علاقائی ملبوسات کی قوسِ قزح ہماری مشترک پہچان

لباس جہاں انسانی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے وہیں وہ تہذیب اورثقافت کا عکاس بھی ہوتا ہے۔


Qaiser Iftikhar November 04, 2012
ماڈل: فرزانہ ہادی، فوٹو: ایم افضل

لباس جہاں انسانی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے وہیں وہ تہذیب اورثقافت کا عکاس بھی ہوتا ہے۔

دنیا میں بسنے والے انسانوں کی شناخت جہاں ان کی زبان ، خدوخال، رنگ اورنسل سے ہوتی ہے وہیں وہ اپنے پہناوے سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔ پاکستان کا ہرصوبہ اپنی علیحدہ تہذیبی وراثت کا امین ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا، گلگت، بلتستان اور کشمیر کے رہنے والے اپنا الگ تہذیبی پس منظررکھتے ہیں، ان علاقوں میںبسنے والے افراد کی پہچان ان کی ماں بولی کے علاوہ ان کے ملبوسات ہیں جووہ زیب تن کرتے ہیں۔ یہ خوبصورت پہناوے وہ قوسِ قزح ہے جس سے پاکستان کی مشترک پہچان وجود میں آتی ہے۔

پاکستان کے علاقائی ملبوسات کی نمائش ٹیلی ویژن کی ہونہار اورباصلاحیت کمپیئرفرزانہ ہادی کر رہی ہیں۔ فرزانہ ہادی بیک وقت کمپیئر، رائٹر ، ٹرینراورلیکچرر ہیں اوران کی شخصیت کا ہر پہلو اپنے اندرایک انوکھی جاذبیت رکھتا ہے۔ انگریزی زبان میںان کی روانی اس زبان پران کی دسترس کا پتہ دیتی ہے، وہ کمپیئرنگ کے لئے مائیک کے سامنے ہوں تو شیریں آواز اوردھیمے لہجے میں ان کی بول چال ان کی قابلیت کا پتہ دیتی ہے۔ فرزانہ ہادی نے انگریزی لٹریچر میں ایم اے کیا اورپھر حصول تعلیم کیلئے وہ امریکا روانہ ہوگئیں۔فرزانہ ہادی کہتی ہیں ''زندگی کو محض گزار دینا کوئی کمال نہیں، مزا توتب ہے اگراسے دوسروں کیلئے وقف کردیا جائے۔ ''