خصوصی اقتصادی زون مقررہ مدت میں صنعتیں نہ لگانے پر ٹیکس چھوٹ میں 5 سال کمی

10سال انکم ٹیکس چھوٹ ومراعات کے لیے30 جون 2020 تک صنعتی یونٹس آپریشنل بنانا ہوں گے


Irshad Ansari March 03, 2016
ترمیم کے ذریعے خصوصی اکنامک زونز میں قائم ہونے والی نئی صنعتوں کے لیے کمرشل سرگرمیاں شروع کرنے سے متعلق بھی میعاد مقرر کی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

لاہور: وفاقی حکومت نے خصوصی اقتصادی زون میں نئی صنعتوں کے قیام کے لیے درآمدی پلانٹس، مشینری ودیگر آلات کو ایک مرتبہ کے لیے کسٹمز ڈیوٹی سمیت دیگر تمام ٹیکسوں سے مشروط چھوٹ دے دی تاہم مقررہ مدت میں کمرشل آپریشن شروع نہ کرنے والی نئی صنعتوں کے لیے ڈیوٹی و ٹیکس چھوٹ 10سال سے کم کرکے 5 سال کردی ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس 2015 کے نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس میں بتایا گیاکہ مذکورہ ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے اسپیشل اکنامک زونز ترمیمی آرڈیننس 2012 میں ترامیم کی گئی ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیا کہ ٹیکسوں و ڈیوٹیوں میں چھوٹ کی مراعات صرف ان نئی لگنے والی صنعتوں کو میسر ہوں گی جو خصوصی اکنامک زون میں لگائی جائیں گی، ان نئی صنعتوں کو تمام مراعات و فوائد کی فراہمی سرمایہ کاری بورڈ کی منظوری و تصدیق سے مشروط ہوگی، علاوہ ازیں ترمیم کے ذریعے خصوصی اکنامک زونز میں قائم ہونے والی نئی صنعتوں کے لیے کمرشل سرگرمیاں شروع کرنے سے متعلق بھی میعاد مقرر کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ آئندہ خصوصی اکنامک زونز میں قائم ہونے والی نئی صنعتوں کو ٹیکسوں سے 10 سال چھوٹ کے لیے 30 جون 2020 تک اپنے صنعتی یونٹس کو آپریشنل بنانا ہو گا، خصوصی اکنامک زونز میں قائم ہونے والے جو صنعتی یونٹس 30 جون 2020 تک کمرشل آپریشن شروع کردیں گے انہیں صنعتی یونٹس سے کمائی جانے والی آمدنی پر 10سال کے لیے انکم ٹیکس کی چھوٹ حاصل ہوگی اور جو صنعتی یونٹس 30 جون 2020 کے بعد کمرشل آپریشنز شروع کریں گے انہیں 5 سال کے لیے ٹیکس سے چھوٹ دی جائے گی جس کا اطلاق اس صنعتی یونٹ کے کمرشل آپریشنز شروع کیے جانے کی تاریخ سے ہوگا۔