شمسی ائیر بیس عرب امارات نے امریکا کو دیا آئی ایس آئی میں سیاسی سیل نہیں سیکریٹری دفاع

ایئربیس امریکا کو دینے کے بدلے پاکستان کوئی رقم ادا نہیں کی گئی،آئی ایس آئی سیاست میں مداخلت بھی نہیں کرتی


INP October 23, 2012
نیٹوسپلائی بحالی سے اتحادی فنڈکی رقم ملنا شروع ہوگئی ہے ،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو آصف یٰسین کی بریفنگ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل(ر) آصف یسین ملک نے بتایاہے کہ گذشتہ5برس سے آئی ایس آئی میں کوئی سیاسی سیل کام کررہاہے نہ وہ سیاست میں مداخلت کررہی ہے ۔

جی ڈی پی کے مقابلے میں موجودہ دفاعی بجٹ سال2002 کے مقابلے میں نصف رہ گیا ہے ، شمسی ایئربیس ڈرون حملوں کیلیے متحدہ عرب امارات نے امریکا کودیاتھا تاہم پاکستان کی رضامندی بھی شامل تھی، کمیٹی نے قراردیا ہے کہ ملکی دفاع کیلیے ہتھیاروں کی خریداری سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کی ضرورت ہے بھی یا نہیں ، اب سرحدوں سے زیادہ اندرونی خطرات کا سامنا ہے،کمیٹی جب سروسز چیفس کو بلائے گی تو وہ آئیں گے، نیٹوسپلائی بحالی کے بعد اتحادی فنڈکی رقم ملنا شروع ہوگئی ہے ، پیرکوسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا ان کیمرہ اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹرمشاہد حسین کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا جس میں سیکریٹری دفاع نے دفاعی بجٹ کے حوالے سے بریفنگ دی ۔

اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے مشاہد حسین سید نے بتایا کہ کمیٹی کو سیکریٹری دفاع نے بتایا ہے کہ آئی ایس آئی میں اس وقت کوئی سیاسی سیل نہیں بلکہ5سال سے یہ سیل کام نہیں کررہا ہے، آئی ایس آئی سیاسی امور میں مداخلت نہیں کر رہی،انھوں نے بتایاکہ رواں سال کا دفاعی بجٹ 545 ارب روپے تھا جس میں سے264ارب روپے بری فوج ،144 ارب روپے ایئرفورس،نیوی کیلیے62ارب ،انٹر سروسز اور دفاعی پیداوار کیلیے92ارب روپے تھے، انھوں نے بتایا کہ نائن الیون سے اب تک امریکا نے12ارب ڈالر دیے ہیں۔

اتحادی سپورٹ فنڈز کی رقم براہ راست جی ایچ کیو کو نہیںملتی بلکہ وزارت خزانہ کو ملتی ہے ، وزارت خزانہ وزارت دفاع کو رقم دیتی ہے جس کے بعد یہ رقم افواج کے تینوں شعبوں کو تقسیم ہوتی ہے، انھوں نے کہاکہ ریٹائرڈ فوجیوں کو105ارب روپے پنشن دی جاتی ہے، اب یہ پنشن دفاعی بجٹ سے نکال کر سول بجٹ میں شامل کرلی گئی ہے اب اس رقم کی ادائیگی سول بجٹ سے ہوتی ہے، انھوں نے کہاکہ امریکا میں فوجی ٹریننگ پروگرام اسکالرشپ ہے جس کا خرچ امریکا برداشت کرتاہے ، انھوں نے بتایا کہ شمسی ایئربیس پاکستان نے نہیں متحدہ عرب عمارات نے امریکا کو ڈرون حملوں کیلیے دیاتھا۔

تاہم اس میں پاکستان کی رضامندی شامل تھی مگر پاکستان کو اس ایئرپورٹ کی مد میں ایک پائی بھی نہیں ملی، انھوں نے بتایا کہ وزارت دفاع ٹیکسوں کی مد میں حکومت کو28ارب روپے واپس کرتی ہے ، چیئرمین کمیٹی مشاہد حسین سید نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی حکمت عملی کی تیاری کا عمل شروع ہوگا جس کیلیے وزارت دفاع سے بھی تجاویز مانگی ہیں، انھوں نے کہاکہ اس وقت جو ہتھیار خریدے جارہے ہیں پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ہمارے سیکیورٹی چیلنجز کے مطابق ہیں بھی یانہیں۔اب جنگ سرحدوں پر گولی سے کم ہی لڑی جائیگی بلکہ اندرونی چیلنجز زیادہ ہیں اس وقت سب سے بڑا چیلنج انسانی سیکیورٹی کا ہے ۔