پہلے برطانوی خلا باز نے خلا کی جانب سفرکرکے برطانیہ میں نئی تاریخ رقم کردی

ٹیم پیک پہلے برطانوی خلا باز ہیں جو یہ سفر کررہے ہیں جب کہ ان سے قبل برطانیہ سے کوئی خلا باز اس سفر پر نہیں گیا


ویب ڈیسک December 16, 2015
ٹیم پیک پہلے برطانوی خلا باز ہیں جو یہ سفر کررہے ہیں جب کہ ان سے قبل برطانیہ سے کوئی خلا باز اس سفر پر نہیں گیا، فوٹو اے ایف پی

برطانیہ ان ممالک میں شامل تھا جس کا کوئی بھی خلا باز کائنات کی وسعتوں کی کھوج میں کبھی نہیں نکلا یا کسی نے ہمت ہی نہیں کی لیکن اب ٹیم پیک نے خلا کی جانب سفر کا آغاز کر کے اپنی ملک کی تاریخ ہی بدل ڈالی ہے اور برطانیہ کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کردیا ہے جنہوں نے خلاؤں کی وسعتوں پر اپنے قدم جمائے۔

ٹم پیک یورپی خلائی ایجنسی کے خلائی جہاز میں قازقستان کے خلائی اسٹیشن سے اپنے سفر پر روانہ ہوئے اوروہ سفر کی تکمیل پر عالمی خلائی اسٹیشن سے مل گئے جہاں وہ 6 ماہ کے قیام کے دوران دیگر خلابازوں کے ساتھ زمین کے مدارکا چکر لگائیں گے اور یوں وہ پہلے برطانوی خلا باز بن گئے جو عالمی خلائی اسٹیشن پر قیام کریں گے۔ اگرچہ اس سے قبل برطانوی نژاد کچھ خلا باز خلا کے سفر کا لطف اٹھا چکے ہیں لیکن وہ یا تو امریکی شہری تھے یا پھر ذاتی طور پر گئے تھے جب کہ ٹم پیک سرکاری طور پر پہلے برطانوی خلا باز بن گئے ہیں جو آسمان کی وسعتوں کی سیر کریں گے۔



43 سالہ ٹم پیک قازقستان کے بائکنور کوسمو ڈروم کے اس خلائی اسٹیشن سے سوئز ٹی ایم اے 19 ایم خلائی جہاز سے اڑے جس سے دنیا کا پہلا سیٹلائٹ لاؤنچ کیا گیا تھا۔ ناسا کے مطابق ان کا سفر 6 گھنٹوں میں مکمل ہوا جس دوران خلائی جہازنے زمین کے مدار کے گرد 28 ہزار 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا۔ پیک نے سفر پر جانے سے قبل 600 گھنٹوں تک اس کی بھر پورٹریننگ بھی کی اور روسی زبان بھی سیکھی کیوں کہ اس وقت عالمی خلائی اسٹیشن پر ایک روسی اور امریکی خلاباز بھی موجود ہیں۔ یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق ٹم اپنا مشن مکمل کر کے 6 جون 2016 کو واپسی زمین پر قدم رکھیں گے۔