یاد داشت

رفیع الزمان زبیری  جمعرات 15 اکتوبر 2015

ڈاکٹر محمد عذیر، مُلک کے مشہور ماہر اکانومسٹ ہیں، اس میدان میں ان کا علم اور تجربہ وسیع ہے، ایم بی اے اور پی ایچ ڈی دونوں انھوں نے امریکا کی فلاڈینیا یونیورسٹی سے کیا۔ اپنے موضوع پر کتابیں اور مضامین بھی بہت لکھے ہیں۔ ’’یاد داشت‘‘ ان کی خود نوشت داستان حیات ہے، غضب کا حافظہ ہے کہ بچپن سے عمر دراز تک کوئی بات ایسی نہیں جسے وہ بھولے ہوں۔ تعلیم کے دوران، ملازمتوں کے دوران میں اور دنیا بھر کے سفر کے دوران جو واقعات پیش آئے ان کا ذکر ہے۔ دوستوں، اچھے اور برے ساتھیوں کا، بچوں کا، بیوی کا، سب کا، سب یاد آئے ہیں۔

نہ پوچھ نامۂ اعمال کی دل آویزی
تمام عمر کا قصہ لکھا ہوا پایا

سب کو سب کچھ کہاں یاد رہتا ہے، وقت بہت کچھ مٹا دیتا ہے مگر بعض یادیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں کبھی بھلایا نہیں جا سکتا، ایسی ہی ایک یاد حرمین کے ایک سفر کی ہے۔ 1957ء میں ڈاکٹر عذیر جب پہلی بار امریکا جانے کے بعد واپس آ رہے تھے تو انھوں نے کئی شہروں کی سیاحت کا پروگرام بنایا، ان میں لندن، پیرس، میڈرڈ اور اسپین کے دو تاریخی مقامات غرناطہ اور قرطبہ اور اس کے بعد روم، ایتھنز، بیروت، دمشق، استنبول اور قاہرہ شامل تھے۔

قاہرہ سے جدہ اور پھر ظہران اور وہاں سے کراچی ان کے پاس چونکہ وقت کم اور رقم بھی بہت تھوڑی تھی، اس لیے ارادہ یہ کیا کہ جدہ پہنچ کر حرم شریف میں حاضری دیں اور پھر ظہران روانہ ہو جائیں۔ اب اس پروگرام میں مدینہ منورہ جانے اور روضۂ نبویؐ پر حاضری دینے کی گنجائش نہ تھی اس کا انھیں ملال تھا۔ دل میں حرم کعبہ میں حاضری کی نیت اور مدینہ منورہ نہ جا سکنے کی خلش لیے ہوئے وہ قاہرہ پہنچے۔

لکھتے ہیں ’’روانگی سے ایک دن قبل قاہرہ میں سعودی ایئرلائن کے شہری دفتر میں جا کر معلوم کیا کہ پرواز کا صحیح وقت کیا ہے اور کب ایئر پورٹ پہنچ جانا چاہیے۔ جواب ملا، علی الصبح، چنانچہ میں دوسرے دن ہوٹل سے بس کے بجائے ٹیکسی میں روانہ ہوا۔ ایئرپورٹ شہر سے بہت دور تھا لہٰذا ٹیکسی کا کرایہ بھی خاصا زیادہ بن گیا۔ جب ایئرپورٹ پہنچا تو پرواز کا نام و نشان نہ تھا، سعودی ایئرلائن کے کاؤنٹر سے بار بار پوچھا جہاز کس وقت روانہ ہو گا۔

کوئی واضح جواب نہ ملا، بس یہ کہ انشااﷲ جلد پرواز روانہ ہو گی، مائیکرو فون سے اعلان کر دیا جائے گا۔ انتظار کرتے کرتے تھک گیا تب کہیں جا کر دو بجے کے قریب اعلان ہوا کہ اب جہاز روانہ ہونے والا ہے۔ جہاز میں بیٹھ گئے، سہ پہر یکایک کپتان نے اعلان کیا کہ یہ پرواز اب جدہ نہیں جائے گی بلکہ مدینہ جائے گی کیوں کہ اس جہاز کی وہاں ضرورت ہے۔ میرا دل خوشی سے پھول گیا کہ مدینہ حاضری کا انتظام اﷲ تعالیٰ نے غیب سے کر دیا۔‘‘

