مراکش مسجد میں مقابلۂ حسن کی نیم عریاں دوشیزاؤں کافوٹو سیشن

تصویرکی انٹرنیٹ پرتشہیر، وزارت مذہبی اموراور سٹی کونسل کا اجازت دینے سے اظہار لاتعلقی


INP November 08, 2012
وزیر مذہبی امور ذمے دار ہے، شیخ زمزمی، ذمے داروں کیخلاف کارروائی کی جائے،سنجیدہ حلقے. فوٹو فائل

مراکش کی سب سے بڑی مسجد میں بیلجیم مقابلہ حسن 2013 کے نیم عریاں شرکا نے فوٹو سیشن کرایا جسکے بعد ایک تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔

کاسا بلانکا کی مسجد میں کھینچی گئی یہ قابل اعتراض تصویر انٹرنیٹ کے ذریعے بڑے پیمانے پر پھیلائی جا رہی ہے۔ اس تصویر نے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے کہ مراکش کا کون سا ادارہ اس عریاں فوٹو شوٹ کی اجازت دینے کا ذمے دار ہے۔

مراکش میڈیا نے وزارت مذہبی امور کے ایک ذریعے کا بیان شائع کیا ہے جس میں دوٹوک موقف اختیارکیا گیا ہے کہ وزارت کا متنازعہ تصویر بنانے کی اجازت سے کوئی تعلق نہیں۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ مسجد انتظامیہ ہی مختلف امور کی اجازت دینے یا نہ دینے کی مجاز ہے۔کاسابلانکا کی سٹی کونسل نے بھی تصویر کے معاملے سے اپنی بریت کا اظہار کیا ہے۔ کونسل کے ایک رکن نے بتایا کہ ادارے نے یہ تصویر بنانے کی اجازت نہیں دی۔ حکومت مخالف سوشلسٹ یونین پارٹی کے ہم خیال ایک اخبار نے مسجد انتظامیہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ متنازع تصویر بنانے کی اجازت مراکش کے سنیما سینٹر نے دی۔

مراکش سنیما سینٹر نے بیلجیم کی فرانسیسی کیمونٹی کے ترجمان ریڈیو کو تصویر بنانے کی اجازت دی۔ شائع شدہ بیان میں مراکش کی معروف مذہبی شخصیت شیخ عبدالباری زمزمی نے وزیر مذہبی امور کو سارے معاملے کا ذمے دار قرار دیا ہے۔ سنجیدہ طبقوں نے مسجد میں نیم عریاں دوشیزاؤں کے فوٹو شوٹ کو ناقابل قبول واقعہ قرار دیتے ہوئے ذمے دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ بعض حلقے اس معاملے سے خود کو لاتعلق ظاہر کرتے ہوئے اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ مسجد اپنی روایتی مذہبی اہمیت کھو چکی ہے کیونکہ اسے عبادت گاہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک سیاحتی مقام کے طور پر بنایا گیا۔