سل پہ لالی پورے

ہمارا موجودہ سسٹم دیو مالائی سسٹم سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے اپنے اپنے محکمے ہوتے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq February 10, 2016
[email protected]

ویسے تو یہ ایک گانا ہے جو انگریزی دور میں جب بجلی بھی نہیں تھی اور گرامو فون ریکارڈنگ کمپنیاں بیٹریوں کے ذریعے ریکارڈنگ کرتی تھیں یہ ریکارڈنگ کالے رنگ کے ایک ریکارڈ میں ثبت کی جاتی اور ریکارڈ گرامو فون کو ہاتھ سے چلا کر بجائے جاتے، خانزادہ نامی گلوکار کی آواز میں یہ گانا اتنا پاپولر ہو گیا تھا کہ باقاعدہ ایک ضرب المثل بن گیا، گانے کے بول تھے

سل پہ لالی پورے دا یوہ پردبنگڑو

رنگ د خزو ورک شہ بیخ او باسی دسڑو

اس میں ایک عورت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ویسے بھی میرے محبوب پر سو روپے ادھار کے چڑھے ہوئے ہیں تو اوپر سے یہ میری چوڑیوں کا ایک روپیہ اور سہی ۔۔۔ دوسرے مصرعے میں شاعر نے اپنی طرف سے اس پر یہ تبصرہ کیا ہوا ہے کہ خدا ان عورتوں بچائے کہ بے چارے مردوں کو تباہ کر دیتی ہیں، ہمیں عورتوں اور مردوں میں سے کسی کی بھی طرفداری کرنا مقصود نہیں کہ کس نے کس کا بیڑا غرق کیا ہے یا کر رہے ہیں ہم تو سخن فہم ہیں بلکہ اگر کہا جائے کہ آئی ایم ایف فہم ہیں تو بات اور بھی نک سک سے درست ہو جائے گی کیونکہ سنا ہے کہ ''لالی'' پر پہلے ہی سے قرضے کا اتنا بوجھ تھا کہ تین نسلیں اپنے سب کچھ کے ساتھ گروی رکھی جا چکی ہیں جب کہ چوڑیوں والی سرکار نے 4700 ارب روپے کی چوڑیاں بھی خرید لی۔

مرے پر سو درے کے مصداق اس سے ''لالی'' کو فرق بھی کیا پڑے گا پانی جب سر سے اونچا ہو جائے تو کیا ایک نیزہ اور کیا سوا نیزہ، تین کے ساتھ اگر تین نسلیں اور بھی گروی رکھی جائیں تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑے گا، قرضوں کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ جو اتفاق سے ہم خود ہیں کہ قرضہ تب تک قرضہ رہتا ہے اور قرض خور کے لیے قرضہ ہوتا ہے جب تک وہ ڈرتا ہے کہ کہیں کسی کو پتہ نہ چلے کہیں قرض خواہ لوگوں کے سامنے تقاضا کر کے رسوا نہ کر دے، کہیں عزت نہ چلی جائے لیکن قرض خور ان حدود سے نکل جاتا ہے، چار دانگ عالم میں رسوائی پر بھی نہ شرمائے، تو بھلا اس سے کون قرضہ وصول کر سکتا ہے یعنی کیسا قرضہ؟ کس کا قرضہ؟ کس پر قرضہ؟

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا

ایک بہت ہی گولڈ میڈلسٹ بے شرم سے ہم نے ایک مرتبہ پوچھا کہ تمہیں اپنی حرکتوں پر شرم بھی نہیں آتی، بولا آتی ہے کیوں نہیں آتی شرم تو بڑی بے شرم چیز ہے لیکن میں ذرا بھی لفٹ نہیں دیتا اس لیے اپنا بے شرم سا منہ لے کر رہ جاتی ہے

رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی میں ہم

بارے طبعیتوں کے تو چالاک ہو گئے

یہ ''رسوائے دہر'' بے شرم اتنے چالاک ہو گئے ہیں کہ بے چارے عوام ان کے ہاتھوں ''گل بدین' ہو کر بھی ابھی تک یہ امید باندھے ہوئے ہیں کہ کرسیوں کے ''نیم'' پر چڑھے ہوئے یہ کریلے ایک دن ''کیلے'' بن جائیں گے حالانکہ ستر سالوں سے مسلسل دیکھتے آ رہے ہیں کہ کریلے ہمیشہ کریلے ہی رہتے ہیں چاہے آپ اس کی آب یاری شہد سے ہی کیوں نہ کریں بلکہ اس موقعے پر کریلوں سے بھی زیادہ ایک اور کڑوی چیز پر خیال چلا جاتا ہے اسے عام طور پر ''چونگاں'' کہا جاتا ہے۔

ان چونگاں اور کریلے کی نہ صرف ''کڑواہٹ'' مشہور ہے بلکہ ان دونوں کی ایک غیر مشہور صفت بھی ہے کریلے کے بارے میں تو سب کو معلوم ہے کہ یہ ہمیشہ کسی کے سہارے کا محتاج ہوتا ہے چاہے وہ نیم کا درخت ہو یا سیب کا لیکن چونگاں کی محتاجی اس سے بھی زیادہ ہے یہ اپنی جڑوں کے بل پر زمین سے نمکیات اخذ نہیں کر سکتا اسی لیے دوسرے جنگلی درختوں کی جڑوں ہی میں اگتا ہے پھلتا پھولتا ہے اور زندہ رہ پاتا ہے۔