ڈاکٹر عذیر نے فیصلہ کیا کہ وہ مدینہ میں اتر جائیں گے، چنانچہ انھوں نے جہاز کے ہولڈ سے اپنا سامان نکالا اور کسٹم سے فارغ ہو کر ایک ٹیکسی لی اور مسجد نبوی سے قریب کسی ہوٹل میں چلنے کو کہا۔ ٹیکسی میں بیٹھتے ہی اور مدینہ کی حدود میں داخل ہوتے ہی ان پر رقت طاری ہو گئی کہ ’’کہاں میں کہاں یہ مقام اﷲ اﷲ‘‘ ہوٹل میں کسی طرح سامان رکھا اور مسجد نبویؐ کا رخ کیا۔ عصر، مغرب اور عشا کی نمازیں وہاں ادا کیں، لکھتے ہیں ’’اب فکر ہوئی کہ کسی طرح جدہ پہنچا جائے تا کہ عمرہ ادا ہو سکے۔ ہوائی جہاز سے سفر کے لیے اول تو پیسے نہیں تھے، پھر میرا ٹکٹ بھی قاہرہ سے جدہ کا تھا لوگوں سے مشورہ کیا، انھوں نے کہا سڑک اچھی ہے ٹیکسی سے جدہ پہنچ جاؤ۔‘‘

ڈاکٹر عذیر نے ٹیکسی پکڑی، جدہ پہنچ گئے، ایک ہوٹل میں سامان رکھا اور احرام خریدنے کے لیے بازار کی طرف چل دیے یہاں بھی غیب سے ان کی مدد کا سامان ہو رہا تھا یہ بازار میں ٹہل رہے تھے اور سوچتے جاتے تھے کہ واپسی کا سفر کیسے طے ہو گا۔ یکایک ان کی نظر ایک صاحب پر پڑی۔ سفید داڑھی، ڈھیلے پائنچے کا پاجامہ، اس پر شیروانی اور اسی کپڑے کی کشتی نما ٹوپی پہنے سامنے سے آ رہے تھے، دونوں کی نظریں ملیں، تعارف ہوا یہ صاحب مولانا کرم علی ملیح آبادی تھے۔

ایک مدت سے سعودی عرب میں قیام تھا، عربی روانی سے بولتے تھے۔ شہر ہی میں نہیں سعودی حکومت میں بھی ان کی بڑی رسائی تھی۔ انھوں نے پہلے تو ڈاکٹر عذیر کو احرام خریدوائے اور پھر دوسرے دن صبح انھیں کار میں اپنے ساتھ مکہ لے جا کر عمرہ کرانے کی دعوت دے ڈالی۔ کہنے لگے، ہم دونوں وہاں جمعے کی نماز ادا کریں گے۔

پھر حرم کعبہ میں عمرہ ادا کریں گے تم میرے ساتھ ہی جدہ واپس آ جانا۔ ڈاکٹر عزیر نے مولانا کرم علی سے کہا کہ ایک مسئلہ اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ میں نے ویزہ صرف دو دن کا لیا تھا جو آج ختم ہو جائے گا۔ کیوں کہ اصل پروگرام میں مدینہ شامل نہیں تھا۔ کرم علی ملیح آبادی نے کہا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں بعد مغرب میں تمہیں گورنر صاحب کے پاس لے جاؤں گا اور فوراً ویزہ میں توسیع کرا دوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ڈاکٹر عذیر کرم علی کے ساتھ گورنر کے پاس گئے۔ گورنر نے ان کا پاسپورٹ لیا، دستخط کیے اور مہر لگا دی۔

دوسرے دن ڈاکٹر عذیر ان ’’خضر راہ‘‘ کے ساتھ موٹر میں جدہ گئے، انھوں نے جہاں وہ مقیم تھے انھیں بھی ٹھہرایا، عمرے کے آداب بتائے اور عمرہ اور طواف کرانے والے ایک شخص کے حوالے کر دیا جس نے انھیں حرم میں لے جا کر طواف کرایا، پھر سعی کرائی اور پھر انھوں نے جمعے کی نماز ادا کی اور سہ پہر کو اپنے محسن کے ساتھ جدہ واپس آ گئے۔

