میں وقاریونس کو تیزترین بالرسمجھتا ہوں

ویسٹ انڈین بالرآئن بشپ کی دلچسپ باتیں


January 23, 2016
ویسٹ انڈین بالرآئن بشپ کی دلچسپ باتیں ۔ فوٹو : فائل

لاہور: بلے بازوں پر اپنے دیو ہیکل قد کاٹھ اور تیز رفتار بالنگ سے دہشت بٹھا دینے والے گنے چنے بالروں میں آئن بشپ کا بھی شمار ہوتا ہے۔ بشپ کا تعلق ان ویسٹ انڈین بالروںکی آخری پیڑھی سے ہے جو گیند ہاتھ میں پکڑتے' تو بیٹسمین خوف سے لرزنے لگتے تھے۔ بدقسمتی سے آئن بشپ کمر کی تکلیف میں مبتلا رہا اور محض نو سال (1988ء تا 1997ء) عالمی کرکٹ کھیل سکا۔

پھر بھی شائقین کرکٹ اس کی تیز رفتار بالنگ کو نہیں بھولے ۔ یہ بشپ ہی ہے جس نے 1988ء میں ایک روزہ میچ کے دوران بھارتی کھلاڑی سری کانت کی کلائی توڑ دی تھی۔ بعدازاں برطانوی کھلاڑی رابن اسمتھ کا جبڑا توڑ ڈالا ۔ حال ہی میں آئن بشپ نے فاسٹ بالنگ کے مختلف شعبوں پر دلچسپ باتیں کیں' آپ بھی پڑھے۔

٭٭

''یہ امر خوش آئند ہے کہ اچھے فاسٹ بالر سامنے آ رہے ہیں ۔ میرے زمانے میں عمدہ فاسٹ بالر بہت کم تھے۔ سب سے نمایاں وقار یونس تھے۔ ایلن ڈونالڈکے علاوہ میرا شمار بھی فاسٹ بالروں میں ہوتا تھا۔ مگر اب مچل سٹارک، ٹرینٹ بولٹ' ڈیرل اسٹین ' مچل جانسن' بروڈ' مورکل وغیرہ کئی اچھے فاسٹ بالر نظر آتے ہیں۔

تیز رفتار بالنگ کا سامنا کرتے ہوئے جسمانی چوٹ لگنے کااندیشہ تو رہتا ہے ،یہ خوف کھیل کا حصہ ہے۔ میرے نزدیک اس خوف پر قابو پانا ہی بیٹسمین کی صلاحیتیوں کا امتحان ہے۔ مجھے یاد ہے' جب (1980ء تا 1996ء) ویسٹ انڈین بالر کالی آندھی کہلاتے تھے' تو ان کا سامنا کرتے ہوئے ہر بلے باز پر ڈر چھایا رہتا ۔ جواس ڈر سے نجات پالیتا ' ہم اسی کو عمدہ بیٹسمین مانتے۔

میرا خیال ہے' بائیں (لیفٹ) ہاتھ سے بالنگ کرانے والے فاسٹ بالر دوسروں سے فائدے میں رہتے ہیں۔ میرے دور میں وسیم اکرم تھا۔ وہ فاسٹ بالر نہیں تھا مگر اچھی خاصی تیز بالنگ کراتا۔ لیکن وسیم بالنگ کی خداد داد صلاحیتیں رکھتا تھا، اس لیے وہ دائیں ہاتھ سے بالنگ کراتا تب بھی کامیاب رہتا۔ حالیہ دور میں مچل بائیں ہاتھ والا بالر تھا۔ یہ اپنی رفتار(پیس) اور سوئنگ ' دونوں سے وکٹیں لیتا۔

میںسمجھتا ہوں ' ہرفاسٹ بالر چاہتا ہے کہ بلے بازوں پر اس کی دہشت بیٹھ جائے۔ لیکن کوئی بھی فاسٹ بالر بیٹسمین کا بازو یاسر نہیں توڑنا چاہتا۔ دلچسپ بات یہ کہ میں اس موضوع پر اپنے سینئرز اور ساتھیوں سے گفتگو کرتا تھا۔اینڈی رابرٹس میرے کوچ تھے۔ انہوںنے بتایا کہ بیٹسمین پر تمہارا خوف جم جائے' تو تمھیں وکٹ لینے میں آسانی رہے گی۔

