سیکیورٹی ناوک نے تیرے صید…

اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر ابے جو ہوتے ہیں وہ ’’لبے‘‘ ہوئے ہی لگتے ہیں اگرچہ اکثر ’’پتر‘‘ بھی ایسے لگتے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq February 04, 2016
[email protected]

شعر کچھ بھی ہو اس کا معیار کیسا کچھ ہو لیکن ہمارے ایک فیورٹ شاعر جو اردو اور پنجابی کو ملا جلا کر بلکہ رلا ملا کر شعر کہتے ہیں' ان کے اس شعر کا جواب نہیں ہے کہ

اس کا جو ابّا تھا
جانے اس نے کہاں سے ''لبّا'' تھا

اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر ابے جو ہوتے ہیں وہ ''لبے'' ہوئے ہی لگتے ہیں اگرچہ اکثر ''پتر'' بھی ایسے لگتے ہیں جیسے باپ نے کہیں سے ''لبے'' ہوں کیونکہ دونوں کے بارے میں مشکل سے یقین کرنا پڑتا ہے کہ دونوں کے درمیان کوئی تعلق بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ آج کل ایک بہت مشہور اور پھٹے پرانے لطیفے کو ایک اشتہار میں یہ رنگ دیا ہے کہ ایک خاتون کسی قطار میں کھڑی تساہل سے کام لے رہی ہے۔

پیچھے سے قطار میں کھڑا ہوا ایک شخص آواز دیتا ہے کہ میڈم ذرا جلدی کرو ... تو پہلو میں کھڑا ہوا ایک شخص کہتا ہے وہ میڈم نہیں بیٹا ہے میرا ... یہ ساری غلط فہمی اس میڈم نما مسٹر یا مسٹر نما میڈم کے لباس اور بالوں وغیرہ سے پیدا ہوئی تھی، آواز دینے والا اپنی غلطی مانے بغیر کہتا ہے یہ بیٹا ایسا ہوتا ہے کیسے باپ ہو تم ...سننے کو جواب ملتا ہے... شٹ اپ میں اس کا باپ نہیں ماں ہوں... اور آج کل تو ایسے ''لبے'' ہوئے والدین اور اولادوں کا کچھ زیادہ ہی فیشن چلا ہوا ہے، لیکن ہم جس ''لبے'' کی بات کر رہے ہیں وہ نہ بیٹا ہے نہ باپ، بلکہ ایک جملہ ایک فقرہ یا ایک اصطلاح ہے اور اس کا استعمال اتنا بے تحاشا ہو رہا ہے اتنا باموقع اوربے موقع ہو رہا ہے کہ اس شاعر کا یہ شعر خودبخود ورد زبان ہو جاتا ہے کہ

یہ تیرا جو ''ابا'' ہے
تو نے اسے کہاں سے ''لبا'' ہے

اور اس ''لبے'' ہوئے ابے کا نام ہے ''سیکیورٹی'' ... پورا نام تو اس کا ''ماں باپ'' نے ''سیکیورٹی پوائنٹ آف ویو'' کے نک نیم سے بلاتے ہیں مثلاً آج نل میں پانی نہیں آ رہا ہے تو جواب ملے گا سیکیورٹی بھئی سیکیورٹی، ٹماٹر مہنگے ہو گئے ... تو سیکیورٹی بھئی سیکیورٹی ... لوڈ شیڈنگ تو سراسر ایک بہت بڑی ڈریگن نما سیکیورٹی ہے۔

اس دن ایک عجیب سیکیورٹی ہو گئی ایک شخص نے قصائی سے شکایت کی کہ گوشت میں آج کل تم ہڈیاں ہی ہڈیاں دینے لگے ہو تو قصائی نے چھرا ہاتھ میں لے کر ایک ''ہڈی'' پر رکھتے ہوئے کہا ... سیکیورٹی بھئی سیکیورٹی... ہم بھی وہاں موجود تھے ہم بھی یہ سب سنا کیے تو نہ ہنس سکے نہ چپ رہ سکے بلکہ اس اجمال کی تفصیل چاہی کہ آخر سیکیورٹی کا ہڈیوں اور یا ہڈیوں کا سیکیورٹی سے کیا تعلق ہے؟ اور اگر ہے تو پھر گوشت سے ان دونوں کا کیا سمبندھ ہے تو قصائی بولا ...ہے اور بہت گہرا تعلق ہے دیکھو نا پنجاب سے بھینسوں کو بس میں ڈال دیا جاتا ہے اب اگر ٹرک سیدھا چلے تو چند گھنٹوں کی بات ہے لیکن اگر راستے میں قدم قدم پر سیکیورٹی سے ملاقات ہوتی رہتی ہے تو گھنٹے دنوں میں بدل جاتے ہیں۔

بے چارا بھوکا پیاسا جانور نہ کوئی توشہ نہ زاد راہ ... حتیٰ کہ پانی تک کی قلت ہو جاتی ہے تو اپنے گوشت اور چربی پر گزارہ کرتا ہے، ہر ایک مقام پر دو چار کلو گوشت ''لوز'' کرتا ہے تیرا پتہ نہ پائیں تو لاچار کیا کریں، یہی وہ مقام تھا جب ہم پر شہزادہ سدھارتھ کی طرح نروان کا نزول ہو گیا اور ہم گوتم بدھ بن کر سوچنے لگے کہ لوگ مٹاپا دور کرنے کے لیے خوامخواہ اتنا زر کثیر صرف کرتے ہیں ان کو اگر سیکیورٹیوں سے گزارا جائے تو ہینگ پھٹکڑی بغیر ہی منزل پا لیں

