محکمہ انہار کی پوزیشن نمبر ون

ہمیں کچھ ایسا لگتا ہے، حقیقت میں ایسا ہوا ہو یا نہ ہوا ہو یا ہو سکتا ہے کہ اس سے ذرا مختلف ہوا


Saad Ulllah Jaan Baraq March 02, 2016
[email protected]

KARACHI: ہمیں کچھ ایسا لگتا ہے، حقیقت میں ایسا ہوا ہو یا نہ ہوا ہو یا ہو سکتا ہے کہ اس سے ذرا مختلف ہوا ہو لیکن ہمیں ''لگ'' ایسا رہا ہے کہ ایسا ہی کچھ ضرور ہوا ہے کیونکہ سارے واقعات ، گواہوں کے بیانات اور نتائج اس پر گواہی دے رہے ہیں کہ کچھ تو ایسا ہوا ہے جس کی پردہ داری ہے، اس ''ہونے'' کی شکل و صورت کیسی بھی کیوں نہ رہی ہو لیکن جو قرارداد مقاصد ہے وہ صاف ظاہر ہے کہ کہیں پر سرکاری محکموں اور اداروں نے گٹھ جوڑ کر کے قرار دیا ہو کہ اس مملکت اللہ داد سے زراعت نامی نحوست کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سارے فساد کی جڑ ''کاشت کار اور کسان'' کو ملیا میٹ کیا جائے، جب بانس ہی نہیں رہے گا تو بانسری بنائے گا کون؟ بجائے گا کون؟

یعنی گرچہ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا، نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب۔ اس محکمے کا بڑا سا پاؤں چونکہ آکسیجن کے پائپ پر ہے، اس لیے کچھ اور بھی نہ کرے اور صرف اپنے پاؤں کو ذرا بھاری بھی کرے تو زمین اور کسانوں دونوں کی سانس گھٹ کر رہ جاتی ہے، جب اس ملک پر اس کم بخت انگریز کی حکومت تھی تو چونکہ اس نے غلام بنایا ہوا تھا، اس لیے سارے محکموں میں بھی ''غلامی'' کا دور دورہ ہوا کرتا تھا۔کوئی محکمہ مجال ہے جو قانون اور اصول کی غلامی سے بچا رہے۔ اس غلامی کی وجہ سے کم بختوں نے ہر محکمے کو اصولوں قوانین اور رولز ریگولیشنز کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھا ہوا تھا۔

اندازہ اس سے لگائیں کہ سردی کے موسم میں جب نہروں کی صفائی اور مرمت ہوتی تھی تو عین سردی کے موسم کے بیچوں بیچ 31 دسمبر کی رات کو نہروں میں پانی بند کر دیا جاتا تھا اور پھر ٹھیک 31 جنوری کی رات کو پانی چھوڑ دیا جاتا تھا نہ ایک گھنٹہ ادھر نہ ایک گھنٹہ ادھر، چاہے محکمہ کچھ بھی کرے نہروں میں کتنا ہی کام کیوں نہ ہو اس معمول میں سرمو فرق بھی ناممکن تھا، غلامان دور جو تھا، ان کم بختوں کو نہ تو محکمے کے افسران کا کچھ خیال تھا نہ ٹھیکیداروں کا کوئی پاس، لیکن خدا کے فضل سے آخر کار ہمیں آزادی کی نعمت مل گئی جو سب کی سب سرکاری محکموں میں تقسیم ہوئی بے چارے عوام بھی گئے تھے لیکن منیر نیازی کی طرح ''دیر'' کر کے پہنچے تھے ، اس لیے اپنا سا منہ لے کر لوٹ آئے، اس بے پناہ آزادی کی نعمت کا نتیجہ یہ ہوا کہ محکمے تو ایک طرف، ہر محکمے کا ہر چھوٹا بڑا اہل کار اس نعمت عظمیٰ پر ایسا پل پڑا کہ بقول حافظ

