بلوچستان اور کراچی ایک مشترکہ چیلنج

کراچی اور بلوچستان کی مخدوش صورتحال ملکی سلامتی کے لیے خطرناک...


Editorial July 19, 2012
کراچی اور بلوچستان کی مخدوش صورتحال ملکی سلامتی کے لیے خطرناک مضمرات لیے ہوئے ہے.فائل فوٹو

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات کی خرابی میں غیرملکی ہاتھ ملوث ہے، ناراض بلوچ نوجوان ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں نہ کھیلیں، حکومت سے مذاکرات کریں، مسئلہ حل کریں گے تاہم قومی پرچم کی توہین کرنے والوں سے بات نہیں کی جائے گی۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان کا اصل مسئلہ امن و امان ہے، اس سے فوری نہ نمٹا گیا تو دوسرے علاقوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بلوچستان کی صورت حال اتنی سادہ نہیں جتنی ہم سمجھتے ہیں تاہم غیرملکی میڈیا واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے بلوچستان کے حوالے سے حالات کی خرابی میں بیرونی ہاتھ اور غیرملکی امداد سے کام کرنے والے بعض گروپوں کی سرگرمی سمیت جن دیگر عوامل کا ذکر کیا ہے ان میں یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ بلوچستان کے مسئلہ سے نمٹا نہ گیا تو دیگر علاقے بھی متاثر ہوں گے۔

یہ بلاشبہ زمینی حقیقت ہے جس کا وزیر اعظم نے اظہار کیا تاہم وزیر اعظم کے علم میں یہ تلخ حقیقت بھی ہو گی کہ بلوچستان کے مسئلے کو سادہ سمجھنے والی اسٹیبلشمنٹ اور جمہوری حکومتوں نے سنجیدگی، اخلاص اور کشادہ نظری سے اسے حل کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی، چنانچہ آج بلوچستان کی صورتحال سے ''متاثرہ'' علاقوں میں کراچی پہلے نمبر پر ہے جسے اہل پاکستان نے منی پاکستان قرار دے کر اس شہر سے اپنی تاریخی، جذباتی اور روحانی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔

وہی کراچی اب قتل گاہ بن چکا ہے، منگل کو سہراب گوٹھ الآصف اسکوائر کے قریب مسلح ملزمان نے اقوام متحدہ کی پولیو مانیٹرنگ ٹیم کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں عالمی ادارہ صحت کا غیرملکی ڈاکٹر 30سالہ ڈیڈو پیٹ میں گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ جاری ہے، ملزمان نے فائرنگ کر کے سیاسی کارکنوں سمیت مزید10افراد کو ہلاک کر دیا۔

کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں اقوام متحدہ کی گاڑی پر حملے کی جنوبی و شمالی وزیرستان کی طرز پر کی جانے والی یہ پہلی کارروائی ہے جس کے بعد عالمی ادارہ صحت کی پولیو ٹیم اور دیگر رضاکاروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور گڈاپ کے علاقے یو سی 4 میں پولیو مہم مؤخر کر دی گئی۔ کراچی سمیت ملک بھر میں عالمی ادارہ صحت اور یونیسف کے ماہرین نے اس واقعے کے بعد رینجرز کی مزید نفری طلب کرنے کی درخواست کر دی ہے۔

ڈی ایس پی سہراب گوٹھ نے بتایا کہ پولیو مہم کے سلسلے میں یو این او کی ٹیم پولیس کو اطلاع دیے بغیر علاقے میں گئی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے سہراب گوٹھ الآصف اسکوائر، انڈس پلازہ، مچھر کالونی اور افغان بستی میں آپریشن کرتے ہوئے 10مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا جن کے قبضے سے اسلحہ بھی ملا ہے۔ کراچی میں یوں بھی اسلحہ اور بارود کا ڈھیر ہے، دوسری طرف اسٹیک ہولڈرز کی بیچارگی ناقابل فہم ہے۔

پھر بھی اس نازک گھڑی میں سارے ہم وطن اس بات پر متفق ہیں کہ کراچی اور بلوچستان کی مخدوش صورتحال ملکی سلامتی کے لیے خطرناک مضمرات لیے ہوئے ہے جس پر قوم کے منتخب نمائندوں کو بلاتاخیر ایک نتیجہ خیز حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔ وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے اور حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس تناظر میں وزیر اعظم کا انتباہ بلوچستان اور سندھ حکومت کے ارباب بست و کشاد کے لیے ایک ویک اپ کال ہے جب کہ واشگاف حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں اندوہناک شورش اور مزاحمتی سرگرمیوں سے صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے اور بلاجواز و دردناک ہلاکتوں کا تسلسل جاری ہے ۔