نمکیات وہ حاصل کر لیتے ہیں اور یہ آئی ایم ایف کی طرف ان کی جڑوں کو چاٹتا چوستا رہتا ہے، آئی ایم ایف؟ زبان پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا ۔۔۔۔ ویسے تو اس کا نام نامی اور اسم گرامی سب کو معلوم ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ ہے لیکن پڑوسی ملک میں اسے لکشمی دیوی کہا جاتا ہے جو وشنو بھگوان کی خاتون اول ہے، وشنو بھگوان چونکہ پالن ہار ہے دنیا کو پالنے والا، نشوونما دینے والا، حفاظت کرنے والا اس لیے اس نے دولت تقسیم کرنے کا ڈیپارٹمنٹ لکشمی کو دے رکھا ہے۔

دیکھا جائے تو ہمارا موجودہ سسٹم دیو مالائی سسٹم سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے اپنے اپنے محکمے ہوتے ہیں اور ان کے ''وزیر'' ہوتے ہیں یہ تو زبانوں کا فرق ہے کہ کوئی اسے دیوتا کہتا ہے یا مزار شریف ورنہ لچھن سارے وزیروں ہی کے ہوتے ہیں چنانچہ لکشمی بائی نے بھی آگے اپنا ایک ''چمچہ'' رکھا ہوا ہے جسے ''کوبیر'' کہتے ہیں جو ایک طرح سے اس کا اکاؤنٹ ہے لکشمی آرڈر کرتی ہے اور کوبیر خزانے سے مال ایشو کرتا ہے گویا ۔۔۔ امریکا کو ہم بڑے آرام سے اور بلا کسی خوف تردید وشنو بھگوان کہہ سکتے ہیں ۔۔۔ لکشمی آئی ایم ایف ہوئی اور کوبیر کو ورلڈ بینک کہیے۔

باقی رہا آگے کا معاملہ تو وہ بھی سیم ٹو سیم ہے طرح طرح کے پادری پجاری اور پروہت اس تقسیم پر لگے ہوئے ہیں اور تقسیم کا سب سے مستحسن طریقہ یہ مانا جاتا ہے کہ اپنے آپ سے شروع کی جائے اور پھر آگے۔ پہلے پہنچیے پھر پہلے پایئے کے اصول پر چلاتے جایئے، اس سارے ''وشے'' میں دولت کا بھی ذکر ہے تقسیم کرنے والوں کا بھی ذکر ہے دینے دلانے پانے اور اڑانے والوں کا ذکر بھی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر یہ ذکر بالکل بھی نہیں ہے کہ

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں

ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے؟

جس خزانے پر کوبیر بیٹھا بانٹ رہا ہے وہ خزانہ کہاں سے بھرتا ہے کہاں سے آتا ہے اور کس کا ہے۔ چلیے لکشمی کا سمجھ لیجیے تو لکشمی کہاں سے لاتی ہے اس کے باپ کے ٹکسال لگے ہوئے ہیں، دادا جی نے بھرے بینک چھوڑ رکھے ہیں، پردادا نے زمینیں جاگیریں یا کارخانے چھوڑے ہیں جو وہ یوں لٹاتی پھرتی ہے مان لیتے ہیں کہ اسے وشنو بھگوان دیتا ہے لیکن وشنو بھگوان کہاں سے لاتا ہے وہ بھی کچھ نہیں کرتا دن رات سانپوں کے تحت پر بیٹھا مسکراتا رہتا ہے، یہی اصل معمہ ہے کہ دولت کو ہم جاتی ہوئی تو دیکھتے ہیں لیکن آتی ہوئی کبھی نہیں دیکھ پائے کہ یہ کمائی کس کی ہے۔

پسینہ کس کا ہے اور خون کس کا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ دنیا میں کوئی کسی کو کچھ مفت نہیں دیتا، دیوتا بھی بدلے میں پوجا مانگتے ہیں تو یہ سارا اللے تللے جو جناب وشنو، محترمہ لکشمی اور مسٹر کوبیر کرتے رہتے ہیں، یہ کمائی کس کی ہے؟ حلوائی کی دکان بھی نظر آتی ہے حلوائی بھی بیٹھا ہوا ہے تھال بھی بھرے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن یہ مٹھائی بناتا کون ہے؟ اور اس کے لیے آپ کو دکان کے پیچھے ایک نہایت ہی میلے گندے بدبو دار اور غلیظ کمرے میں جانا پڑے گا جہاں دبلے پتلے میلے کیچلے بھوکے ننگے کچھ لوگ طرح طرح کے برتنوں میں طرح طرح کی چیزیں بنا رہے ہوتے ہیں اور بدلے میں اتنا پاتے ہیں کہ بھوکے ننگے بچوں کا پیٹ تک نہیں پلتا، کیونکہ مالکوں کا کہنا ہے کہ لالی پر تو ویسے سو روپے چڑھے ہوئے ہیں اوپر سے یہ ایک چوڑیوں کا بھی سہی۔