کالا باغ ڈیم سے متعلق ہائیکورٹ کا فیصلہ تخت لاہور کا پیغام ہے اے این پی

منصوبہ 3 صوبوںکا مستردکردہ ،لاہور ہائیکورٹ فیصلے پرنظرثانی کرے،ایسے فیصلوںسے علاقائیت کو فروغ ملے گا،افراسیاب خٹک


Numainda Express October 27, 2012
یہ کوئی قانونی وآئینی معاملہ نہیں کہ عدلیہ اس کی تشریح کرے بلکہ فنی مسئلہ ہے، سیاسی پہلوبھی ہیں،پریس کانفرنس سے خطاب۔ فوٹو: فائل

عوامی نیشنل پارٹی نے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو تخت لاہور کا پیغام قراردیتے ہوئے واضح کیاکہ یہ منصوبہ ملک کے تین صوبوں کی جانب سے مسترد شدہ اور مدفون منصوبہ ہے اس لیے لاہور ہائیکورٹ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے بصورت دیگر اس منصوبہ کیخلاف تمام آئینی وقانونی طریقوں سے جدوجہد کرنے کے علاوہ سیاسی طور پر بھی اس کا راستہ روکا جائیگا۔

اے این پی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک نے پارٹی کے جنرل سیکریٹری ارباب محمد طاہر ،سینئر وزیر بشیر احمدبلور ، وزیراطلاعات میاں افتخار حسین،سید عاقل شاہ،سردار حسین بابک،ملک غلام مصطفی ،واجد علی خان اور دیگر کے ہمراہ جمعے کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اے این پی نے ہمیشہ عدلیہ کی آزادی کیلیے جدوجہد کی اور 12مئی کوکراچی میں سب سے زیادہ خون اے این پی ہی کے کارکنوں کا بہا تاہم لاہور ہائی کورٹ نے متنازعہ اور رسوائے زمانہ کالاباغ ڈیم کے حوالے سے کیس کی سماعت اور جو فیصلہ دیا ہے اس سے بے چینی پیدا ہوگئی ہے کیونکہ یہ کوئی قانونی وآئینی معاملہ نہیں کہ عدلیہ اس کی تشریح کرے بلکہ یہ فنی مسئلہ ہے اور اس کے سیاسی پہلو بھی ہیں۔

انھوں نے کہاکہ یہ پانی کی تقسیم کا منصوبہ ہے ، پنجاب دیگر صوبوں کے حصے کے پانی پر قابض ہونا چاہتا ہے اسی لیے دیگر تینوں صوبے اس کی مخالفت کررہے ہیں اسلیے ایسے فیصلوں اور کیسوں کی سماعت سے عدالتوں کو گریز کرنا چاہیے کیونکہ ان کی وجہ سے عدالتیں متنازعہ ہو جائیں گی، انھوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ تین صوبوں کو اپنے فیصلہ سے کیا پیغام دے رہا ہے،ایسے فیصلوں سے علاقائیت کو فروغ ملے گا کیونکہ یہ عدالتی فیصلہ نہیں تخت لاہور کا پیغام ہے۔انھوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم مردہ گھوڑا ہے جسے کب کا دفن کیاجاچکا ہے اور اس کے متبادل کے طور پر کٹ زارا ڈیم اور بھاشا ڈیم موجود ہیں جن سے ملک کی سو سالہ ضروریات پوری ہوسکتی ہیں جبکہ غیر جابندارانہ ماہرین نے بھی کالاباغ ڈیم کو مسترد کررکھا ہے ۔

انھوں نے کہاکہ2010 کے سیلاب کے وقت اگر کالاباغ ڈیم بنا ہوتا تو آج وادی پشاور نہ ہوتی اور اب اس ڈیم کے حوالے سے تذکرے سیلاب زدگان کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔انھوں نے کہاکہ یہ بے وقت کی راگنی ہے جس سے عدلیہ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچے گا اس لیے عدالتوں کو متنازعہ مسائل میں نہیں پڑنا چاہیے اس لیے ہمسایہ ملک دشمن منصوبہ کو روکنے کیلیے تمام راستے اپنائیں گے تاکہ اس پر سیاست نہ ہوسکے ۔انھوں نے کہاکہ بھاشا ڈیم ایک سنجیدہ منصوبہ ہے جس پر کام جلد ہونا چاہیے کیونکہ ایسا نہ ہونے سے منفی اثرات مرتب ہونگے۔

انھوں نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اگر اس طرح کے فیصلے دیگر ہائی کورٹس بھی دینا شروع کردیں تو اس سے ہائی کورٹس میں ٹھن جائیگی اسلیے وہ اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کریں ۔انھوں نے کہاکہ کالاباغ ڈیم کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے جس کی مخالفت میں ہر حد تک جانے کیلیے تیار ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ اس ڈیم کی مخالفت میں تمام پارٹیاں بشمول پیپلزپارٹی متفق ہیں اس لیے اب یہ باب بند ہوجانا چاہیے۔