سے اسپیڈ بریکر کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیاہے۔