تمام ویسٹ انڈین بالروں میں کولن کرافٹ سب سے زیادہ اس نظریے کے حامی تھے کہ فاسٹ بالر کو اپنی دہشت پھیلانے کی خاطر ہر ممکن اقدام کرنا چاہیے۔ کرافٹ تو بیٹسمین کی ہڈی پسلی ایک کرکے کہتے تھے' یہ میری غلطی تو نہیں۔ بہر حال ہماری اصل سعی یہی ہوتی تھی کہ وکٹیں حاصل کی جائیں' مگر ہم لوگوں کو زخمی نہیں کرنا چاہتے تھے۔

مجھے اپنے کرکٹ کیرئر کے دوران کئی فاسٹ بالروں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا۔ میں سمجھتا ہوںکہ ان میں سب سے زیادہ تیز پاکستانی بالر' وقار یونس تھے۔ اس کی خاص بات یہ تھی کہ وہ سٹمپس پربالنگ کراتا تھا' اس کی بہت کم بالیں شارٹ پچ ہوتیں۔ مگر وقار کی گیند ہوا میں ناقابل یقین حد تک تیز رفتار ہوتی... اور یہی ہم ویسٹ انڈین بالروں کے لیے انوکھی بات تھی۔ ہم تو شارٹ پچ گیند یں کرا کر اپنی تیزرفتاری دکھاتے تھے۔ایلن ڈونالڈ بھی اپنی نوجوانی میں متاثر کن فاسٹ بالر تھا۔ یہ دونوں وہ تیز ترین بالر ہیں جن سے میرا پالا پڑا۔ جب میں ریٹائر ہوا' تو شعیب اختر آ چکاتھا مگر تب وہ معیاری فاسٹ بالر نہیں تھا۔



آج کل یہ مظہر دیکھا جا رہا ہے کہ فاسٹ بالر زیادہ عرصہ اپنی رفتار برقرار نہیں رکھ پاتا۔ وجہ یہ کہ اب کرکٹ کی کئی اقسام آ چکیں ۔چناںچہ بالر اتنی زیادہ کرکٹ کھیلتا ہے کہ دوتین برس ہی میں اپنی قوت کھو بیٹھتا ہے۔

مجھے وسیم اکرم کی بات سے اتفاق ہے کہ کوچ کسی کو قدرتی طور پر فاسٹ بالنگ کرنا نہیں سکھا سکتا۔ تاہم ہر فاسٹ بالر مختلف ارتقائی مراحل سے ضرور گذرتا ہے ۔

مثال کے طور پر عمران خان کو لیجیے۔جب میںنے کرکٹ کھیلنا شروع کی' تو عمران اپنے دور عروج پر تھے۔ مگر میں نے ماضی کے میچوں کی ریکارڈنگ دیکھیں' تو ان میں وہ خام بالر نظر آئے۔ وہ ریکارڈنگز دیکھ کر ہی مجھے احساس ہواکہ عمران خان کی بالنگ کے تین بنیادی ایکشن ہیں... پہلا جو کیریئر کی ابتدا میں تھا' دوسرا جب وہ عمدہ ہو گیا اور تیسرا جب عمران اکنامکل بالر بن گئے۔ میرا خیال ہے' رچرڈ ہیڈلی بھی انہی تین ادوار سے گذرے ۔

غرض ہر فاسٹ بالر ارتقائی مراحل سے گزرتا ہے اور کوچنگ اس کی بالنگ وتکنیک کو سنوار دیتی ہے۔ لیکن فاسٹ بالر کی پہلی اور آخری تمنا یہ ہونی چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تیز بالنگ کرائے۔ کوئی کوچ فاسٹ بالر کو تیز بالنگ کرانا نہیں سکھا سکتا' یہ سعی خود اسی کو کرنا پڑتی ہے۔ کوچنگ سے ایکشن اور تکنیک بہتر ہو جاتی ہے' مگر بنیادی اور قدرتی ٹیلنٹ رفتار ہے۔

اب کرکٹ کا کھیل بیٹسمین کی سمت جھک گیا ہے۔ بالر اور بلے باز کے مابین توازن برقرار رکھنے کی خاطر ضروری ہے کہ پچیں جان دار بنائی جائیں۔ ان میں باؤنس ہو اور سیم (Seam)بھی۔ صرف اور صرف اچھی پچ ہی اب بیٹسمین اور بالر کے مابین توازن لا سکتی ہے ۔ آپ خود دیکھیے کہ جب بھی کسی پچ میں باؤنس اور سیم ہو' تو اسی پر دلچسپ اور کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ تب بلے بازوں کا پلّہ بھاری نہیں رہتا بلکہ وہ اپنی اوقات میں آ جاتے ہیں۔