اس گزر گاہ سے پہنچیں تو سہی منزل تک
جو بھی گزرے گی گزار دیں گے گزرنے والے

ہمارے یہاں پشاور میں تو یہ سیکیورٹی طریقہ علاج اتنا تیر بہدف ثابت ہوا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے سرکاری اداروں نے اپنا سارا کام چھوڑ کر اسی کام کا بیڑا اٹھا لیا ہو کہ اور کچھ ہو نہ ہو کم از کم سیکیورٹی کی پیداوار میں کوئی کمی نہ ہو، چنانچہ جہاں دیکھیے سیکیورٹی کے کھیت لہلہاتے نظر آتے ہیں، چاند گھٹتا ہو گھٹے اپنی حفاظت نہ ہو کم، چشم گل چشم عرف قہر خداوندی سابقہ ڈینگی بخار کو تو آپ جانتے ہیں ایک نمبر کا بدزبان، کج بیان اور بدگمان شخص ہے کوئی اچھی بات تو اس کے ذہن میں آتی ہی نہیں، زبان بھی خدا نے وہ دے رکھی ہے جو دو شاخہ نہ ہونے پر بھی سانپ کی زبان سے کم نہیں ہے۔

اس کے بارے میں علامہ بریانی عرف برڈ فلو کا کہنا ہے کہ اس کی زبان بظاہر تو دوشاخہ نہیں ہے لیکن باتیں اس سے شاخ دار ہی نکلتی ہیں، چنانچہ اس دن سیکیورٹی کے موضوع پر زہر افشانی کرتے ہوئے بولا ... کہ اب تک سرکاری محکموں دفتروں اور اہل کاروں کو ''کام نہ کرنے'' کے لیے سرکاری طور پر بہت سارے بہانے بلکہ بہانوں کے پیکیج دیے جا چکے ہیں کیوں کہ سرکاری محکموں اور اداروں اور اہل کاروں کا واحد کام ہی کام نہ کرنا ہوتا ہے۔

یوں کہیے کہ یہی ان کی منزل و مقصود اور ڈیوٹی ہوتی ہے کہ کوئی کام نہ ہونے پائے اس کے لیے بڑے بڑے ماہرین نے بہت بڑے بڑے پلان بنائے اور لاگو کیے ہیں لیکن کوئی مثبت نتائج نہیں نکلے تھے ان سب کچھ کے باوجود بھی کچھ محکمے دفاتر اور اہلکار، کام کرتے ہوئے دیکھے بلکہ ''پکڑے'' جاتے ہیں اور یہ بہت ہی خطرناک رجحان ہے یہ لوگ اگر اسی طرح کام کرنے لگیں تو چند روز یا مہینوں یا برسوں میں سارے ''کام'' ختم ہو جائیں گے اس کے بعد آخر یہ لوگ کیا کریں گے؟ وزیر کیا کریں گے، منتخب نمایندے کیا کریں گے؟ جمہوریت کیا کرے گی

کس کے گھر جائے گا ''سیلاب بلا' میرے بعد

جب کہ بزرگوں نے کہا ہے کہ بیکار مباش کچھ کیا کر ۔۔۔ اپنا نہیں تو دوسروں کے پاجامے ادھیڑ کر سیا کر، سیدھی سی بات ہے اتنی سیدھی کہ جلیبی بھی رشک کرے، کہ کام کر کر کے اگر ایک دن کام ختم کر کے بیکار ہی ہونا ہے تو ابھی سے کام نہ کر کے ہی کیوں نہ بیکار ہوا جائے، اور اس عظیم مقصد یعنی ''کام نہ کرنے'' کے کام کو حکومت کے محکموں اور اداروں نے کام سمجھ کر طرح طرح کے تجربے کیے، آخر کار بے چاری نرگس کے رونے سے چمن میں یہ سنجے دت پیدا ہوا جسے ''سیکیورٹی'' کہتے ہیں اور جس کا پورا نام سیکیورٹی پوائنٹ آف ویو ... اور لقب سیکیورٹی پریز ہے۔

اب کسی کو کسی بھی کام کے لیے بہانہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے بس سیکیورٹی کا نام لے لیجیے اور ہر قسم کا بیڑا اپرم پار کیجیے، کہیں پر کچھ بھی کرنا یا نہ کرنا ہو سیکیورٹی کے نام لے دیجیے اگر کسی تقریب میں وزیر مہمان خصوصی دو گھنٹے دیر سے پہنچے تب بھی سیکیورٹی... اور اگر ایک گھٹہ پہلے آیئے تب بھی سیکیورٹی پوائنٹ آف ویو ... اور تو اور کہ مساجد تک میں سیکیورٹی پوائنٹ آف ویو ہی لاگو ... راستے سڑکیں خاص الخاص عمارات و مقامات تو چھوڑیئے بازار میں آلو بیچنے والا ریڑھی بان بھی اگر غلط مقام پر کھڑا ہے تو سمجھ لیجیے کہ سیکیورٹی پوائنٹ آف ویو سے کھڑا ہے دکاندار تو ڈبل ٹربل قیمت ضرور ہی وصول کریں گے کہ سیکیورٹی پوائنٹ آف ویو سے لوگ بازار میں کم آ رہے ہیں تمام سڑکیں یا تو ون وے ہو گئی ہیں اور یا ''نو وے'' کا درجہ پا کر دیواروں سے مزین ہو گئی ہیں کیونکہ سیکیورٹی کے پوائنٹ آف ویو سے کوئی بھی نہیں بچا ہے

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں