رینٹل پاور منصوبوں میں تاخیر سے 113ارب کا نقصان ہوا چیف جسٹس

قانونی رائے دینے میںتاخیرپربابراعوان،مسعود چشتی سے جواب طلب،اعتزازپیش ہواکریں،کیس منتقلی کی درخواست مسترد


Numainda Express October 25, 2012
لوگ چاہتے ہیںہرمسئلہ ہم حل کریں،17جج ملک کیسے چلاسکتے ہیں،جسٹس جواد، توقیرصادق کی گرفتاری کے لیے مہلت۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے چیچو کی ملیاں اور نندی پور پاور پروجیکٹس کی تعمیر میں تاخیر پر سابق وزیر قانون بابر اعوان اور سابق سیکریٹری قانون مسعود چشتی کو دوبارہ نوٹس جاری کرکے تحریری جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس نے آبزرویشن دی منصوبوں میں تاخیرکے باعث قومی خزانے کو 113ارب روپے کا نقصان پہنچایاگیا۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی ۔مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف پیش ہوئے اور بتایاعدالت کے نوٹس کے باوجود منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا گیا جس سے نقصان 150ارب تک پہنچ گیا، منصوبہ 2008میں مکمل ہونا تھا جس سے975میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی لیکن اس وقت کے وزیر اور سیکریٹری قانون کی طرف سے بروقت رائے نہ دینے پرمنصوبہ شروع نہیں ہو سکا، منصوبے کیلیے آنے والی بھاری مشینری کراچی پورٹ پر پڑی خراب ہوگئی ۔

اس موقع پر عدالت نے ہر معاملہ سپریم کورٹ لانے کا سخت نوٹس لیا۔ چیف جسٹس نے کہا یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اٹھنا چاہیے تھا، انھوں نے خواجہ آصف سے استفسارکیا بحیثیت پارلیمنٹیرین یہ معاملہ ایوان میں کیوں نہیں اٹھایا؟جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا عدالت حکومت نہیں چلا سکتی، ججوںکا یہ کام نہیںکہ وہ وزارتوںکے معاملات دیکھیں۔ خواجہ آصف نے کہا پارلیمنٹ کو انتظامیہ نے یرغمال بنایا ہوا ہے، ملک بحران کا شکار ہے معیشت تباہ ہو رہی ہے عوام کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ عدالت نے مزید سماعت 7 نومبرکو ہوگی۔

فاضل بینچ نے اوگرا کرپشن کیس میں سابق چیئرمین اوگرا توقیر صادق کی گرفتاری کیلیے نیب کو مزید2 ہفتے کی مہلت دیدی ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ توقیر صادق کی گرفتاری کیلیے آئی جی اسلام آباد نے ٹیم تشکیل دیدی ہے۔نیب کی طرف سے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے رپورٹ پیش کی اور بتایا 6 افراد توقیر صادق،منصور مظفر علی،میر کمال فرید مری،دیوان ضیاء الرحمٰن،جواد جمیل اور سلیم شہزاد بھٹی کیخلاف 43ارب روپے کی کرپشن کے الزام میں ریفرنس دائرکر دیا گیا ہے۔انھوں نے بتایا عابدحسن منٹو کی لیگل فرم کا نام غلطی سے مبینہ فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں میں شامل ہوا،ان سے معذرت کرلیںگے، فرم سے وابستہ محمود مرزا سے بدستور انکوائری جاری رہے گی ۔

ایل پی جی ٹھیکہ کی الاٹمنٹ میں بے قاعدگی کے کیس میں چیف جسٹس نے اپنے سامنے پیش نہ ہونے اور مقدمہ دوسرے بینچ کو منتقل کرنے کے بارے میں اعتزاز احسن کی درخواست مستردکر دی۔ اعتزاز احسن کے ایسوسی ایٹ بیرسٹرگوہر نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کوکسی اور بنچ منتقل کر دیا جائے کیونکہ وکلاء تحریک کے بعد اعتزاز احسن نے چیف جسٹس کے سامنے پیش نہ ہونے کا اصولی موقف اپنایا ہوا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا اس سے عدالت کی کریڈیبلٹی پر اثر نہیں پڑتا، انھیں عدالت پر اعتماد اور پیش ہونا چاہیے۔این این آئی کے مطابق رینٹل پاور پروجیکٹس کیس میں جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ لوگ چاہتے ہیں ہرمسئلہ سپریم کورٹ ہی حل کرائے،17 ججز ملک کیسے چلا سکتے ہیں، عدالتیں تو وزارت پانی و بجلی اور حکومتوںکو نہیں چلا سکتیں، عدالت کو اپنا کام کرنا ہے۔