بلوچستان میں بات محض چند علاقوں میں گڑبڑ کی نہیں ہے، جنرل مشرف کو بھی یہی تزویراتی مغالطہ لے ڈوبا کہ مسئلہ بلوچستان کے تین سرداروں کی گڑبڑ کا ہے۔ معروضی حقائق کچھ اور ہیں۔ سردار اور نواب تو آج بھی حکومت کا حصہ ہیں اور راج سنگھاسن پر مگسی اور رئیسانی جلوہ افروز ہیں پھر بھی بلوچستان بدامنی کا شکار ہے جب کہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن میجر جنرل اشفاق احمد ندیم کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے کسی حصے میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا اور نہ ہی کوئی فوجی اپنی بیرک سے باہر ہے۔

انھوں نے کہا کہ فوج بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی حل چاہتی ہے اور صرف مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہی مسئلے کے حل کے لیے راہ ہموار کی جا سکتی ہے، یہ انداز نظر قابل غور ہے اور عسکری مائنڈسیٹ کی شکایت کرنے والوں کے لیے ایک نیا زاویہ استدلال مہیا کرتا ہے۔ سینئر بلوچ سیاست دان میر حاصل بزنجو کہتے ہیں کہ بلوچستان میں امن کا قیام اور مسئلہ کا مستقل جمہوری حل ڈھونڈنا حکمرانوں کی ترجیح میں شامل نہیں۔ مین اسٹریم میں شامل بلوچ سیاسی اکابرین بھی مسئلہ کا حل چاہتے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے نواب طلال بگٹی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام محب وطن اور امن پسند ہیں' پے در پے آمریتوں نے بلوچستان میں احساس محرومی کو جنم دیا' نواب اکبر بگٹی کا قتل پاکستان کی تاریخ کا ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ نواب اکبر بگٹی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔ معمر سیاسی رہنما سردار شیر باز مزاری کے مطابق بلوچستان کا معاملہ یقیناً بہت پیچیدہ بنتا جا رہا ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل موجود نہ ہو، مجھے یقین ہے کہ بلوچستان پاکستان کے ساتھ ہی رہے گا۔

یہ بات انھوں نے منگل کو اپنی رہائش گاہ پر مسلم لیگ ن کے وفد سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سردار شیر باز مزاری نے کہا کہ اس میں اس روز سے بہتری پیدا ہونا شروع ہو جائے گی جس روز سے ہمارے حکمران اس مسئلے کے حل میں سنجیدہ ہوں گے، ہم نے بلوچ نوجوانوں کو مار مار کر صورتحال کو اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ آج وہ ناراض نظر آرہے ہیں، ہم نے نواب اکبر بگٹی کو غدار کا لقب دیا۔ ایک بزرگ سیاست دان کی ان معروضات میں دل سوزی کی گہری جھلک ملتی ہے، مزید برآں ارباب اختیار کو بلوچستان اور کراچی کے حساس جغرافیائی محل وقوع اور سیاسی و تجارتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے داخلی صورتحال کو کنٹرول کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

عالمی میڈیا کی زبان کوئی نہیں روک سکتا، ہمیں پہلے اپنے گھر کی حالت بہتر بنانے کی فکر کرنی چاہیے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں شرانگیزی کی ہے کہ موجودہ صورتحال میں فوج اور اس کی انٹیلی جنس سروس نے اپنے آپ کو پیچھے رکھتے ہوئے سویلین حکمرانوں کو ملک میں بدنظمی کی اجازت دے رکھی ہے۔ انسداد دہشت گردی کے ایک امریکی ماہر جیسن ہیگ نے اپنے مقالہ ''بلوچستان میں شورش'' کے عنوان سے یہ منطق پیش کی ہے کہ بلوچستان کے عوام داخلی نوآبادیات کے سیاسی و معاشی جبر کا شکار ہیں، انھیں لسانی عدم مساوات، اقتدار میں عدم شراکت اور وسائل و خود مختاری سے محرومی کی اجتماعی شکایت ہے' ان سے وفاق نے کوئی وعدہ پورا نہیں کیا جس کے باعث وفاق اور بلوچستان میں بداعتمادی اور رنجش عروج پر ہے۔ چنانچہ ضرورت ارباب اختیار کے سخت ایکشن کی ہے۔

وزیر اعظم کی سوچ بھی واضح ہے کہ انھیں بلوچستان اور منی پاکستان کے مشترکہ چیلنج کا سامنا ہے جب کہ عوام بلوچستان کو شورش اور منی پاکستان کو گینگ وار، بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کا مقبوضہ علاقہ بنانے کی سازش کے خلاف نتیجہ خیز کریک ڈائون کرتے دیکھنے کے متمنی ہیں۔ موجودہ حکومت کے آخری دورانیے میں اگر بلوچستان اور کراچی کی مخدوش صورتحال کا کوئی جامع اور بہتر حل نکل آئے تو اس سے بڑی خوشخبری قوم کے لیے اور کیا ہو سکتی ہے۔