واٹر بورڈ کا فراہمی آب کا نظام متاثر ٹینکر مافیا کی چاندی

کئی دن سے مختلف علاقوں میں شہریوں کو پانی کے بدترین بحران کا سامناہے.


Staff Reporter October 22, 2012
پٹیل پاڑہ میں پانی کی عدم دستیابی کے خلاف علاقہ مکین روڈپرٹائرجلاکراحتجاج کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈکا فراہمی آب کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا ہے جس کا خمیازہ نہ صرف کراچی کے شہریوں کو بھگتنا پڑرہا ہے بلکہ اس سے ٹینکر مافیا کی چاندی ہوگئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بحران مکمل طور پر مصنوعی ہے جس طرح رمضان المبارک کے آخری عشرے میں شہر میں پانی کا مصنوعی بحران پیدا کرکے ٹینکر مافیا کو شہریوں کو لوٹنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا، اس طرح عیدالاضحی سے قبل یہ بحران پیدا کرکے ٹینکر مافیا کو ایک اور موقع فراہم کیا گیا ہے کہ وہ کراچی کے شہریوں کو بے رحمی سے لوٹے، تفصیلات کے مطابق گزشتہ کئی دن سے کراچی کے شہری پانی کے بدترین بحران کا سامنا کررہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بحران دانستہ طور پر پیدا کیا گیا تاکہ بحران سے پیدا ہونے والے دبائوکے باعث قانونی ہائیڈرنٹس کھولنے کا جواز پیدا کیا جائے اور ہائیڈرنٹس کھولنے کے بعد کراچی کے شہریوں کو ٹینکر مافیا کے سپرد کردیا جائے کہ ان شہریوں کو بے دردی سے لوٹا جاسکے، ذرائع کا کہنا ہے کہ بلک کے پمپنگ اسٹیشنوں کو ان کی مکمل استعداد سے نہیں چلایا جارہا ہے جس کے باعث کراچی کے شہری پانی کے بحران کا عذاب بھگت رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بالکل وہی صورتحال ہے جو کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں پیدا ہوئی تھی جس میں ٹینکر مافیا نے چند دنوں میں کراچی کے شہریوں سے کروڑوں روپے بٹور لیے تھے اب عیدالاضحی کے موقع پر ایک مرتبہ پھر پانی کا بحران پیدا ہوگیا ہے، گزشتہ روز ہائیڈرنٹس کھول دیے گئے تاہم واٹربورڈ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ اگر یہ ہائیڈرنٹس کھولنے تھے تو بند کیوں کیے گئے تھے اور بند کرکے کیا مقاصد حاصل کیے گئے اور ہائیڈرنٹس کھولنے کا مقصد کیا ہے، واٹربورڈ کے افسران کا کہنا ہے کہ اگر نیب اور دیگر تفتیشی ادارے واٹربورڈ کے معاملات کی تحقیقات کریں تو سنسی خیز انکشاف ہونگے۔

دریں اثنا واٹربورڈ کی طرف سے جاری کردہ اخباری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے مشروط طور پر کراچی میں قائم 21 قانونی ہائیڈرینٹس کھول دیے، یہ اقدام آئی جی سندھ اور کمشنر کراچی کی جانب سے 15 روز کے اندر غیر قانونی ہائیڈرینٹس کے خلاف بھرپور کارروائی کی یقین دہانی کے بعد اٹھایا گیا ہے، واٹر بورڈ کے ترجمان کے مطابق غیر قانونی ہائیڈرینٹس کے باعث واٹر بورڈ کے قانونی ہائیڈرینٹس کا ریونیو متاثر ہونے کی وجہ سے 3 ستمبر 2012ء کو واٹر بورڈ نے اپنے 21 قانونی ہائیڈرینٹس بند کردیے تھے، اس عرصے میں واٹر بورڈ کی جانب سے آئی جی سندھ اور کمشنر کراچی سے اپیل کی جاتی رہی کہ غیر قانونی ہائیڈرینٹس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔

واٹر بورڈ کے چیف انجینئر اس سلسلے میں غیر قانونی ہائیڈرینٹس اور ان کے مالکان کی فہرست محکمہ داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ کو فراہم کرچکے ہیں تاہم آئی جی سندھ اور کمشنر کراچی نے یقین دلایا ہے کہ 15 روز کے اندر تمام غیر قانونی ہائیڈرینٹس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس یقین دہانی پر واٹر بورڈ نے اپنے قانونی ہائیڈرینٹس مشروط طور پر کھول دیے ہیں، ترجمان واٹر بورڈ کے مطابق اگر اس عرصے میں غیر قانونی ہائیڈرینٹس کیخلاف کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو واٹر بورڈ ایک بار پھر اپنے ہائیڈرینٹس بند کردے گا، ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید نے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ٹیکنیکل سروسز اور چیف انجینئر WTM کو پابند کیا ہے کہ وہ ہائیڈرینٹس کھولنے کی ہدایات اور شرائط پر عمل یقینی بنائیں۔