سوئٹزرلینڈ کی ریاست نے عوامی مقامات پر نقاب کرنے پر پابندی لگادی

ویب ڈیسک  بدھ 25 نومبر 2015
قانون کے تحت خلاف ورزی کی صورت میں ساڑھے 6 ہزار برطانوی پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنا پڑے گا، فوٹو: فائل

قانون کے تحت خلاف ورزی کی صورت میں ساڑھے 6 ہزار برطانوی پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنا پڑے گا، فوٹو: فائل

ہیلسنکی:  فرانس کے بعد اب سوئٹزر لینڈ میں بھی مسلمان خواتین کے  نقاب کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کی خلاف ورزی کی صورت میں بھاری جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپ کے مختلف ممالک میں حالیہ دنوں میں ہونے والے حملوں کے پیش نظر سوئٹزرلینڈ کی ریاست  ٹیکینو کی پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت عوامی مقامات پر خواتین نقاب نہیں پہن سکیں گی جب کہ خلاف ورزی کی صورت میں ساڑھے 6 ہزار برطانوی پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ ٹیکینو سوئٹزرلینڈ کے جنوب میں واقع اطالوی زبان بولنے والوں کی ریاست ہے جہاں نئے قانون کے تحت عوامی مقامات، ریسٹورنٹس، بلڈنگز اور گاڑی کے اندر بھی یہ پابندی ہوگی جب کہ ریاست میں آنے والے سیاحوں پر بھی یہ قانون لاگو ہوگا۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس قانون کے لیے عوامی ریفرنڈم کرایا گیا تھا جس میں دو تہائی ووٹرز نے پابندی کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد پارلیمنٹ نے اس قانون کو منظور کیا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ریفرنڈم  کے دن کو انسانی حقوق کے لیے بلیک ڈے قرار دیا تھ جب کہ اس سے قبل فرانس میں بھی اسی قسم کا قانون منظور کیا جاچکا ہے جہاں 2010 میں ایک قانون کے تحت چہرے کا نقاب کرنے پر پابندی عائد کردی گئی تھی ، اس قانون کو یورپیئن کورٹ آف ہیومن رائٹس میں چیلنج کیا تھا تاہم یورپی عدالت نے بھی اس قانون کے خلاف درخواست گزاروں کے اعتراضات مسترد کردیئے تھے۔

واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں 40 ہزار سے زائد مسلمان آباد ہیں جو کہ آبادی کا 5 فیصد ہیں جب کہ اس سے قبل سوئس پارلیمنٹ نے پورے ملک میں برقعہ پہننے پر پابندی لگانے کا مطالبہ مسترد کردیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