مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں جموں کشمیرہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

کشمیر کی خودمختاری سے متعلق آرٹیکل 370 کو منسوخ یا اس میں ترمیم نہیں کی جاسکتی، عدالت


ویب ڈیسک October 16, 2015
کشمیر کی خودمختاری سے متعلق آرٹیکل 370 کو منسوخ یا اس میں ترمیم نہیں کی جاسکتی، عدالت۔ فوٹو:فائل

کشمیر کی عدالت نے بھی پاکستان کا موقف دہرا دیا اور مقبوضہ جموں کشمیر ہائیکورٹ نے آرٹیکل 370 کیس میں رولنگ دیتے ہوئے قراردیا ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں اور نہ اسے بھارت میں ضم کیا جاسکتا ہے۔

https://img.express.pk/media/images/q68/q68.webp

جسٹس حسنین مسعودی اور جسٹس جنک راج کوتوالی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے آرٹیکل 370 میں ترامیم کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ اس موقع پرڈویژن بنچ نے قراردیا کہ جموں کشمیرکو بھارت میں ضم نہیں کیا جاسکتا اور آرٹیکل 370 کے تحت کشمیر نے اپنی خودمختاری برقرار رکھی تھی اس لئے اس آرٹیکل میں نہ تو ترمیم کی جاسکتی ہے اور نہ اسے منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

https://img.express.pk/media/images/q119/q119.webp

عدالت نے قراردیا کہ جموں کشمیر کی 25 جنوری 1957 کے حق خودمختاری کو تحلیل کئے بغیر جموں کشمیراسمبلی بھی آرٹیکل 370 میں ترمیم کی بھی تجویز نہیں دے سکتی۔

https://img.express.pk/media/images/q216/q216.webp

https://img.express.pk/media/images/ali-gilani/ali-gilani.webp

دوسری جانب سینئر حریت رہنما سید علی گیلانی نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''جی فار غریدہ'' میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے كہا کہ جموں ہائی كورٹ كافیصلہ ہماری جدوجہد كی تائید كرتا ہے ہم اس فیصلے كا خیرمقدم كرتے ہیں، پاكستان آنے كی خواہش ہے سفری دستاویزات ملیں تو پاكستان ضرور آؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیكل 370 ایسا قانون ہے جو مقبوضہ جموں وكشمیر كو خودمختار آزاد ریاست كا اسپیشل اسٹیٹس دیتا ہے، وہاں كے رہائشی بھارت كے شہری نہیں ہوتے،ان كے مال واسباب ان كی جائیداد پر ان كی اپنی ملكیت ہوتی ہے، ان سے بھارت كا كوئی لینا دینا نہیں ہوتا، مقبوضہ كشمیر كے بنیادی حقوق جن میں انسانی حقوق بھی شامل ہیں وہ اپنی ریاست كے قوانین كے مطابق ہوتے ہیں۔

https://img.express.pk/media/images/q315/q315.webp

سید علی گیلانی کا کہنا تھا کہ نریندر مودی نے كوشش كی كہ اس قانون كو نكال دیا جائے اس كے لئے پٹیشن گئی لیكن اس پٹیشن كو جموں ہائی كورٹ نے مسترد كردیا، ہم عدالت كے فیصلے كا خیرمقدم كرتے ہیں کیونکہ یہ فیصلہ ہماری جدوجہد كی تائید ہے اور اس حقیقت كا اظہار ہےكہ جموں و كشمیر متنازعہ خطہ ہے بھارت كے اٹوٹ انگ كے دعوے كو ان كی ہی عدالت نے مستردكردیا ہے اس سے ہماری جدوجہددرست ثابت ہوتی ہے، یہ قانون جموں وكشمیر كے متنازعہ ہونے كی زندہ شہادت ہے اس قانون كو ختم نہیں كیا جاسكتا اورنہ ہی اس كی ترمیم كی جاسكتی ہے۔

مقبول خبریں