ڈاکٹر عذیر لکھتے ہیں ’’میں مولانا کا پوری طرح شکریہ تو ادا نہیں کر سکا لیکن بہر حال اظہار ممنونیت کیا، وہ ہنسی خوشی میرے سارے کام کراتے رہے۔ گویا یہ ان کے فرائض میں شامل ہے‘‘ در حقیقت یہ غیب سے اﷲ تعالیٰ کی مدد تھی اور روضۂ رسولؐ سے طلبی ہو چکی تھی کہ ایک اجنبی شخص انھیں مل گیا اور اس کے ذریعے ان کے تمام مسائل خوش خوبی سے حل ہو گئے۔

ڈاکٹر عذیر کا یہ پہلا سفر ارض مقدس کا تھا، انھیں سال بعد انھیں دوبارہ وہاں جانے کی سعادت نصیب ہوئی، انھوں نے حج بھی کیا اور عمرہ کرنے کا بھی موقع ملا۔ ڈاکٹر عذیر یو پی میں بارہ بنکی کے ایک قصبے میں پیدا ہوئے یہ سال 1928ء تھا۔ تعلیم کی ابتدا لکھنو میں اور تکمیل الٰہ آباد میں ہوئی جہاں ان کے والد کی ملازمت تھی۔ الٰہ آباد کا ذکر انھوں نے اپنی کتاب میں تفصیل سے کیا ہے۔ اس شہر سے ان کے ابتدائی دور زندگی کی بہت یادیں وابستہ ہیں۔ یہیں الٰہ آباد یونیورسٹی سے انھوں نے بی اے کیا پھر ایم اے، یہیں ان کی شادی ہوئی۔

1951ء ان کی زندگی کا ایک اہم سال تھا، اسی سال انھوں نے تعلیم مکمل کی، شادی ہوئی ہجرت کر کے ڈھاکہ آئے اور یہاں یونیورسٹی میں شعبہ اقتصادیات میں لیکچرار کی حیثیت سے باقاعدہ ملازمت شروع کی۔ 1955ء میں یہ کراچی آ کر کراچی یونیورسٹی سے منسلک ہو چکے تھے، اگلے سال انھوں نے امریکا جا کر ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔

امریکا میں قیام کے دوران ایک لطیفہ ہوا، لکھتے ہیں ’’شکاگو شہر میں جب میں گھوم رہا تھا تو ایک یہودی کا ریستوران نظر آیا۔ میں نے سوچا کہ میں یہاں کھانا کھاؤں کیوں کہ یہودیوں کے جانور ذبح کرنے کا طریقہ اسلامی طریقے کے مشابہ ہے، مینیو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کوفتے سے ملتی جلتی ایک چیز موجود ہے جسے وہ انگریزی میں Meatballs کہتے ہیں، میں نے وہ منگوائی، کھانے کے بعد ویٹرس نے پوچھا، آپ کیا پئیں گے؟

میں نے کہا کافی، وہ کافی لے کر آئی، شکر میز پر رکھی ہوئی تھی، میں نے اس سے کہا کافی کے لیے تھوڑا دودھ لا دیں، اس نے مجھے بری طرح گھورا، فوراً مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور میں نے معذرت کی، قصہ یہ ہے کہ یہودیوں کی شریعت میں یہ حکم ہے کہ جانور کی ایک ہی چیز ایک وقت میں کھائی جا سکتی ہے۔ یعنی اگر گوشت کھایا ہے تو اس کے ساتھ دودھ یا اس سے بنی ہوئی اور چیز نہیں کھائی جا سکتی، چنانچہ میں نے بغیر دودھ کے کافی پی لی۔‘‘

ڈاکٹر عذیر ملک کی بیوی ریحانہ جو اب دنیا میں نہیں بڑی حوصلہ مند اور محنتی خاتون تھیں۔ شادی کے بعد انھوں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ پھر سے شروع کیا، آٹھ بچوں کی پیدائش کے بعد بی اے کا امتحان پاس کیا اور ساتھ ساتھ گھریلو زندگی کے سارے تقاضے بھی احسن طریقے سے پورے کیے۔ اس سے ان کی علم سے لگن، ہمت اور حوصلے کا اظہار ہوتا ہے، انھوں نے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مل کر بچوں کی اچھی تربیت کی اور آٹھوں بچوں نے بہتر تعلیم حاصل کی اور اب کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

ڈاکٹر عذیر نے ریڈیو پاکستان میں اپنے حالات حاضرہ کے پروگراموں، خصوصاً معاشی مسائل پر مباحثوں کا ذکر کیا ہے یہاں بہت سے لوگوں سے ان کی شناسائی ہوئی ان کا بھی ذکر کیا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