دہشت گردوں نے36روز میں6 ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جان لے لی

ٹریفک پولیس اہلکاروں پر پہلا قاتلانہ حملہ25 اگست کو صدر ایمپریس مارکیٹ کے قریب کیا گیا،قاتل شہرمیں دندناتے پھررہے ہیں


Staff Reporter October 02, 2015
حملوں کی تفتیش مبینہ ملزمان کے خاکوں اورفارنسک رپورٹ سے آگے نہ بڑھی،اعلیٰ افسران ٹھنڈے کمروں سے باہرنکلنے کیلیے تیارنہیں فوٹو:فائل

36 روز کے دوران مختلف علاقوں میں ٹریفک پولیس پرکیے جانے والے5حملوں میں6 پولیس اہلکار جاں بحق اور4 اہلکار زخمی ہوگئے، تفتیشی پولیس اپنے ہی پیٹی بند بھائیوں کے قاتلوں کو پکڑنے میں ناکام ہے، ٹریفک پولیس اہلکاروں پر حملوں کی تفتیش مبینہ ملزمان کے خاکوں اور فارنسک رپورٹس سے آگے نہ بڑھ سکی۔

تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں ان دنوں ٹریفک پولیس دہشتگردوں کے نشانے پر ہے اور36 روز کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے ٹریفک پولیس اہلکاروں پر5 قاتلانہ حملے کے گئے ہیں اور ان حملوں میں ٹریفک پولیس کے 6 پولیس اہلکار جاں بحق اور4 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

ٹریفک پولیس اہلکاروں پر پہلا قاتلانہ حملہ25 اگست کو پریڈی تھانے کے علاقے صدر ایمپریس مارکیٹ کے قریب کیا گیا جس میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ٹریفک پولیس اہلکار 40 سالہ محمد ابراہیم جاں بحق31 سالہ عبدالقیوم زخمی ہوا تھا،27 اگست کو زخمی اہلکار عبدالقیوم بھی دوران علاج دم توڑ گیا پولیس نے واقعے کا مقدمہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کرکے تفتیش شروع کردی تھی،پولیس کو جائے واردات سے9 ایم ایم پستول کے8 خول ملے تھے تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا گیا تھا۔

ٹریفک پولیس اہلکاروں پر دوسرا قاتلانہ حملہ 30 اگست کو گلشن اقبال تھانے کے علاقے یونیورسٹی روڈ اتوار بازار کے مرکزی دروازے پر تعینات ٹریفک پولیس اہلکاروں پرکیا گیا جس کے نتیجے میں ٹریفک پولیس کے 2 اہلکار47 سالہ شیر محمد اور 47 سالہ نظام الدین جاں بحق ہوئے تھے۔

پولیس نے جائے واردات سے نائن ایم ایم پستول کے4 خول تحویل میں لینے کے بعد واقعہ کا مقدمہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کر کے تفتیش شروع کردی تھی، تیسرا حملہ گزشتہ ماہ2 ستمبر کو شیر شاہ تھانے کے علاقے گلبائی چوک کے قریب پیش آیا جہاں دہشت گردوں کی فائرنگ سے ٹریفک پولیس اہلکار30 سالہ لیاقت جاں بحق جبکہ 2اہلکار28سالہ نوید منصور اورہیڈکانسٹیبل خوشی محمد زخمی ہو ئے تھے،پولیس نے جائے واردات سے نائن ایم ایم پستول کے کئی خول برآمد کرکے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی گئی تھی۔

ٹریفک پولیس پر چوتھا قاتلانہ حملہ14ستمبر کو ڈاکس تھانے کے علاقے مولوی تمیزالدین روڈ پر پیش آیا اس دوران ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کرکے ٹریفک پولیس کے 2اہلکار 50 سالہ عمر حیات اور اے ایس آئی جمعہ خان زخمی ہوگئے تھے اور ملزمان فرار ہوگئے،پولیس نے جائے وقوع سے 18خول تحویل میں لینے کے بعد واقعے کا مقدمہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر کے تفتیش شروع کردی تھی ٹریفک پولیس پر5 واں قاتلانہ حملہ30 ستمبر کو ملیر کالابورڈ کے قریب پیش آیا جہاں دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے اے ایس آئی ذوالفقار کو قتل کردیا اور فرار ہو گئے تھے۔

ٹریفک پولیس اہلکاروں پر کیے جانے والے قاتلانہ حملوں کے جائے وقوع ملنے والی گولیوں کی فارنسک ڈویژن کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں پرحملوں میں ایک ہی گروپ ملوث ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ پولیس افسران ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر صرف بلند و بانگ دعوے اور زبانی جمع خرچ کرنے میں مصروف عمل ہیں ۔