سائنسدانوں نے زمین سے سب سےزیادہ دوری پرواقع کہکشاؤں کا پتا چلا لیا

جی این زیڈ 11 کے نام سے منظم اس کہکشاں کی روشنی ہم تک پہنچنے میں تقریباً ساڑھے 13 ارب سال کا عرصہ صرف ہوا، سائنسدان


ویب ڈیسک March 05, 2016
جی این زیڈ 11 کے نام سے منظم اس کہکشاں کی روشنی ہم تک پہنچنے میں تقریباً ساڑھے 13 ارب سال کا عرصہ صرف ہوا، سائنسدان، فوٹو؛ فائل

آسمان کی وسعتوں اور خلاؤں کی دوریوں کی دلکش اور حیران کن تصاویر بھیجنے والی ہبل نامی خلائی دوربین نے ایک بار پھر سائنس دانوں کو اس وقت حیران کردیا جب اس نے اب تک زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر موجود ایک کہکشاں کا مشاہدہ کیا اور اس کے بارے میں دلچسپ معلومات ارسال کی ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ کہکشاں اتنے فاصلے پر ہے کہ اس کی روشنی ستاروں کی مجموعی کی روشنی کو بھی انتہائی کم کردیتی ہے۔ جی این زیڈ 11 کے نام سے منظم اس کہکشاں کی روشنی ہم تک پہنچنے میں تقریباً ساڑھے 13 ارب سال کا عرصہ صرف ہوا ہے جب کہ ہبل نے اس کہکشاں کو بگ بینگ (ابتدائی ادوار سے متعلق کائنات کے لیے مروجہ کائناتی ماڈل) سے صرف 400 لاکھ سالوں بعد کی کہکشاں کے طور پر دیکھا ہے۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ وہ اس پیمائش کے متعلق پراعتماد ہیں کیوں کہ وہ اس قابل ہیں کہ اسے الگ الگ ناپا جا سکے اور اس شے کی روشنی کا تجزیہ کرسکیں۔

امریکی یونیورسٹی ییل کے ماہر فلکیات کے مطابق یہ واقعتاً کائناتی تاریخ میں کہکشاؤں کی تلاش میں ہبل نامی خلائی دوربین کی اونچائی کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے ہبل نے ایک بار پھر خود کو ثابت کردیا ہے کہ وہ اس دورج کی جدید ترین خلائی دوربین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دوربین کی ابتدا ہوئی تھی اس وقت ہم کائناتی تاریخ میں کہکشاؤں کے متعلق کوئی خاص تحقیق نہیں کر پا رہے تھے لیکن اب ہم اس سے 97 فی صد زیادہ آگے جارہے ہیں، یہ واقعتاً ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ وہ ان حدود تک پہنچ چکے ہیں جو تجربہ کار رسدگاہ تکنیکی طور پر حاصل کرسکتی ہےاور امکان ہے کہ یہ ہبل کے جانشین کو خلا میں مزید گہرائی تک جانے میں مدد دے گا۔ ہبل کی جانشین دوربین جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ ہے جو اس وقت تیار کی جارہی ہے اور 2018 میں اسے شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