فغاں کیں لولیان سوخ و شیرین کار شر آشوب
چناں بردند صبر از دل کہ ترکاں خوان لیغما

یعنی فریاد ہے کہ شہر آشوب کے یہ حسینان ستمگر دل کا صبر یوں لوٹ لیتی ہیں جیسے ترک لوگ ''خوان لغیما'' کو لوٹتے ہیں، پرانے زمانے کے ایران میں ''خوان لغیما'' کا بڑا چلن تھا بڑے لوگ جب دعوت خور و نوش اڑا لیتے تھے تو اس زمانے میں بقایا کھانے کو دستر خوان سمیت اٹھا کر ایک طرف رکھ دیتے تھے اور غریب غربا اس پر ٹوٹ پڑتے تھے چونکہ ترک لوگ ایران میں ویسے ہی تھے جیسے آج کل پاکستان میں کسان لوگ ہوتے تھے اس لیے اس خوان لغیما کی تاک میں رہتے تھے۔

اگر ہر لحاظ سے دیکھیے تو اپنی مملکت خدا داد بھی ایک طرح سے ''خوان لغیما'' ہی ہے پہلے خاص الخاص ''اہل حکم'' شکم سیر ہو جاتے ہیں تب کہیں جا کر بے چارے ''ترکان بینوا'' کو کچھ ریزے نصیب ہو جاتے ہیں وہ بھی بے انتہاء سر پھٹوں چھینا جھپٹی اور دھینگا مشتی کے بعد، چنانچہ کاشت کار کو دھرتی ماں اور دھرتی ماں کو کاشت کار سے چھڑانے کی اس محکماتی دوڑ میں اول آنے کے لیے محکمہ زراعت اور محکمہ انہار کے نمبر برابر ہیں یا یوں کہیے کہ دونوں کے درمیان ٹائی ہو گئی ہے۔

اگر محکمہ زراعت کے پاس مال ہے تو محکمہ انہار کے پاس ''پانی'' ہے بلکہ اگر اس انڈین فلم کا مکالمہ دہرایا جائے جس میں ایک بھائی اپنی ثروت مندی بتا کر دوسرے سے کہتا ہے کہ تمہارے پاس کیا ہے تو دوسرا بھائی کہتا ہے کہ میرے پاس ماں ہے، یوں اگر محکمہ زراعت اپنا مال و متاع ظاہر کرنے کے لیے کہے کہ میرے پاس بجٹ ہے، ٹیکنیکل عملہ ہے، باہر ممالک کی سیرسپاٹے ہیں، مفت کی تنخواہیں ہیں، تیرے پاس کیا ہے؟ تو محکمہ انہار کہہ سکتا ہے کہ میرے پاس پانی ہے جو سب جانداروں کی جان ہے زندگی کی بنیاد ہے اور یہ بات محکمہ انہار صرف کہتا نہیں ہے بلکہ اسے ثابت بھی کر دیتا ہے کہ جب ضرورت نہیں ہوتی تو نہریں بہاتا رہتا ہے لیکن عین بوائی کا وقت آتا ہے تو نہریں سوکھی پڑی ہوتی ہیں کاشت کار بلکتے ہیں کہ یہ ہی وقت تو فضل بونے کا ہے لیکن محکمہ نہروں میں ''کام'' کرتا رہتا ہے اور جب یقین ہوتا ہے کہ بوائی کا وقت گزر گیا ہے تو پانی چھوڑ دیتا ہے اور یہ کام جو ہوتا ہے یہ صرف کام کا کام ہوتا ہے۔

ٹھیکیداروں، افسروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈروں کی ''سالانہ فصل'' کا کام، کیونکہ یہی تین مہینے ہی تو ہوتے ہیں جن میں سارے سال کی کسر نکالی جاتی ہے، نہروں پر کام ہو رہا ہے نہروں میں یہ ہو رہا ہے نہروں میں وہ ہو رہا ہے حالانکہ جو بھی ''کچھ کچھ'' ہوتا ہے وہ وہی کچھ ہوتا ہے جو یہ کچھ اور ان کچھ کے کچھ کے لیے ہوتا ہے کسان مرے تو مرے زمین اجڑے تو اجڑے فضل اڑے تو اڑے لیکن ''کچھ کچھ '' ہوتا رہے۔