امریکا سے امداد لیتے رہے تو تعلقات میں احترام نہیں آئیگا ملیحہ لودھی

پاکستان کیلیے اوباما کچھ بہتر ہیں، رومنی جیتے تو ایران سے سخت رویہ اپنائیں گے، ڈاکٹر رفعت


Monitoring Desk November 06, 2012
ہمارے لیے دونوں امیدوار ہی مناسب نہیں، پاکستانی طلبا کی پروگرام لائیو ود طلعت میں گفتگو.فوٹو : فائل

SIALKOT: امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہاہے کہ جب تک ہم امریکا سے پیسے لیتے رہیں گے تب تک ان تعلقات میں عزت اور احترام نہیں ہوگا۔

صدارتی الیکشن کے بعد پاکستان کو موقع ملے گا کہ وہ امریکا کے ساتھ تعلقات کاازسرنو جائزہ لے۔ پروگرام لائیو ود طلعت میں اینکر پرسن طلعت حسین سے گفتگو میں انھوںنے کہا کہ پچھلے الیکشن کی نسبت اس مرتبہ پاکستان اور مسلم دنیا کی امریکی انتخابات میں دلچسپی نظر نہیں آئی کیونکہ اوباما نے مسلم دنیا سے تعلقات کی اچھی روایت نہیں ڈالی۔ صدر اوباما سے دنیا کافی حدتک مایوس نظر آتی ہے ۔ جب اوباما صدرمنتخب ہوئے تو کچھ نہیں جانتے تھے لیکن پول آف ایڈوائزرز نے انکو سب کو کچھ سکھا دیا، مٹ رومنی کی فتح سے بھی پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔امریکی عوام جنگ سے تنگ آچکے ہیں اور امریکا بھی افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے، پاکستان کو پالیسی مرتب کرنی چاہیے کہ افغانستان سے امریکی انخلا میں اپنا کردار ادا کرسکے۔

تجزیہ کار ڈاکٹر سید رفعت حسین نے کہاہے کہ امریکا میں بھی یہ احساس ہے کہ الیکشن میں عوامی دلچسپی نسبتاً کم ہے لیکن اس سے امریکی پالیسیوں پر واضح فرق نہیں پڑے گا۔ پاکستان کے حوالے سے اوباما قدرے بہتر ہیں کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ مٹ رومنی کی پالیسیاں بش سے زیادہ مختلف نہیں، رومنی کے صدر بننے کی صورت میں امریکا کی ایران کے بارے میں پالیسی سخت ہوجائیگی۔ الیکشن کے بعد افغانستان کے حالات میں تبدیلی آئے گی اور اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑے گا۔ امریکا کو خطے سے نکلنے کیلیے پاکستان کی ضرورت ہے اور پاکستان اپنے مفادات کو دیکھ کر امریکا سے اپنی بات منوائے۔ افغانستان سے انخلاکے وقت پاک فوج ہی پالیسی بنائے گی لیکن فوج کو چاہیے کہ سول حکومت کیساتھ ملکر کام کرے۔ امریکہ میں پاکستانی طالبعلم فرخ سلیم نے کہاکہ پاکستان کیلیے دونوں امیدوار ہی مناسب نہیں ہیں اور میں دونوں کو ہی ووٹ نہیں دے رہا، ایک اور طالبعلم ایاز نے کہاکہ انتخابی مہم کے دوان پاکستان کا ذکر منفی انداز میں ہی ہوا ہے تاہم میں مستقبل میں پرامید ہوں ۔