پی آئی اے کی سعودی عرب سے پروازیں 50کروڑ ریال آمدنی
18ہزار سے زائد حجاج کرام کو وطن واپس پہنچایا جا چکا، طیاروں کی کمی کا سامنا ہے
پی آئی اے کے سعودی عرب میں کنٹری منیجر شہباز احمد نے کہا کہ قومی ایئر لائن کو سعودی عرب کی پروازوں سے سالانہ 50کروڑ سعودی ریال کا ریونیو حاصل ہو رہا ہے جو کہ پی آئی اے کی مجموعی آمدنی کا 25فیصد ہے۔
اہداف کی تکمیل میں محدود وسائل رکاوٹ ہیں، سعودی عرب سے پی آئی اے کی ہفتہ وار 35پروازیں چلائی جا رہی ہیں، یہاں پی آئی اے کا مارکیٹ شیئر تقریباً 46فیصد ہے ۔ وہ اتوار کو پی آئی اے جدہ آفس میں میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے، اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل حج ابو احمد عاکف، قونصل جنرل جدہ سالک خان اور پی آئی اے کے دیگر حکام بھی موجود تھے۔ کنٹری منیجر نے کہا کہ پی آئی اے سعودی عرب آپریشن میں مزید وسعت دینے کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ یہاں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو پاکستان کے ساتھ اپنی قومی ایئر لائن سے بھی خاص انس ہے اور وہ ہر ممکن طور پر پی آئی اے کے ذریعہ سفر کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اس وقت پی آئی اے کو طیاروں کی کمی کا سامنا ہے۔
جس کے سبب سعودی عرب کے لئے پروازوں کی تعداد میں فوری اضافہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پشاور سے ہفتہ وار ایک پرواز بڑھا کر 2 کرنے کی منصوبہ بندی کر چکے ہیں اور اسی طرح ملتان سے جدہ سمیت سعودی عرب کے دیگر شہروں کے لئے پروازوں کی پلاننگ کی جا رہی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ سعودی عرب میں رجسٹرڈ سیلز ایجنٹس پہلے ہی ختم کئے جا چکے ہیں اور عالمی مارکیٹ کی طرز کو اپناتے ہوئے ایاٹا سرٹیفائیڈ ٹریول ایجنٹس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ۔ شہباز احمد نے بتایا کہ 2011 ء میں پی آئی اے کو سعودی عرب آپریشن سے 50کروڑ ریال کا ریونیو حاصل ہواجس میں حج و عمرہ آپریشن سے حاصل ہونے والی آمدنی شامل نہیں ہے۔
جبکہ رواں سال کا ریونیو ہدف 52کروڑ سعودی ریال ہے جس میں سے 31 کروڑ ریال ریونیو تاحال وصول کیا جا سکا ہے۔حج آپریشن کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 3نومبر 2012 ء کی رات 12بجے تک 18ہزار 596پاکستانی حجاج کرام کو وطن واپس پہنچایا جا چکا ہے جن میں 14ہزار 637حجاج خصوصی حج پروازوں کے ذریعے اور 3ہزار 959حجاج شیڈول پروازوں کے ذریعے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حج پروازوں کی باقاعدگی کسی حد تک معمول پر آگئی ہے۔