امداد تقسیم نہ کرنے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کو توہین عدالت کا نوٹس

چیف سیکریٹری ،چیئرمین این ڈی ایم اے کوبھی نوٹس،چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے فریقین سے 15روزمیںجواب طلب کرلیا.


Numainda Express October 23, 2012
اسلام آباد ہائی کورٹ نے چند ماہ قبل زیارت اور پشین کے زلزلہ متاثرین کو مختص رقم کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی. فوٹو: فائل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمن نے بلوچستان کے زلزلہ متاثرین کو عدالت کے حکم کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے دیے گئے امدادی فنڈز تقسیم نہ کرنے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پندرہ روز میں جواب طلب کر لیا ہے ۔

متاثرین کی جانب سے علی مراد بلوچ ایڈووکیٹ نے ہائیکورٹ میں درخواست دائرکی تھی جس پر عدالت عالیہ نے 6 ماہ قبل حکم دیا تھا کہ وفاق کی جانب سے دی گئی رقوم چھ ماہ میں تقسیم کی جائیں جس پر عملدرآمد نہ ہونے پر درخواست گزاروںکی جانب سے عدالت عالیہ میں درخواست دائرکی گئی جس پر فاضل عدالت نے وزیر اعلیٰ سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

این این آئی کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلوچستان کے زلزلہ متاثرین کو عدم ادائیگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی، چیئرمین این ڈی ایم اے ڈاکٹر ظفر قادر، چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت دیگرفریقین کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیے ہیں، عدالت نے تمام فریقین سے14روزمیں تحریری جواب بھی طلب کیا ۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے چند ماہ قبل زیارت اور پشین کے زلزلہ متاثرین کو مختص کی گئی رقم کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی تاہم حکام کی جانب سے امداد تقسیم نہیںکی گئی جس کے بعد توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