محمد ﷺ سے وفا

عشق رسولؐ تو ایسا آبِ حیات ہے جو خشک لکڑی کے ایک تنے کو جسے اسلامی تاریخ استن حنانہ کے نام سے جانتی ہے


سردار احمد قادری December 19, 2015
عشق رسولؐ تو ایسا آبِ حیات ہے جو خشک لکڑی کے ایک تنے کو جسے اسلامی تاریخ استن حنانہ کے نام سے جانتی ہے:فوٹو: فائل

جس چیز نے اقبال کو اپنے عہد کے تمام شعراء ہی نہیں بلکہ اپنے سے پہلے اردو شعراء اور آنے والی صدیوں کے شعراء سے ممتاز، منفرد، بلند اور محترم و معزز بنا دیا ہے وہ اس کا عشق رسالت مآبﷺ ہے۔

عشق رسولؐ تو ایسا آبِ حیات ہے جو خشک لکڑی کے ایک تنے کو جسے اسلامی تاریخ استن حنانہ کے نام سے جانتی ہے، زندگی اور حرارت عطا کر دیتا ہے۔ اقبال تو پھر ایک جیتا جاگتا انسان اور دھڑکتے دل، سوچتی فکر و روح اور مضطرب قلب و نظر کی مالک شخصیت تھا۔ اسے عشق رسولؐ کیسے زندہ و تابند نہ کرتا۔ آپ اسلامی تاریخ پر نظر ڈال لیجئے، آپ کو وہی محدث، وہی مفسر، وہی مورخ، وہی مدرس، وہی مفکر، وہی مزکی، وہی مجاہد، وہی مناظر، تاریخ کے صفحوں اور لوگوں کے دلوں میں زندہ اور دھڑکتا ہوا ملے گا جس کے فکر و نظر کے شجر کی آبیاری عشق رسولؐ کے حیات افروز سرچشمہ سے ہوئی۔ سید ابوالحسن علی ندوی جیسے شہرۂ آفاق مصنف اور مورخ نے ایک مرحلہ پرکہا تھا کہ وہ لوگ کتنے بدنصیب ہیں جنہیں یہ معلوم نہیں کہ ہمارے خطے میں اقبال جیسا ایک عظیم مفکر اور مصلح بھی پیدا ہوا تھا اور ایک عظیم پیغام دے گیا تھا۔ یہ فقیر کہتا ہے کہ وہ کیا پیغام تھا جس نے اقبال کو رہتی دنیا تک زندہ جاوید کر دیا ہے۔ وہ پیغام اس کے شکوہ و جواب شکوہ میں سمٹ کر یکجا ہو گیا ہے۔ اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں شکوہ کرنے کی جسارت اقبال جیسا کوئی باادب اور بے باک شخص ہی کر سکتا تھا اور کہہ سکتا تھا:

''شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو''

وہ بھی کیا دن تھے کہ جب انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسوں میں اقبال خوبصورت اور مترنم آواز میں اپنا کلام پڑھا کرتے تھے۔ ہزاروں کا مجمع دم بخود ہو کر کلام شاعر بزبان شاعر سنتا تھا اور سراہتا تھا۔ ایک دن جب اس نے شکوہ سنایا تو سب حیرت سے اس کو دیکھنے لگے کہ یہ کیا جسارت کر دی لیکن جب ایک اگلی نشست میں اس نے اپنے تخیل کی بنیاد پر الہامی طور پر اللہ رب العالمین کی بارگاہ سے آنے والا جواب شکوہ سنایا تو سامعین کی چیخیں نکل گئیں۔ خود اقبال کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ سانس اکھڑنے لگا اور آنکھوں سے رم جھم آنسوؤں کی برسات شروع ہو گئی۔ اقبال روتا بھی جاتا تھا اور رُلاتا بھی جاتا تھا۔ یہاں پہنچ کر تو وہ اپنے فکر و فن کی معراج پر نظر آتا ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے:

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو

یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خُم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو

خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

اور پھر آخر میں خدائے قدوس و لم یزل کی بارگاہ حمدیت سے یہ پیغام لاتا ہے اور جوابِ شکوہ ختم کرتا ہے:

کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

آج تک اس شعر کو مقبولیت حاصل ہے۔ میلاد مصطفیٰ ﷺ کے حوالے سے منعقد ہونے والی محافل وعظ میں جلوسوں میں، جلسوں میں، سیمینار میں، محافل نعت میں غرض جگہ جگہ یہ شعر پڑھا جاتا ہے اور آج بھی عاشقان مصطفیٰ ؐکے قلوب و اذہان کو جگمگاتا اور منور کرتا ہے لیکن میں سوچتا ہوں کہ کیا سننے والے کبھی اس نکتے پر بھی غور کرتے ہیں کہ یہ محمدؐ سے وفا کیا ہے جس کا حکم اقبال کے تصور و تخیل کے مطابق اللہ رب اللعالمین دے رہا ہے۔

یہ دراصل آقائے دوجہاں ﷺ کے پیغام، آپؐ کی سیرت طیبہ اور آپؐ کی حیات مبارکہ کی روشنی میں آپؐ کے فرامین اور احکامات سے وفا ہے۔ یہ کیسی وفا ہے کہ حلال گوشت کے نام پر گدھوں، گھوڑوں اور مردار جانوروں کا گوشت مسلمانوں کو اسلامی جمہوریہ کے ٹائٹل والے ملک میں کھلایا جائے اور کی محمدؐ سے وفا کے شعر پر بھی جھوما جا رہا ہے۔ یہ کیسی وفا ہے۔ خالص گھی کے نام پر حلال و حرام ہر طرح کے جانوروں کی چربی ملائی جا رہی ہے اور بیچا جا رہا ہے۔ یہ کیسی وفا ہے کہ خالص دودھ کے نام پر مضر صحت اشیاء اور اجزا کیمیکلز اور زہریلا مواد پلایا جا رہا ہے اور دکانوں پر کی محمدؐ سے وفا والا شعر بھی لکھ کر سجایا ہوا ہے۔ یہ کیسی وفا ہے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک کا تاجر، سرمایہ دار، صنعت کار اور سیاستدان بالترتیب خریداروں، مزدوروں اور محنت کشوں اورعوام کا استحصال بھی کر رہا ہے۔ انہیں بے دردی سے دونوں ہاتھوں سے لوٹ بھی رہا ہے اور اپنے ضمیر کو جھوٹی تسلی دینے کے لیے محفل نعت کو سپانسر بھی کر رہا ہے اور سمجھ رہا ہے کہ اس نے عشق رسولؐ کے تقاضے پورے کر دیئے ہیں۔ یہ کیسی وفا ہے کہ چند مستثنیات کو چھوڑ کر ہمارا وعظ، ہمارا خطیب، ہمارا مقرر، ہمارا نعت خواں اس شعر کو پڑھ بھی رہا ہے لیکن امت محمدیؐ کو جہالت، غربت، ذلت اور بیماریوں میں مبتلا کرنے والوں کے خلاف آواز حق بلند کرنے اور محمدؐ سے وفا کرنے کے تقاضے پورے نہیں کر رہا۔ یہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک سرمایہ پرستی کا سفینہ نہیں ڈوبے گا۔ اقبال نے کہا تھا:

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تری منتظر روزِ مکافات