آئین کے تحت کوئی اور ادارہ نہیں پارلیمنٹ سپریم ہے کائرہ

چیف جسٹس، آرمی چیف کے بیانات ایک دوسرے کے خلاف نہیں، تمام اداروں کی طرف سے آئین کا احترام حوصلہ افزا ہے ،خطاب


APP November 07, 2012
میڈیا اپنی عدالتوں میں ملزم کو مجرم بنا تا ہے، صحافی توجہ دیں، میڈیا کی آزادی کو چھوئیںگے بھی نہیں، وفاقی وزیر اطلاعات۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات قمرزمان کائرہ نے پارلیمان کو سپریم ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کے مطابق کوئی اور ادارہ نہیں بلکہ پارلیمان ہی کسٹوڈین ہے۔

ملک میں انتخابات کا انعقاد نہیں رک سکتا، آزاد عدلیہ اور متحرک میڈیا کی موجودگی میں شفاف انتخابات وقت پر ہوںگے، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف کے بیانات ایک دوسرے کے خلاف نہیں، ان بیانات کے جوہرکو دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

وفاق المدارس کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علموں میںاسناد کی تقسیم کی تقریب سے خطاب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئیانھوںنے کہا کہ عدلیہ اور فوج دونوں ریاست کے اعضا ہیں، دونوں اپنی جگہ اہم ہیں اور دونوں کے سربراہان کے بیانات میں قومی سلامتی کے معاملے پرآئین کی پاسداری، اداروںکی مضبوطی اور مشاورت کی بات کی گئی ہے تو ہمیں اس میں موجود مثبت پیغام کو دیکھنا چاہیے۔ انھوں نے کہاکہ ہم کب سے کہہ رہے ہیں کہ میڈیا اپنی عدالتیں لگاتا ہے اور ملزم کو مجرم بنا کر پیش کر دیتا ہے، کسی بھی فرد کو قوم کے سامنے مجرم قرار دینے اور پورے ادارے کو مورد الزام ٹھہرا دینا آخرکہاں کا انصاف ہے؟

عدالتوں سے بری ہونے کے باوجود بھی میڈیا کی عدالتوں سے جو سزا کسی فرد کو سنا دی جاتی ہے اس کا ازالہ پھر کیونکر ممکن ہوسکتا ہے؟ اہل صحافت کو بھی اس اہم پہلو پر توجہ دینا ہو گی، ہم میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اور اسے چھوئیںگے بھی نہیں، نہ ہی کسی کوچھونے دیںگے لیکن خود میڈیا کو بھی اس پہلوکوملحوظ رکھنا ہو گا جس کی بنا پر کسی کی حق تلفی ہوتی ہو، انھوں نے کہا کہ اداروں کو بدنام کرنا درست نہیں، نہ ہی کسی فردکی خامی پر پورے ادارے کو مطعون کرنا چاہیے۔

اگر کسی فرد سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے تو اس پر پوری سیاست کو ہی بدنام کرنا قرین انصاف نہیں۔کائرہ نے کہا کہ آئین اور ادارے پارلیمان کی پیداوار ہیں، پارلیمان ہی آئین سازی کرتی اور اس میں ترمیم کی مجازہے، کوئی اور نہیںبلکہ پارلیمان ہی کسٹوڈین ہے۔ آئین میں تحریر ہے کہ حاکمیت اللہ تعالی کیلیے ہے اور زمین پر اس اختیار کو عوام کے منتخب نمائندوںکے ذریعے استعمال کیا جائے گا۔ عام انتخابات کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ قیاس آرائیاں پھیلانے والوں کا مسئلہ اور ہے، انتخابات نہیں رک سکتے۔ وہ اپنے وقت پر منعقد ہوںگے، آزادعدلیہ، فعال میڈیا اور متحرک سول سوسائٹی کی موجودگی میںدھاندلی کا سوال ہی پیدا نہیںہوتا۔

اپنی مدت کی تکمیل پر جمہوری انداز میں انتخابات کا انعقاد حکومت، تمام جماعتوں اور پارلیمان کا کریڈٹ ہے۔ آئی این پی کے مطابق برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کررہا ہے، اس گروپ کو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے بعد مزید اقدامات مسلط کر نے کی ضرورت نہیں ہے۔